بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران خان نااہلی کیس ‘سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں‘سپریم کورٹ

عمران خان نااہلی کیس ‘سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں‘سپریم کورٹ

اسلام آباد۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار عمران خان کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دےئے کہ سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں، سیاسی جماعتوں کو واضح کرنا ہوتا ہے فنڈنگ قانون کے مطابق ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایگزیکٹو فورم ہے سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس فیصلے کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن کا کام سیاسی جماعتوں سے حساب لینا ہے،کیا آڈیٹر کو بتایا جاتا ہے کہ فنڈز ممنوع ذرائع سے نہیں؟ ، ممنوع فنڈز آئے یا نہیں یہ دیکھنا ہوگا،دوسری جماعتوں کا معاملہ سامنے آیا تو دیکھیں گے، معاملہ 184/3 میں ہم خود دیکھیں گے یا الیکشن کمیشن متعلقہ فورم ہے ،الیکشن کمیشن تحقیقات میں تعین کرے گا کہ فنڈز ممنوع ہیں یا نہیں،عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کون ذمہ دار ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطا بق پیر کو سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل انور منصور سے مکالمے میں کہا کہ امید ہے آپ کی صحت اچھی ہوگی۔

انور منصور نے کہا کہ زیادہ دیر کھڑا ہونا مشکل ہے۔ عدالت کی بھرپور معاونت کی کوشش کروں گا۔ پارٹی فنڈنگ کی تفصیلات جمع کراچکا ہوں تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں 2002 میں ترمیم کی گئی ترمیم میں الیکشن کمیشن سے آڈٹ کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو پڑتال کرنے کا بھی اختیار نہیں؟ وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی تفصیلات قانون کے مطابق نہ ہو تو واپس کی جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو متعلقہ تفصیلات پیش کرنے کا کہا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو واضح کرنا ہوتا ہے فنڈنگ قانون کے مطابق ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کوئی خود تو غیر ملکی فنڈنگ کو سامنے نہیں لائے گا انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی جماعت کو اکاؤنٹ درست ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتا۔ انور منصور نے کہا کہ عدالت کے سامنے تمام ریکارڈ رکھ دیا ہے۔ انور منصور نے کہا کہ کیا صرف پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا مقدمہ ہی سنا جانا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی دوسری جماعت کے خلاف شکایت ہے تو الیکشن کمیشن کارروائی کرے۔ انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں پی ٹی آئی کو فراڈ قرار دیا ہے۔

عدالت ہمارا مقدمہ فراڈ کہنے والوں کے پاس کیسے بھیج سکتی ہے؟ انور منصور نے کہا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے جواب میں استعمال ہونے والی زبان کا بھی جائزہ لے جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ تعصب کا الزام لگا کر کیا جانچ پڑتال سے جان چھڑوائی جاسکتی ہے؟ پہلے آپ نے کبھی یہ نکتہ نہیں اٹھایا۔ انور منصور نے کہا کہ آڈٹ کروانا ہے تو سب کا کروائیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آزادانہ فیصلے کا بھی کہہ سکتے ہیں۔ انور منصور نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے والی بات ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) لندن میں بطور کمپنی رجسٹرڈ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لائیں۔ انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن معاملے پر واحد فورم ہے جو تعصب کا مظاہرہ کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایگزیکٹو فورم ہے سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس فیصلے کا اختیار ہے۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں عمومی بات کی ہے۔ انور منصور نے کہا کہ جواب میں پی ٹی آئی کیس کے ریفرنس کی بات کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام سیاسی جماعتوں سے حساب لینا ہے۔ انور منصور نے کہا کہ انتخابی نشان لینے کے بعد حساب نہیں لیا جاسکتا۔ انتخابی نشان ملتا ہی حساب لینے کے بعد ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آڈیٹر کو بتایا جاتا ہے کہ فنڈز ممنوع ذرائع سے نہیں؟ انور منصور نے کہا کہ آڈیٹر کو فنڈز کے ذرائع بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔ دوسری جماعتوں کی آڈٹ رپورٹس پر اعتراضات ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری جماعتوں کا معاملہ سامنے آیا تو دیکھیں گے۔ معاملہ 184/3 میں ہم خود دیکھیں گے یا الیکشن کمیشن متعلقہ فورم ہے۔ ممنوع فنڈز آئے یا نہیں یہ دیکھنا ہوگا۔ انور منصور نے کہا کہ 184/3 میں عدالت کے پاس لامحدود اختیارات ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن تحقیقات میں تعین کرے گا کہ فنڈز ممنوع ہیں یا نہیں۔ انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس قانون کے تحت انکوائری کا اختیار رکھتا ہے۔ قانون میں الیکشن کمیشن کو ذرائع سے معلومات لینے کا اختیار نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آڈیٹر کو تو سیاسی جماعت خود تعینات کرتی ہے۔

انور منصور نے کہا کہ آڈیٹر سے کچھ چھپایا جائے تو رپورٹ میں لکھا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں آڈیٹر کا لائسنس منسوخ ہوجائے فنڈنگ ضبط نہ ہو۔ انور منصورنے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تحقیقات نہیں جانچ پڑتال کا اختیار ہے۔ اختیارات نہ ہوں تو آڈٹ نہیں کیا جاسکتا۔ انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جانچ پڑتال کا اختیار ہر سال ہوتا ہے قانون میں الیکشن کمیشن کو لامحدود اختیار نہیں۔ غیر ملکی اور ممنوع فنڈنگ دو الگ چیزیں ہیں۔ انور منصور کے دلائل مکمل ہونے کے بعد حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے 800 صفحات پر مشتمل جعلی دستاویزات جمع کرائی ہیں۔ تمام دستاویزات جعلی اور خود ساختہ ہیں۔ غیر ملکی اور ممنوعہ فنڈنگ کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ فارا ریکارڈ میں ایسی کوئی دستاویزات نہیں جو پی ٹی آئی نے جمع کرائیں پی ٹی آئی نے اپنے جوابات میں الزامات کو غلط قرار نہیں دیا پی ٹی آئی نے صرف اپنے ایجنٹس کے بیان حلفی جمع کرائے ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جعلی دستاویزات دے کر عدالتی وقار کی توہین کی گئی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کہا غیر ملکیوں کا پیسہ پاکستان نہیں بھجوایا گیا پی ٹی آئی نے کہا صرف پاکستانیوں سے لی گئی رقم بھجوائی گئی۔ اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فارا کو کم اور پاکستان میں فنڈنگ زیادہ ظاہر کی ۔ پی ٹی آئی نے ریکارڈ تصدیق کے بغیر جمع کرایا۔ انور منصور نے کہا کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے بعض لوگ اپنی شناخت ظاہر نہیں کروانا چاہتے۔ جعلسازی کرنی ہوتی تو خود سے کسی کا نام لکھ دیتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی جعلسازی کی توقع نہیں کرتی آڈیٹر کو ممنوعہ اور غیر ممنوعہ فنڈنگ کا کیسے علم ہوگا؟ انور منصور نے کہا کہ عمران خان کو صرف اس رقم کا علم ہے جو پاکستان آئی امریکہ میں اگر پالیسی کے خلاف فنڈ جمع ہوا تو ذمہ دار ہم کیسے ہوگئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کون ذمہ دار ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت آج (منگل ) تک ملتوی کر دی۔