بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان ریلوے کی تقریباً 42سو ایکڑ اراضی پر نجی و حکومتی اور عسکری اداروں کا قبضہ

پاکستان ریلوے کی تقریباً 42سو ایکڑ اراضی پر نجی و حکومتی اور عسکری اداروں کا قبضہ

اسلام آباد ۔ پاکستان ریلوے کی تقریباً 42سو ایکڑ اراضی پر نجی و حکومتی اور عسکری اداروں کے قبضے کا انکشاف ہوا ہے، پنجاب میں سب سے زیادہ 2145ایکڑ سے زائد، سندھ میں 1163ایکڑ، بلوچستان میں 619ایکڑ اور خیبرپختونخوا میں 251ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا گیا، نجی سیکٹر کی جانب سے کمرشل اراضی113ایکڑ، رہائشی اراضی1322 ایکڑ اور زرعی اراضی 1952 ایکڑ پر قبضہ کیا گیا ہے۔حکومتی اداروں کی جانب سے 540ایکڑ سے زائد جبکہ عسکری اداروں کی جانب سے بھی 251ایکڑ سے زائد اراضی پر قبضے کا انکشاف کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق سپریم کورٹ نے 2011میں قبضہ شدہ اراضی واگزار کرانے کا حکم پاکستان ریلوے کو دیا تھا، پاکستان ریلوے نے اینٹی انکروچمنٹ آپریشن شروع کیا اور ریلوے کی اراضی کا کمپیوٹرائزڈ نظام بنایا گیا، پہلے فیز میں 2013سے جون 2017کے آخر تک پاکستان ریلوے نے 2537ایکڑ اراضی واگزار کرائی، جس کی مالیت 7ارب سے زائد تھی، فیز 2میں 513ایکڑ اراضی جس کی مالیت ایک ارب 80کروڑ تھی واگزار کرائی۔

فیز 3میں 379ایکڑ اراضی اور فیز 4میں 110ایکڑ، فیز 5 میں 53ایکڑ اراضی واگزار کرائی۔ گزشتہ چار سالوں میں 35سو سے زائد ایکڑ اراضی واگزار کرانے سمیت ریگولرائزڈ بھی کر دیا گیا ہے، یہ تمام اراضی چاروں صوبوں بشمول حکومتی اور عسکری اداروں سے واگزار کرائی گئی۔ پاکستان ریلوے کی زمین واگزار کرانے کے دوران 3026 قبضہ کنندگان کو گرفتار بھی کیا گیا۔