بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / بڑھاپا اور پیش بندی

بڑھاپا اور پیش بندی

سلیم خان بڑے افسر ہیں ان کے دو تین بھائی بھی اچھی پوزیشن پر ہیں‘ پیسے کی کمی نہیں‘اس لئے جب انکے والدکو فالج کا حملہ ہوا تو تینوں ان کو مہنگے ہسپتال میں لے گئے۔ فالج لمبی بیماری ہے بعض لوگ پہلے چند دنوں ہی میں ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر کافی عرصے کیلئے صاحب فراش رہتے ہیں اس میں آدھا دھڑ بالکل بے حس اور بے حرکت ہوکے رہ جاتا ہے جسکی نگہداشت چوبیس گھنٹے کرنی پڑتی ہے انکو ہر گھنٹے کروٹ بدلوانی پڑتی ہے ورنہ ان کے کولہے ‘ایڑیوں یا جسم کے دوسرے حصوں پر زخم پڑجاتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ایک صحت مند انسان میں ایک ایسا سسٹم بنارکھا ہے کہ جب بھی دباؤ کی وجہ سے جسم کے کسی حصے میں خون کی روانی رک جاتی ہے تو دماغ میں گھنٹی بج جاتی ہے اور غیر شعوری طور پر انسان کروٹ بدل کر وہ دباؤ ختم کردیتا ہے یہ سسٹم ہماری نیند کے دوران بھی کام کرتا ہے اور آٹھ گھنٹے کی نیند میں ہم قریباً بیس مرتبہ کروٹ بدلتے ہیں اسی وجہ سے جب فالج سے جسم کا کوئی حصہ بے حس ہوجاتا ہے تو دماغ کا الارم بے کار ہوجاتا ہے۔ فالج زدہ کے علاوہ دوسرے ایسے مریض بھی جو طویل عرصے کیلئے بستر تک محدود ہوتے ہیں ان میں یہ زخم کافی گہرے بنتے ہیں اور اکثر وبیشتر یہی زخم ان کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

سلیم خان کے والد کو بدقسمتی سے کولہے کے پیچھے زخم پڑ گیا تھا ان کو پہلے تو میں نے بعض ٹیسٹوں کیلئے داخل کیا لیکن اگلے ہی دن انکے بیٹوں کی درخواست آئی کہ اگر باقی علاج گھر پر ہوسکتا ہے تو وہ ان کو گھر پر رکھنے میں زیادہ آسانی محسوس کرسکیں گے‘ میں نے ان کو جانے دیا لیکن ہدایات کی ایک لمبی فہرست تھمادی کہ ان چیزوں کا خیال رکھنے کے علاوہ خوراک میں احتیاط ہی ان کو فائدہ دے سکتی ہے۔ وہی پروٹین والا مسئلہ تھا جو کہ سلیم کے والد صاحب کے بدن میں کم تھے۔ وعدے کے مطابق سلیم خان انکے ٹیسٹ باقاعدگی سے کرتے رہے اور جب خون اور پروٹین کی کمی پوری ہوگئی تو ان کو داخلے کیلئے لے آئے۔ میں نے آپریشن کے دوران محسوس کیا کہ ان کا زخم ایک آپریشن میں کامیا ب نہیں ہوسکتا تو زخم کو صاف کرکے اس میں مخصوص پٹیاں بھر کر سی لیا۔ اگلے دن راؤنڈ میں پھر سلیم خان کا مطالبہ تھا کہ اگر اگلے دو تین دن میں آپریشن نہیں کرنا تو وہ گھر چلے جائیں گے اور پھر جب بھی مناسب ہوا دوبارہ داخلے کیلئے آجائیں گے‘ میں نے پوچھا کہ آخر ہسپتال میں رہنے سے کیوں گبھراتے ہیں ۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کیوں جلد گھر جانا چاہتے ہیں۔ سلیم خان کے والد اپنے وقت کے بڑے کامیاب بیورو کریٹ تھے۔ انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے بیٹے بھی افسر شاہی میں چلے گئے۔ ماشاء اللہ ان کی بیٹیاں بھی پڑھ لکھ کر کامیاب زندگی گزار رہی تھیں۔ یہ ساری اولادنہایت مصروف زندگی گزاررہی تھی اور وہ اپنے اوقات کار سے وقت نہیں نکال سکتے تھے کہ والد کے پاس ہسپتال میں رہیں۔ گھر پر نوکر چاکر اور دوسرے لوگ تھے جو کچھ نہ کچھ وقت نکال کر کم از کم وقت پر کھانا کھلا دیتے تھے۔

ہمارے اکثر ادیب اپنے مضامین میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ابھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح اولڈ ایج ہوم کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ مشترکہ خاندانی نظام بزرگوں کا احترام اور خیال رکھنے میں کامیاب ہے۔ تاہم یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ پچھلے زمانے میں عمریں زیادہ نہیں ہوا کرتی تھیں اور ساٹھ سال کی عمر سٹھیانے کی عمر کہلاتی تھی ۔ اب اوسط عمریں اس سے زیادہ ہوتی جارہی ہیں اسلئے زیادہ امکان ہے کہ بزرگ لمبی عمر بھی جئیں گے اور عمر کیساتھ چلنے والی بیماریوں کے شکار بھی ہوں گے۔ لمبی عمر اور بزرگوں کا سایہ دیر تک خوش قسمت لوگوں کو نصیب ہوتا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کواپنے بڑھاپے کیلئے جوانی سے تیاری کرنی چاہئے۔ یہ تیاری مال و دولت کے انبار لگانے میں نہیں بلکہ اپنی صحت کاخیال رکھنے کے بارے میں ہے۔بڑھاپے کے بہت سے عوارض ہماری لاپرواہی کا نتیجہ ہوتے ہیں‘ مثال کے طور پر موٹاپے اور ذیابیطس کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر جوانی میں موٹاپا آ جائے تو ادھیڑ عمر اور بزرگی میں یا ریٹائرمنٹ کے بعد اسکا کچھ نہیں کیا جا سکتا‘ بلڈ پریشر بھی وزن زیادہ ہونے کیساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ ورزش سے نہ صرف معمولی شوگر اور ذیابیطس پر کنٹرول پایا جاسکتا ہے بلکہ جوڑوں کے درد وں سے بھی نجات پائی جاسکتی ہے‘بڑھاپے میں خصوصاً وہ سرکاری ملازمین جو اپنی ملازمت میں بے حد مصروف رہتے ہیں جب یکایک خالی وقت کا سامنا کرتے ہیں تو ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں‘ سرکاری ملازمت میں ان سے ہر کسی کو واسطہ پڑتا ہے اور انکی عزت بھی کی جاتی ہے تاہم جونہی ریٹائرمنٹ کا تاج سر پر پہن لیتے ہیں تو عام لوگ سامنا کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کجا کہ اُٹھ کر سلام کریں۔اس صورتحال میں یہ لوگ جلد ہی جسمانی نہیں تو ذہنی پراگندگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس قسم کی تنہائی سے بچنے کیلئے اپنی صحت کا خیال رکھنے کے علاوہ کوئی مشغلہ بھی اختیار کرنا چاہئے۔ یہ شغل جسمانی ورزش جیسے لمبی چہل قدمی‘ ٹینس یا گالف بھی ہوسکتا ہے اور علمی مصروفیت جیسے پڑھنا لکھنا بھی ہوسکتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک اس سٹیج سے کئی دہائیاں قبل گزرچکے ہیں اس لئے وہ بزرگوں کو وہ ساری سہولتیں فراہم کرتے ہیں جنکی موجودگی میں وہ تنہا اور کسی کی محتاجی کے بغیر آزادانہ زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہاں بھی کوئی شخص خواہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہو، کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتا۔ اس کیلئے حکومت نے ان کو یا تو الگ سے رہائش دی ہوتی ہے اور یا اپنے ہی گھر میں ان کو روزمرہ زندگی کیلئے تمام سہولتیں فراہم کی ہوتی ہیں اگر ان کو کسی قسم کی بیماری ہو تو ان کے گلے میں ایک الیکٹرانک بٹن ڈال دیتے ہیں جسے یہ ایمرجنسی میں دبادیں تو ایمبولینس فوراً آجاتی ہے۔ وقفے وقفے سے سوشل ورکر آکر انکی رہائش اور اُٹھک بیٹھک کا جائزہ لیتی ہے۔ وہاں اولڈ ایج ہوم ہوتے ہیں لیکن ہر شخص کی انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ آزادانہ زندگی گزار ے اس آزادی کی زندگی کیلئے انہوں نے پوری جوانی میں کام کیا ہوتا ہے۔ منصوبہ بندی کی ہوتی ہے۔وہ نہ صرف اپنی تنخواہ سے حکومت کو پنشن کیلئے ادائیگی کرتے ہیں بلکہ پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کیساتھ بھی معاہدہ کرتے ہیں اس طرح سے ہرماہ اپنی کمائی خواہ کسی ذریعے سے ہو سے انشورنس کمپنی کو معاہدے کے مطابق ایک مقررہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔اس رقم سے وہ کمپنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور منافع سے ان کو ساٹھ پینسٹھ برس کی عمر میں باقاعدہ ماہوار الاؤنس ملتا ہے۔ اب یہاں نظام ایسا نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ جوانی ہی سے نہ صرف اپنی کمائی سے بچت کر کے بڑھاپے کیلئے کچھ پس انداز کیا جائے بلکہ صحت کابھی بڑھاپے کو مدّ نظر رکھتے ہوئے خیال رکھا جائے۔