بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / قطر کا حج مقامات کو بین الاقوامی بنانے کا مطالبہ اعلانِ جنگ ہے ‘سعودی وزیر خارجہ

قطر کا حج مقامات کو بین الاقوامی بنانے کا مطالبہ اعلانِ جنگ ہے ‘سعودی وزیر خارجہ


منامہ۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ’’ قطر کا حج کے مقدس مقامات کو بین الاقوامی بنانے کا مطالبہ ایک جارحانہ فعل اور سعودی مملکت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘‘۔انھوں نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں چارعرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر العربیہ اور الحدث نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ہم ایسے کسی بھی فریق کو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جو مقدس مقامات کو بین الاقوامی قرار دینے کے لیے کام کررہا ہے‘‘۔قبل ازیں عادل الجبیر نے قطر کی جانب سے حج کے معاملات کو سیاسی بنانے کی کوششوں کی مذمت کی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ قطریوں کا حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آمد پر خیرمقدم کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب قطر کی جانب سے اپنے عازمین حج کی مملکت میں آمد کو روکنے کے لیے اور حج امور کو سیاسی بنانے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ مملکت کی عازمین حج کے خیر مقدم اور انھیں سہولتیں مہیا کرنے کی تاریخ بڑی واضح ہے اور انھیں ہر طرح سے سہولتیں مہیا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب دنیا بھر کے حجاج کی طرح قطریوں کا بھی حج کی ادائیگی کے لیے خیرمقدم کرے گا،واضح رہے کہ سعودی عرب میں دنیا بھر سے عازمین حج کی آمد شروع ہوچکی ہے لیکن قطر سے ابھی تک کسی ایک شخص کی بھی اس مقصد کے لیے آمد نہیں ہوئی ہے۔ایک سعودی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ قطر نے اپنے شہریوں کے حج پر جانے پر پابندی عاید کردی ہے لیکن اس نے ابھی تک اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا ہے۔

دریں اثناء قطری میڈیا ذرائع نے حج کے مقامات کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے کا شوشا چھوڑا ہے۔قطری میڈیا نے منامہ میں چار عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل ہی الحرمین الشریفین کو سیاست سے الگ کرنے کی مہم برپا کردی تھی اور یہ بھی بے پر کی اڑائی تھی کہ اگر قطری حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں تو انھیں وہاں قتل کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ قطر سے قبل اس کا نیا نیا اتحادی ایران بھی گذشتہ تین عشروں کے دوران میں وقتاً فوقتاً حج کو بین الاقوامی بنانے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں الحرمین الشریفین کو تمام مسلم ممالک کے زیر نگرانی دینے کے مطالبات داغتا رہا ہے۔تاہم کسی بھی مسلم ملک یا لیڈر نے ایران کے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی تھی۔