بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست کی اصلیت

سیاست کی اصلیت

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیڑے ڈالنا کوئی دانشمندی کی با ت نہیں رنجیدہ فریق کو البتہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ سے اگر چاہے تو نظر ثانی کی درخواست ضرور کر سکتا ہے یہ روایت بھی اب ختم ہونی چاہئے کہ سیاسی پارٹی کے اندر یا ایوان اقتدار میں باپ کی جگہ بیٹا بیٹی یا بھائی مسند اقتدار پر فائز کیا جائے یہ تو پھر جمہوریت کے لبادے میں بادشاہت ہوئی ‘تب ہی تو شیخ سعدیؒ نے کہا ہے کہ اگر کوئی پری بھی کسی کے گلے کاہار بن جائے تو ہار پہننے والا ایک مرحلے پر اس سے تنگ آ جاتا ہے دلیپ کمار سے ایک مرتبہ ہم نے پوچھا کہ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’غالباً اس کی ایک بڑی وجہ بہت کم فلموں میں کم کرنا تھا ‘‘اس ملک کی سیاست کا بدقسمتی سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ اس میں جمہوریت کی جگہ موروثیت نے جڑ پکڑ لی ہے چونکہ ملک کی تقریباً تمام چیدہ چیدہ سیاسی جماعتوں کے خالق ان کے قائد ہی ہیں انہوں نے اس بات کا اہتمام کیا ہوا ہے کہ اگرکسی وجہ سے وہ سیاست کرنے کے قابل نہیں رہتے یا ان کو آسمان سے بلاوا آ جاتا ہے تو پارٹی کی کمان ان کے خاندان کے اندر ہی ان کی من پسند اولاد یا بہن بھائی کے پاس ہی رہے دیگر پارٹی رہنماؤں اور عام ورکرز کو وہ اس طرح ہانکتے رہتے ہیں کہ جس طرح کوئی گڈریا مال مویشیوں کو ہانکے‘ اٹھارویں ترمیم کے بعد تو ہر سیاسی پارٹی کا قائد اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر اپنی کسی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے کو ایسے پارٹی سے باہر نکال سکتا ہے جس طرح کہ کوئی مکھن سے بال نکالے‘ جس قسم کی صورتحال سے حکمران پارٹی دوچار ہے اگر اس قسم کے سیاسی گرداب یا بھنور میں ارباب اقتدار پھنس جائیں تو پھرانکے سیاسی حلیفوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں انکی پھرپانچویں انگلیاں گھی میں آ جاتی ہیں اور حکمرانوں کو پھر انکی سیاسی معاونت کے بدلے منہ مانگے دام دینے پڑتے ہیں۔

بھلے وہ مزید وزارتوں کی شکل میں دیئے جائیں یا کیش میں !سابق وزیراعظم کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے اب پنجاب اسلام آباد استعمال نہیں کرنا چاہئے وہ اپنا دفتر کسی ہوٹل میں بنا لیں یا کسی اور نجی جگہ منتقل ہو جائیں پنجاب ہاؤس سرکاری جگہ ہے اور اب وہ قانونی طور پر اس کے استعمال کے حق دار نہیں رہے ویسے اس بات کو بھی ابھی قانونی طور پر طے کرنا ضروری ہے کہ اگر کوئی سیاست دان صادق و امین نہیں رہتا نا اہل ہو جاتا ہے تو کیا وہ الیکشن رولز کے تحت کسی سیاسی پارٹی کی قیادت اپنے پاس رکھ سکتا ہے ؟ بہتر ہو گا کہ اس سوال کا جواب کسی رٹ پٹیشن کے ذریعے عدالت عظمیٰ سے حاصل کر لیا جائے کہ نواز شریف کی رخصتی سے ان کی اقتدار میں دوبارہ آمد کی راہ روشن ہو رہی ہے وہ اس انتظار میں ہیں کہ (ن) لیگ سے فصلی بٹیرے کب میاں صاحب کی منڈھیرسے اڑ کر ان کی منڈھیر پر آبیٹھیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انکو جو جیالے داغ مفارقت دیکر پی ٹی آئی کا رخ کر رہے ہیں اس روش کو وہ کیسے اور کس حد تک روک پائیں گے ؟اورپھر زرداری صاحب یا پی پی پی کے بعض نامی گرامی رہنماؤں کیخلاف اگر کوئی منچلا عدالتوں میں چلاگیا اور اس طرح انکی مبینہ کرپشن کی داستانوں کو اچھالا کہ جس طرح عمران خان نے پانامہ لیکس کا یکسوئی کے ساتھ پیچھا کیا تو اس کا کیا بنے گا ؟ہر حکمران نے قومی وسائل اور خزانے پر ڈاکہ ڈالا کسی نے کم تو کسی نے زیادہ‘ طریقہ واردات البتہ مختلف تھا جو پکڑا گیا وہ چور ثابت ہو گیا جو ابھی تک قانون کے شکنجے میں نہیں آیا وہ اپنے آپ کو پارسا بنا کر پیش کرتا ہے ویسے اصولی طور پر سب کا احتساب ضروری ہے او ر یہ احتساب الیکشنوں میں کبھی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں تو برادری‘ قومیت‘ لسانیت اور مسالک کی بنیادوں پر امیدواروں کو جانچا جاتا ہے احتساب صرف اور صرف عدالتیں کر سکتی ہیں ۔