بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / حکومت ہٹانے کا اختیار صرف عوام کو ہونا چاہیے ٗ مشرف

حکومت ہٹانے کا اختیار صرف عوام کو ہونا چاہیے ٗ مشرف

لندن ۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اور سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک میں جب بھی مارشل لا لگائے گئے یہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا، پاکستان میں فوج ملک کو پٹری پر لاتی ہے اور سویلین آ کر پھر اسے پٹری سے اتار دیتے ہیں، ایشیا کے سارے ممالک میں دیکھیں، جہاں بھی ترقی ہوئی ہے صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہوئی ہے، پاکستان توڑنے میں فوج کا نہیں بھٹو کا قصور تھا۔

کچھ الزام یحییٰ خان پر بھی آتا ہے لیکن ایوب خان کے دس سال کی حکومت میں ملک نے ترقی کے ریکارڈ قائم کیے،تسلیم کرتاہوں ضیاء الحق کا دور متنازع تھا، افغان جنگ میں فوج نے پیسے نہیں بنائے، نواز شریف کی بھارت پالیسی مکمل طورپر سیل آؤٹ پالیسی تھی ، بھارت بلوچستان میں ملوث ہے اور جو کوئی پاکستان کو نہیں مانے گا، ملک کی بقا کے خلاف ہوگا اس کو مارنا چاہیے،حکومت کو ہٹانے کا اختیار عوام کو ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔

عوام تب ہوتی ہے جب آئین کے اندر چیکس اینڈ بیلنسز ہوں۔ عوام خود بھاگ کر فوج کے پاس آتی ہے کہ ہماری جان چھڑوائیں۔ لوگ میرے پاس آکر کہتے تھے کہ ہماری جان چھڑوائیں ، میں نے عوام کے مطالبے پر ٹیک اوور کیا تھا، آئین مقدس ہے لیکن آئین سے زیادہ قوم مقدس ہے ، ہم آئین کو بچاتے ہوئے قوم کو ختم نہیں کر سکتے لیکن قوم کو بچانے کے لئے آئین کو تھوڑا سا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو پاکستان کی آزادی کے 70 برس مکمل ہونے پر برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی اردو) کو دبئی میں دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا کہ چاہے ڈیموکریسی ہو، یا ڈکٹیٹرشپ ہو، یا کمیونزم ہو یا سوشلزم ہو، یا بادشاہت ہو، عوام کو، یا ملک کو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ عوام اور ملک کو ترقی، عوام کی خوشحالی چاہیے۔ عوام کو روزگار، خوشحالی اور سکیورٹی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ایشیا کے سارے ممالک میں دیکھیں، جہاں بھی ترقی ہوئی ہے صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پاکستان کو بھی ڈکٹیٹروں نے ٹھیک کیا، لیکن جب وہ گئے تو سویلینز نے بیڑہ غرق کر دیا۔

پرویز مشرف نے کہاکہ سویلین حکومتوں اور فوجی حکومتوں کے ریکارڈ دیکھ لیں۔ فوجی ڈکٹیٹرشپ میں ملک نے ہمیشہ ترقی کی۔ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ اگر الیکشن کرا د یئے ، آزادی دے دی لیکن خوشحالی نہیں دی تو اس کا کیا فائدہ؟۔انھوں نے کہا کہ پاکستان توڑنے میں فوج کا نہیں بھٹو کا قصور تھا۔ کچھ الزام یحیی خان پر بھی آتا ہے لیکن ایوب خان کے دس سال کی حکومت میں ملک نے ترقی کے ریکارڈ قائم کیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جنرل(ر) پرویز مشرف نے تسلیم کیا کہ ضیاء الحق کا دور متنازع تھا۔ میں بھی تسلیم کروں گا کہ انھوں نے ملک کو مذہبی انتہاپسندی کی جانب دھکیلا۔ انھوں نے ایسی راہ چنی جس کا اثر ملک پر آج بھی ہے۔ لیکن جو انھوں (ضیاالحق )نے طالبان اور امریکہ کی مدد کی سویت یونین کے خلاف وہ بالکل ٹھیک کیا۔انھوں نے کہا کہ افغان جنگ میں فوج نے پیسے نہیں بنائے لیکن کچھ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو ہتھیار خرید رہے ہوں، افغانستان میں پیسے تقسیم کر رہے ہوں ان میں سے کچھ ملوث ہوسکتے ہیں جنھوں نے پیسے بنائے ہوں۔ لیکن فوج نے بطور ادارہ کوئی پیسے نہیں بنائے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق جنرل مشرف نے کہا کہ حکومت کو ہٹانے کا اختیار عوام کو ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔ عوام تب ہوتی ہے جب آئین کے اندر چیکس اینڈ بیلنسز ہوں۔ عوام خود بھاگ کر فوج کے پاس آتی ہے کہ ہماری جان چھڑوائیں۔ لوگ میرے پاس آکر کہتے تھے کہ ہماری جان چھڑوائیں۔۔ میں نے عوام کے مطالبے پر ٹیک اوور کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ آئین مقدس ہے لیکن آئین سے زیادہ قوم مقدس ہے۔ ہم آئین کو بچاتے ہوئے قوم کو ختم نہیں کر سکتے لیکن قوم کو بچانے کے لئے آئین کو تھوڑا سا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول ان کے خلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ درست نہیں۔ ملک جارہا ہے۔ اب میں سوچوں کہ آئین ہے، آرٹیکل چھ میں کیا لکھا ہوا ہے، یہ سوچوں یا ملک کو بچا لوں ۔ مجھے لٹکا دو۔ پرویز مشرف نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر الزام لگایا کہ ان کی انڈیا پالیسی ٹوٹل سیل آؤٹ پالیسی تھی۔ بھارت بلوچستان میں ملوث ہے اور جو کوئی پاکستان کو نہیں مانے گا، ملک کی بقا کے خلاف ہوگا اس کو مارنا چاہیے۔ملک سے نکلنے میں مدد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ میں فوج کا سربراہ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ فوج ہمیشہ میری فلاح وبہبود کی طرف دیکھتی ہے۔