بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت کا کھاد پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ

حکومت کا کھاد پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔ وفاقی حکومت نے ملک میں کھاد کی قیمت 1400 روپے فی بوری سے کم رکھنے کے لیے رواں سال بھی 100 روپے فی بوری سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ، رواں مالی سال کھاد پر ساڑھے 11ارب روپے سے زائد کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے گزٹ نوٹیفکیشن کے لیے باضابطہ طور پر مسودہ جاری کردیا ہے جس میں بتایا گیاکہ کاشت کاروں کو سستے داموں کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران آف ٹیک پیٹرن کی بنیاد پر وفاق اور صوبوں کی جانب سے ففٹی، ففٹی کی بنیاد پر 11ارب 54کروڑ روپے کی سبسڈی دی جائے گی اوراس کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں کھاد کی قیمت 1400روپے فی بوری سے کم رکھنا ہے۔

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے یوریا فرٹیلائزر پر سبسڈی کی تقسیم کے لیے میکنزم بھی متعارف کرایا گیا ہے او ر تمام صوبے فرٹیلائزر پر سبسڈی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں کھولے گئے اسپیشل اکاؤنٹ میں کھاد پر اپ فرنٹ سبسڈی کا مجموعی حصہ جمع کرائیں گے یا ایٹ سورس کٹوتی کے اختیارات دیں گے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ فرٹیلائزر سبسڈی اسکیم کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس سیلز ٹیکس ریجیم میں رجسٹرڈ یوریا فرٹیلائزر مینوفیکچررز سبسڈی حاصل کرنے کے اہل ہوں گے جو حکومت کے فراہم کردہ ڈیزائن کے مطابق کھاد کو بوریوں میں پیک کریں گے اور اس پرنہ صرف کھاد کی پرچون قیمت فروخت 1400روپے درج ہوگی بلکہ اس بوری پر سبسڈی مارکیٹنگ مونوگرامز بھی پرنٹ ہوں گے، سبسڈی کھادکی فروخت کے بعد مینوفیکچررز کی سیلز ٹیکس انوائسز اور ریٹرن کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔