بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بالا کوٹ متاثرین کو پلاٹس الاٹمنٹ تیز کرنیکی ہدایت

بالا کوٹ متاثرین کو پلاٹس الاٹمنٹ تیز کرنیکی ہدایت

پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بالاکوٹ کے متاثرین کو نئے بالاکوٹ سٹی میں پلاٹس کی الاٹمنٹ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے 4.3 ارب روپے کی مجوزہ لاگت سے باقی ماندہ ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور کمرشل پلان کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کی منظوری دی ہے ۔انہوں نے منصوبے کے تحت کمرشل پلان پر عمل درآمد کیلئے سرمایہ کاروں کیلئے قابل عمل ماڈل وضع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے اور کمرشل پلان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکے ۔

ایم پی اے زرگل خان اورسابق ایم پی اے مظہر علی قاسم کو اس سلسلے میں فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے تاکہ مذکورہ معاملات کو بلا تاخیر حتمی شکل دی جا سکے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں نئے بالاکوٹ سٹی کو فعال بنانے اور وہاں کمرشل اراضی اور سر پلس رہائشی پلاٹس کی ترقی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی مشتاق احمد غنی ، ایم پی اے زر گل خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، ایرا ، پی ڈی ایم اے اور پیراکے ڈائریکٹر جنرل ، جنرل منیجر نیسپاک، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس کو نئے بالاکوٹ سٹی میں متاثرین کو پلاٹس کی الاٹمنٹ، کمرشل اراضی کی ترقی اور مجوزہ طریقہ کار ، مطلوبہ مالی اخراجات اور کمرشل سرگرمیوں سے متوقع آمدن کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی اور اس سلسلے میں مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا گیا ۔اجلاس کو نئے بالاکوٹ سٹی کے ترقیاتی پروگرام کیلئے تشکیل شدہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پرانے بالاکوٹ شہر کے 3600 متاثرہ خاندانوں کو نئے سٹی میں پلاٹس دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت پلاٹس کی الاٹمنٹ کا عمل شروع ہے اور 70 پلاٹس الاٹ کئے جا چکے ہیں ۔8440 کنال اراضی کو ترقی کیلئے بروئے کار لایا جا چکا ہے ۔

ایرا کی طرف سے بکریال کے متاثرہ لوگوں کیلئے پلاٹس کی نشاندہی کا عمل شروع ہے ۔اور 402 entitlement سرٹیفکیٹ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔ شجرکاری کیلئے محکمہ جنگلات سے رابطہ کیا جا چکا ہے ۔7 مرلہ ،10 مرلہ ،15 مرلہ اور20 مرلہ کے مجموعی طور پر 5492 پلاٹس دستیاب ہیں جبکہ بالاکوٹ، گرلاٹ، جبہ،اور بکریال کیلئے مختلف مرلوں پر مشتمل 4273 پلاٹس کی ضرورت ہے ۔

تقریباً650 کنال رقبے پر مشتمل1219 سر پلس پلاٹس اور113 کنال اراضی کو کمرشل پلان کے تحت وسائل پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے 4.30 ارب روپے درکار ہوں گے جبکہ سرپلس اراضی کی کمرشل بنیادوں پر ترقی کے بعد محتاط انداز ے کے مطابق تقریباً 4.38 ارب روپے آمدنی متوقع ہے ۔وزیراعلیٰ نے کمرشل پلان کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ دکانوں کا سائز چھوٹا رکھیں اور ایک جامع اور قابل عمل سٹرکچر ڈیزائن وضع کریں۔کمرشل سرگرمیوں کیلئے حکومت کی نگرانی میں نجی ترقیاتی اداروں کی آپشن کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ ایرا کی کونسل میٹنگ میں اس مسئلہ پربات کی جائے گی ۔

وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں حتمی پلان لانے کی ہدایت کی جس کی صوبائی سطح پر منظوری کے بعد وفاق کو پیش کیا جا ئے گا۔انہوں نے نیسپاک کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کلیئر شدہ رقبے کا روزانہ کی بنیاد پر سروے کریں جب زمین کی ادائیگی ہو چکی ہے تو اب کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے ۔انہوں نے ٹاؤن میں کم ازکم پانچ مزید سکول تعمیر کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اس منصوبے کو قابل عمل اور عوام کیلئے مفید بنایا جا سکے ۔