بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / نیا سیٹ اپ اور ترجیحات کا تعین

نیا سیٹ اپ اور ترجیحات کا تعین

وطن عزیز میں پانامہ لیکس کا اپریل 2016ء سے شروع ہونے والا بڑا ہنگامہ 28جولائی2017ء میں نوازشریف کی نااہلی پر پہنچا عدالت عظمیٰ نے نوازشریف‘حسن نواز‘حسین نواز اور مریم نواز کے خلاف قومی احتساب بیورو کو ریفرنس دائر کرنے کا بھی کہہ دیا ہے پانامہ کے اس ایک سال سے زائد کے ہنگامے میں سیاسی تناؤ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہی ریکارڈ ہوتا رہا دوسری جانب ملک کی معیشت پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے حکومت اقتصادی اعشاریوں میں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کی بڑی کامیابی قرار دیتی رہی ہے اس کے باوجود ایک کے اوپر دوسرا قرضہ اٹھائے جانے سے گریز نہیں کیا جارہا عام شہری کو بہتر ہوتے اقتصادی اعشاریئے صرف فائلوں میں ہی نظر آتے ہیں ۔

یہ شہری گرانی کے ہاتھوں انتہائی اذیت کا شکار ہے اس شہری کو بنیادی سہولیات تک نہیں مل رہیں بے روزگاری عام ہے توانائی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے امن وامان کی صورتحال اور وطن عزیز کو درپیش دیگر چیلنج اپنی جگہ ہیں اس سارے منظرنامے میں کاروبار حکومت سنبھالنے والوں کو سب سے پہلے ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا عوام کو ریلیف دینے کے لئے عملی اقدامات تجویز کرنا ہوں گے اسی طرح مرکز اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر حل طلب معاملات نمٹانا ضروری ہے پارلیمانی جمہوریت میں اختلافات کو سسٹم کا حسن کہا جاتا ہے اصولی اختلافات کے باوجود عوام کی فلاح وبہبود ایسا پوائنٹ ہے جس پر پوری سیاسی قیادت کو یکجا ہوکر کام کرنا ہوگا سیاسی عدم استحکام نے ایک طرف اکانومی اور دوسری جانب عوامی مسائل کے حل کے عمل کو متاثر کیا ہے جس کا ازالہ ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے45دن کا عبوری سیٹ اپ ہو یا مستقل‘ ترجیحات کا تعین اور ان کے مطابق کام ضروری ہے تاکہ سیاسی گرما گرمی اور تناؤ سے متاثر ہونے والے کاموں کو مکمل کیا جائے اور انتظامی امور احسن انداز میں نمٹائے جائیں۔

سیوریج سسٹم کلیئر کرنا ضروری ہے

ڈپٹی کمشنر پشاورثاقب رضا اسلم کی زیر صدارت اجلاس میں ڈینگی وائرس سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر غور ہوا ‘ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور متعدد افراد کے ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی بعد از خرابی بسیار سہی اس بات کی عکاس ہے کہ ایڈمنسٹریشن متحرک ہو رہی ہے ‘ انتظامیہ کے اقدامات صرف اس صورت ثمر آور قرار دیئے جا سکتے ہیں جب سیوریج سسٹم کلیئر ہو جس کیلئے ڈپٹی کمشنر ہدایت بھی دے رہے ہیں ‘ سیوریج سسٹم اسی صورت کلیئر ہو سکتا ہے جب اس میں سے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کو نکالا جائے سیوریج لائنوں کوآئندہ بلاک ہو کر دیگر مسائل کیساتھ ڈینگی جیسے وائرس اور دوسری بیماریوں کا ذریعہ بننے سے روکنا ناگزیر ہے یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب شاپنگ بیگز پر عملی طور پر پابندی عائد کی جائے سیوریج سسٹم کو صاف کرنا کسی ایک ادارے کیلئے ممکن نہیں اس مقصد کیلئے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے وسائل اور افرادی قوت کو یکجا کرنا ہوگا بصورت دیگر عارضی اقدامات سے مسئلے کا حل کسی طور پر ممکن نہیں انتظامیہ کو اس پر سوچنا ہو گا۔