بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہمارا ماحول ایک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگیا ہے، مولانا فضل الرحمان

ہمارا ماحول ایک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگیا ہے، مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد: سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک ادارہ دوسرے ادارے کو کمزور کرنا چاہتا ہے، کوئی ادارہ اب یہ نہ سوچے طاقت کے زور پر سب کچھ منوالیا جائےگا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ہاں کرپشن کا ہنگامہ ہے، اس نے لوٹا اس نے لوٹا، یہ چور وہ چور، ہمارا ماحول ایک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگیا ہے، پارلیمنٹ کے لوگ ایک دوسرے کو چور اور کرپٹ کہہ رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ سب خودبخود نہیں ہورہا، اس کی آبیاری بین الاقوامی سطح پر ہورہی ہے، لیکن ہم ایک دوسرے کو عریاں کرنے کے چکر میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا جہاں کی سازشیں امریکا میں ہی ہوا کرتی ہیں، پاناما امریکا کے زیر اثر ملک ہے اور پاکستان پاناما کیس کی نذر ہوگیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاناما میں ایک مسئلہ ہوا اور وہاں سے ہمیں دبوچ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی مالیاتی کرپشن کی بات کررہا ہے کوئی اخلاقی کرپشن کی بات کر رہا ہے، سیاستدان اکیلے کبھی بھی کرپشن نہیں کرسکتا، جب تک بیوروکریسی اسے کرپشن کا ماحول فراہم نہ کرے، اسٹیبلشمنٹ ، بیورو کریسی  کے ماحول بنائے بغیر سیاست دان  کرپشن نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ادارہ دوسرے ادارے کو کمزور کرنا چاہتا ہے، کوئی ادارہ اب یہ نہ سوچے طاقت کے زور پر سب کچھ منوالیا جائےگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین ایک نئے اقتصادی ویژن کے ساتھ متعارف ہورہا ہے، غیر ملکی طاقتوں کی نظر سی پیک پر بھی ہے، چین کی اقتصادی پالیسی کے فروغ کیلیے زینہ بنیں گے تو آپ نشانے پر آئینگے اور آپ نشانے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ نظر آرہا ہے وہ بظاہر تو اندرونی لگتا ہے، لیکن ہو بیرونی سازش کے تحت رہا ہے، سوچنا ہے کہ ملک کو کیسے بحران سے نکالیں۔