بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / مجسٹریسی نظام کی ضرورت

مجسٹریسی نظام کی ضرورت

پشاور سمیت خیبر پختو ا کے تمام اضلاع میں اشیائے صرف کی مقررہ نرخوں پر فروخت یقینی بنانے اور انکے معیار کو حفظان صحت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے میں متعلقہ اداروں کی ناکامی ایک طرف عوام کیلئے مستقل درد سر بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف یہ صورتحال سرکاری و انتظامی مشینری کیلئے بھی بدنامی کما رہی ہے ۔مختلف اضلاع کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں متعلقہ اجناس کی نیلامی کا عمل ہو یا ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں میں ان اجناس کے مختلف نرخوں پر فروخت ہونے کا معاملہ ‘دودھ دہی اور گوشت وغیرہ جیسی اشیاء کے معیار کی گراوٹ سے متعلق شکایات ہوں یاان اشیاء کی من مانے ریٹس پر فروخت کی ‘مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی عدم دستیابی کی دُہائی ہویا دیگر اشیائے صرف کے مہنگے داموں بیچے جانے کی فریادیہ تمام معاملات ایک ایسے مستقل اور کل وقتی نظام کی تشکیل کا تقاضا کر رہے ہیں جسکے تحت مسائل کے پائیدار حل کی جانب بڑھا جا سکے ‘ایک ایسا نظام جس میں شہروں ‘قصبوں اور دیہاتوں میں اشیائے صرف کی خرید و فروخت اور انکے معیار سے متعلق تمام معاملات کوہمہ وقت نگرانی میں رکھا جا سکے اور ان معاملات کے ضمن میں عوامی شکایات کی فوری داد رسی ممکن ہو سکے ‘ماضی میں پاکستان بھر میں رائج مجسٹریسی سسٹم ایک ایسا نظام تھا جو بہت حد تک مذکورہ مسائل کے حوالے سے عوام کی تسلی و تشفی کا باعث بنتا رہاتاہم جہاں پرویز مشرف کی پالیسیوں نے پاکستانیوں کومتعدد دیگر قضیوں سے دو چار کیا وہیں انکے دور حکومت میں مجسٹریسی نظام کا خاتمہ بھی عوام کو مشکلات کے نہ ختم ہونیوالے سلسلے کا شکار بنا گیا۔مجسٹریسی نظام کا خاتمہ پرویز مشرف کے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف ہونے پر ہوا تھا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے متعارف کردہ مقامی حکومتوں کے نظام کی معیاد دسمبر 2009ء میں ختم ہو نے پر پارلیمنٹ نے اس نظام کی عمر میں توسیع نہیں کی بلکہ اٹھارویں ترمیم کی روشنی میں بلدیاتی اداروں کے حوالے سے نئی قانون سازی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو تفویض کر دی گئی۔ تب سے صوبائی حکومتوں کا موقف رہاہے کہ آئینی طور پر مجسٹریسی نظام کی بحالی کا فیصلہ وفاق اور چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ‘اس موضوع پر پی پی پی کے پچھلے دور حکومت میں بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین مذاکرات ہوتے رہے اور 24جنوری2011ء کو منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک میں مجسٹریسی نظام بحال کرنے کافیصلہ بھی کیاگیا لیکن یہ فیصلہ عمل درآمد کی راہ تکتا رہ گیا۔ موجودہ دور حکومت میں 18مارچ 2015ء کو(سابق) وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونیوالے مشترکہ مفادات کو نسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے مابین مجسٹریسی نظام کی بحا لی پر اتفاق رائے ہوا بعد ازاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئیں کہ وفاقی حکومت نے مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے ’’سی آر پی سی‘‘ قوانین میں ردو و بدل کی بنیاد پر نیا قانونی مسودہ تیار کیا ہے جس کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کیساتھ مشاورت کی جارہی ہے جبکہ یہ خبریں بھی ملیں کہ خیبر پختو نخوا حکومت بھی اپنے طور پر مجسٹریسی نظام بحال کرنے کیلئے تیاریاں کرر ہی ہے ۔

یوں توقع پیدا ہوئی کہ صوبے میں مجسٹریسی نظام بحال ہو جائیگا اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے ‘ مضر صحت اشیاء کی فروخت ‘ذخیرہ اندوزی اور ان سے جڑے دیگر مسائل کے حل میں مدد ملے گی ‘اس دوران صوبائی حکومت نے تجرباتی طور پرضلع سوات میں بعض انتظامی افسروں کو ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے اختیارات تفویض کئے تاکہ انکی کارکردگی کی بنیاد پر بتدریج مجسٹریسی نظام کی بحالی کی جانب بڑھا جا سکے لیکن پھر یہ سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔سوال یہ ہے کہ مجسٹریسی نظام کی بحالی کے معاملے پر بات اس قدرآگے بڑھنے کے باوجود منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچ رہی ؟۔ صوبے میں وقتاََ فوقتا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے کی جو صورتحال سامنے آ تی رہی ہے اس نے مجسٹریسی نظام کی بحالی اورموثر کردارکی حامل پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے قیام کی ضرورت کو باربار اجاگر کیا ہے ۔اس دوران منافع خور وں اورگراں فروشوں کی چیرہ دستیاں بھی بڑی شدت سے مجسٹریسی نظام کی کمی کا احساس دلاتی رہی ہیں۔اشیاء صرف کی قیمتوں اور معیارکو کنٹرول میں رکھنا‘بعض اشیاء خصوصاََ روٹی ‘ دودھ ‘ دہی وغیرہ کے مقررہ اوزان اور معیار پر نگاہ رکھنا ‘ یہ اور ان جیسے دیگر امور جس کل وقتی توجہ کے متقاضی ہیں اس کیلئے مجسٹریسی نظام کی اہمیت و افادیت بھی مسلمہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے خیبر پختونخوا کے متعلقہ ادارے صوبے میں مجسٹریسی نظام کی بحالی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کو اولیت دیں اور صوبائی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے مطابق مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے وفاق کی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے دباؤ ڈالے۔