بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ایرانی حکومت کا عازمین حج بارے اہم فیصلہ

ایرانی حکومت کا عازمین حج بارے اہم فیصلہ


بیروت۔ سعودی عرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے گذشتہ سال تہران کی جانب سے حج پر عائد کی گئی پابندی ختم ہونے کے بعد اس سال تقریبا 90 ہزار ایرانی شہریوں کا فریضہ حج ادا کرنے کا امکان ہے،ڈائریکٹر حج ایران نصراللہ فرحمند نے ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تقریبا 800 حجاج تین پروازوں کے ذریعے مدینہ روانہ ہونے والے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال تقریبا 86 ہزار 500 ایرانی شہری حج کا حصہ بنیں گے جبکہ 800 حجاج کی مدد کے لیے 800 سہولت کار پہلے ہی سعودی عرب روانہ ہوچکے ہیں۔یاد رہے کہ 2015 میں حج کے موقع پر بھگدڑ میں 464 ایرانی حاجیوں کی اموات اور سعودی عرب اور ایران کے کشیدہ سفارتی تعلقات کی وجہ سے گذشتہ سال ایران نے حج کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

حج منتظمین سے خطاب میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران 2015 کی قیامت خیز صورتحال کو کبھی بھول نہیں پائیں گے۔انہوں نے سعودی عرب سے تمام عازمین حج کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔سرکاری ویب سائٹ کے مطابق سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ‘اسلامی جمہوریہ کے نزدیک سب سے اہم اور حساس مسئلہ تمام عازمین حج اور بالخصوص ایرانی حاجیوں کی سلامتی، وقار، فلاح اور آرام کا تحفظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘حج کی سکیورٹی اس ملک کی ذمہ داری ہے جہاں یہ مقدس مقامات موجود ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ سال جنوری میں تہران میں سعودی سفارت خانے کو نذرآتش کیے جانے اور ایران کے شہر مشہد میں سعودیہ مخالف مظاہروں کے بعدریاض نے تہران سے رابطے منقطع کردیئے تھے۔رواں سال فروری میں ایران نے اپنا وفد سعودی عرب بھیجا جس نے ایرانی حاجیوں کی واپسی یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہی رہے۔

گذشتہ ماہ تہران میں ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر داعش کے حملے کے بعد بھی ایرانی حکام نے اس کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا تھا تاہم سعودی حکومت کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی۔