بریکنگ نیوز
Home / کالم / غیر یقینی سیاسی حالات

غیر یقینی سیاسی حالات

آئندہ چند ماہ یایوں کہئے نئے عام انتخابات تک کا عرصہ اس ملک کیلئے کافی مشکل ہو گا نہ خاقان عباسی اور نہ شہباز شریف کیلئے وزیراعظم کا منصب پھولوں کی سیج ہو گی بلکہ یہ سمجھئے ہچکچائیں گے سرکار کے کئی کام ٹھپ ہو جائیں گے اگر حالات حکمران پارٹی کی منشا کے عین مطابق چلتے ہیں اور 50 دنوں بعد شہباز شریف وزیراعظم کے منصب کا حلف اٹھاتے ہیں تو ان کو وقت کیساتھ سخت تیز دوڑ لگانی ہو گی کیونکہ اگلے سا ل کے وسط میں (ن) لیگ کے اقتدار کی آئینی مد ت ختم ہو جائے گی۔

بالفاظ دیگر آئندہ دس ماہ ملک گومگو کی صورتحال سے دو چار رہے گا بہتر تو یہ ہوتا کہ آئندہ دس گیارہ ماہ امور مملکت چلانے کیلئے خاقان عباسی اور شہباز شریف کو باری باری وزارت عظمی پر فائز کرنے کے بجائے حکومت فوری الیکشن کا اعلان کر دیتی لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں (ن)لیگ اور پی پی پی دونوں فوری الیکشن کے حق میں نظر نہیں آتیں اور اس کیلئے ان کی اپنی اپنی علیحدہ وجوہات ہیں (ن)لیگ اس امید میں ہے کہ آئندہ مارچ کے مہینے میں سینٹ کی چھی خاصی نشستیں خالی ہونے والی ہیں اور و ہ قومی اسمبلی میں اپنی موجودہ عدوی اکثریت کے بل بوتے پر یہ سیٹیں جیت کر ایوان بالا میں اکثریتی پارٹی بن جائیگی جو بعد میں یعنی 2018ء کے الیکشن میں اسکے علاوہ اگر کوئی دوسری سیاسی جماعت الیکشن جیت کر اقتدار میں آتی ہے تو اس کیلئے کئی آئینی رکاوٹیں پیدا کر سکے گی ۔

زرداری صاحب نہ جانے ملک کے اندر رہنے سے کیوں گھبرانے لگے ہیں بلاول ابھی ناتجربہ کار ہیں اگر وہ خود آئندہ دس ماہ تک تواتر سے پاکستان میں نہیں رہیں گے تو ریمورٹ کنٹرول سے تو وہ پارٹی چلانے سے رہے کیا الطاف حسین کے انجام سے وہ بے خبر ہیں ؟ فوری الیکشن میں سوائے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے دیگر کسی سیاسی جماعت کی کوئی زیادہ دلچسپی دکھائی نہیں دیتی عام آدمی کی بس اس حد تک دلچسپی ہے کہ سی پیک کے تحت ہونیوالے کام میں کسی صورت میں کوئی رخنہ نہ آنے پائے کہ اس سے اس ملک کا مفاد جڑا ہوا ہے ‘ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر نمبر گیم شروع ہے لیکن اب کی دفعہ اسے سنجیدہ کوئی بھی فریق اسلئے نہیں لے گا کہ اب نئے الیکشن کو وقت ہی کتنا باقی رہ گیا ہے۔

اب اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ کون حکومت میں رہتا ہے اور کون نہیں رہتا ؟ کس کی حکومت بنتی ہے اور کس کی فارغ ہوتی ہے آج کل سب کی نظریں نئے الیکشن پر لگی ہوئی ہیں سب اس فکرمیں ہیں کہ آئند ہ الیکشن کیسے جیتا جائے ایک وقت ایسا ضرور تھا جب جے یو آئی کی نظر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے منصب پر تھی موجودہ سیاسی بحران کے دوران سابق وزیراعظم اور سعد رفیق کے منہ سے بعض ایسے جملے نکلے ہیں کہ جو وضاحت طلب ہیں مثلاً نواز شریف نے کہا کہ پہلے وہ نظریاتی نہ تھے لیکن اب نظریاتی ہو گئے ہیں اپنی پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے ان سے انہوں نے یہ وعدہ بھی لیا کہ وہ ان نظریات میں ان کی معاونت کریں گے کاش وہ ذرا کھل کر کہہ دیتے ۔

سعد رفیق صاحب نے تو خیر قدرے کھل کر یہ بات کردی کہ چونکہ بار بار بقول انکے منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھجوا دیا جاتا ہے لہٰذا ان لوگوں کے پرکاٹنے ہونگے ۔ کیا ان کا یہ بیان ان ریاستی اداروں کو دھمکی دینے کے مترادف نہیں کہ جن کا آئینی کام ہی یہی ہے کہ وہ ان افراد پر ہاتھ ڈالیں کہ جو ملک میں اقتدار میں آکر قومی خزانہ مختلف انداز سے لوٹتے ہیں ؟ کیا سعد رفیق یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنیوالوں کا ہاتھ آزاد ہے وہ بھلا جو بھی کرنا چاہئیں بے شک کریں اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو ؟