بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پانہ مہ فیصلے کے بعد

پانہ مہ فیصلے کے بعد

سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کا فیصلہ آگیا ہے۔حکومت مخالف سیاسی قوتیں اس فیصلے کوتاریخ ساز قرار دیکراسکی تعریف کر رہی ہیں جو کہ نہ صرف فطری ہے بلکہ عین توقع کے مطابق بھی ہے ۔اس فیصلے کے حوالے سے اے این پی اور قومی وطن پارٹی کا موقف شروع سے محتاط اور متوازن رہا ہے جبکہ خود مسلم لیگ(ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے جس برد باری اور تحمل سے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے وہ بذات خود ایک مستحسن اقدام ہے اور اس کا کریڈٹ نواز شریف اور حکمران اتحاد کو نہ دینا ذیادتی ہوگی۔یہ بات درست ہے کہ ان کے پاس یہ سخت اور تلخ فیصلہ قبول کرنے کے سوا اور کوئی آپشن تھا بھی نہیں لیکن فیصلے سے پہلے بعض حلقے فیصلہ نواز شریف کے خلاف آنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے تصادم اور عدالتی فیصلہ نہ ماننے سے متعلق جن خدشات کااظہار کر رہے تھے ان تمام خدشات کو مسلم لیگ(ن) اور اسکی قیادت نے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر کے غلط ثابت کر دیا ہے‘ اس فیصلے کے ویسے تو کئی پہلوہیں اور پاکستان کے حالات پر اس کے انتہائی دور رس اثرات مرتب ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیاجا سکتا لیکن عدلیہ کے اس تاریخی فیصلے نے جہاں نظریہ ضرورت کے حوالے سے ماضی میں بدنامی کا داغ اپنے دامن پرلگانے کے تاثر کو زائل کر دیاہے وہاں اس فیصلے سے پاکستان کے کروڑوں مایوس عوام کو یہ حوصلہ بھی ملاہے کہ یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا نہیں ہے اور ہماری معزز عدلیہ میں اتنا دم خم ابھی باقی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کربھی سکتی ہے اور اس میں اپنے فیصلوں کے نفاذ کی طاقت بھی موجود ہے ۔جولوگ اس فیصلے کو سطحی نظر سے دیکھ رہے ہیں انکی خدمت میں عرض ہے کہ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات اور احساسات کا ترجمان ہے۔

اس فیصلے نے بعض حلقوں کے تعصب پر مبنی اس رویئے اور پروپیگنڈے کو بھی شکست دے دی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا سندھ اور پنجاب کیلئے انصاف کا الگ الگ پیمانہ ہے۔اسی طرح اس فیصلے نے اس تاثر کی نفی بھی کر دی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں حکمرانوں اور رعایا نیز امراء اور غرباء کے درمیان فیصلوں کے علیحدہ علیحدہ معیارات ہیں۔اعلیٰ عدالتوں پر عوامی اعتماد کی بحالی کی ترجمانی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بجا طور پر کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے سے پاکستان کے کروڑوں مفلوک الحال اور بے بس وبے کس عوام میں امید کی ایک نئی لگن اور لہر پیدا ہو گئی ہے اور یہ سلسلہ اب تھمنا نہیں چاہئے۔جو لوگ پانامہ مقدمے کو میاں نواز شریف کی نااہلی تک محدود رکھنے کے متمنی ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر احتساب کے اس سفر اور شروعات کو صرف اس کیس اور صرف نواز شریف کی نا اہلی تک محدود رکھا گیا تو اس سے نہ صرف اس کیس اور فیصلے کومتنازعہ بننے میں دیر نہیں لگے گی بلکہ اس طرز عمل سے موجودہ سسٹم سے عوام کے اعتماد کا اٹھنا بھی فطری امر قرار پائے گا۔پاکستان کے کروڑوں عوام بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ برسراقتدار حکمران خاندان کا بے رحم احتساب وطن عزیز سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ضمن میں بارش کا پہلاقطرہ ثابت ہوگا اور اب عدلیہ سیاستدانوں سمیت مادر وطن کو شیرمادر سمجھ کر لوٹنے والے جرنیلوں‘ ججوں‘ بیوروکریٹس‘ تاجروں‘ صنعتکاروں‘ جاگیرداروں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان سے ملک وقوم کا لوٹا ہوا مال برآمد کرنے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لے گی اور اس حوالے سے نظر آنے والے اقدامات اٹھائے گی اگر سپریم کورٹ سوموٹو اختیارات کے تحت از خودکوئی ایسا تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتی ہے تو وہ یقیناپوری قوم کو اپنی پشت پرپائے گی کیونکہ بے رحم احتساب اور گزشتہ 70سال میں لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی پوری قوم کی متفقہ خواہش اور مطالبہ ہے۔ پانامہ فیصلے کے متذکرہ پہلو کے ساتھ ساتھ ہمارے تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی رہنماؤں کو اس فیصلے کی خوشی اور غم کے شورمیں جہاں وطن عزیز کو درپیش بین الاقوامی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا وہاں اپنے اندرونی سیاسی اختلافات کو اس حد تک لے جانے سے گریز کرنا ہوگا جس کا خمیازہ خدا نخواستہ بعد میں پوری قوم اور ملک کو انتشار اور افراتفری کی صورت برداشت کرنا پڑے۔نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر اب تک مسلم لیگ(ن) نے جوردعمل ظاہر کیا ہے توقع ہے کہ تحمل اور سیاسی بلوغت کے اس جذبے کو آگے بھی جاری رکھا جائے گا اور حکمران جماعت نئے وزیر اعظم کے انتخاب اور کابینہ کی تشکیل میں صرف اور صرف قومی مفاد کو مقدم رکھے گی۔اسی طرح امیدکی جانی چاہئے کہ اپوزیشن کی جماعتیں بھی عدالتی فیصلے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرنے اور حکمران جماعت کو دیوار سے لگانے کی بجائے قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک لے جانے سے احتراز کریں گی۔