بریکنگ نیوز
Home / کالم / خاندانی سیاست کا زوال؟

خاندانی سیاست کا زوال؟

تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے ’نواز شریف‘ کو اقتدار سے الگ کرنے کا مرحلہ اُن کے شایان شان نہیں تھا۔ پانامہ کیس فیصلے کی روشنی میں اُن کی اگر بے وقار اور بے توقیر رخصتی ہوئی ہے تو اِس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہیں کیونکہ اُنہیں بہت پہلے سمجھ لینا چاہئے تھا کہ کس طرح ماضی اُن کا پیچھا کر رہا ہے اور کسی آئینی معاملے کو سیاست کے طور پر گول مول کرکے اپنے حق میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

پانامہ کیس کا فیصلہ شاید ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندانی سلسلے کے لئے کسی سنگین دھچکے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اپنے غیر معمولی حکم نامے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے‘ اقتدار اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے‘ ملک کے سیاسی منظر نامے پر غالب تقریباً تمام شریفوں کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا اِس فیصلے کے بعد شریف خاندان کی سیاسی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا یا نہیں۔

یہ تو واضح ہے کہ قیادت کی چھڑی اَب شہباز شریف کے ہاتھوں میں تھما دی جائے گئی تاکہ کم اَزکم موجودہ حالات میں اقتدار پر خاندانی سلسلے کو قائم و دائم رکھا جا سکے۔ بلاشبہ‘ موجودہ وزیر اعظم کے خلاف بے مثال عدالتی کاروائی ملک کی جمہوری ارتقاء کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ فیصلے پر اُٹھائے جانیوالے شکوک شبہات کو خلاف دستور عمل کہا گیا لیکن اہم بات یہ ہے کہ تمام کاروائی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی گئی اور کچھ بھی آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہوا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ‘ جس میں نواز شریف اور انکے خاندان پر الزامات عائد کئے گئے تھے‘ کے آنے کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ وزیر اعظم بڑے مشکل حالات سے دوچارہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شریف خاندان لندن جائیداد کی منی ٹریل فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ان پر جھوٹا بیان دینے اور چند غیر ملکی اثاثے چھپانے کے الزامات بھی عائد کئے گئے لیکن ایک پورے خاندان کے خلاف اتنی سخت کاروائی اور اتفاقی فیصلے نے نہ صرف حکومت بلکہ حکومت سے باہر بیٹھے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات آگے جاکرکیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

نواز شریف کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کمزور پڑنے سے ان کا پارٹی پر اثر رسوخ بھی محدود ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے جنم لینے والے نواز شریف کو 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبے کے تحت ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں سیاست میں اتارا گیا تاکہ بے نظیر بھٹو کو چیلنج دینے کیلئے سیاسی میدان میں کوئی دوسرا رہنما موجود ہو۔1990ء کی دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک کے سفر میں انہیں طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل رہی۔ اسی سیاسی طاقت کی بدولت شریف خاندان کو کاروبار میں بھی زبردست ترقی نصیب ہوئی۔

اس مالی اسکینڈل نے نواز شریف کے پورے سیاسی کریئر میں‘ خاص طور پر ملک کی سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد‘ پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر ’پاناما پیپرز‘ میں ان کے خاندان کا نام آنے کے بعد سکینڈل کھل کر سامنے آیا اور ان کے زوال کی وجہ بھی بنا۔ اگرچہ مسلم لیگ نواز کی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی قربت رہی مگر نواز شریف نے اسے ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی لیکن لگتا یہ ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

پھر بھی نواز شریف برسہا برس‘ حالات کے اُتار چڑھاؤ کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے‘ جس کی بناء پر وہ تیسری بار منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے۔ پنجاب پر ان کے خاندان کی گرفت مضبوط بنانے کی خاطر طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ‘ بشمول بیوروکریسی اور عدلیہ کے کچھ حلقوں کو مدد کرتے دیکھا گیا ہے۔ ایک اہم سوال یہ اُبھرتا ہے کہ آیا نواز شریف پارٹی کو متحد رکھ پائیں گے یا نہیں۔

سب سے زیادہ ضروری یہ کہ‘ کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان پر الزامات عائد ہونے کے بعد چھوٹے میاں کی قیادت میں مسلم لیگ نواز کی حمایت جاری رکھے گی؟ پارٹی اتحاد کا انحصار ’پی پی پی‘ اور ’پی ٹی آئی‘ کی نواز لیگ کے گڑھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت پر بھی ہے‘ جو کہ مرکزی سیاسی میدان بھی رہا ہے جبکہ نواز شریف کے زوال سے دیگر صوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اِقتدار میں نواز شریف کی واپسی کی تو زیادہ اُمید نظر نہیں آتی لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آیا یہ خاندانی حکمرانی اپنے اَنجام کو پہنچی ہے یا نہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ شہباز شریف ضمنی انتخاب میں قسمت آزمائی کرنے کے بارے میں ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)