بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / امریکہ اور روس میں تعلقات بہتر ی کی امید یں ختم

امریکہ اور روس میں تعلقات بہتر ی کی امید یں ختم


واشنگٹن /ماسکو /تہران ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کرنے پر روس کے خلاف پابندیوں کے بل پر دستخط کر کے اس کو قانون کی شکل دیدی جبکہ روس نے امریکی پابندیوں کو تجارتی جنگ کا اعلان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کے باعث نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں،دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں تہران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور تہران اس کا موزوں جواب دے گا۔غیر ملکی میڈ یا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں سے متعلق بل پر دستخط کر دیئے۔

وائٹ ہاؤس حکام نے بتایا کہ امریکی صدر نے کانگریس کی جانب سے پاس کئے گئے اس بل پر دستخط کر دیئے ہیں جس میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر عائد پابندیوں میں نرمی نہیں کر سکیں گے۔امریکی کانگریس کی جانب سے نئی پابندیاں 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کے الزام میں عائد کی گئی ہیں جبکہ اس سے قبل روس کی جانب سے کریمیا سے الحاق اور شام میں روسی موجودگی کی وجہ سے بھی امریکا نے ماسکو پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔اس نئے بل میں روس کی توانائی اور دفاع کے شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں اور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس میں ایران اور شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔

اس بل کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا اور اب ٹرمپ نے اس پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔صدر ٹرمپ کے دستخط کیے جانے کے بعد روسی وزیر اعظم دیمیتری میودیو نے کہا کہ اس بل کو قانون کی شکل دینے کا مطلب ہے کہ امریکہ نے روس کے خلاف ‘مکمل تجارتی جنگ’ کا اعلان کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پابندیوں کے باعث نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔

دوست جانب ایران نے ان پابندیوں کے بارے میں کہا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور تہران اس کا موزوں جواب دے گا۔واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے باوجود روس پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔روس کی امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں اور اسی تناظر میں امریکی صدر نے ملک کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر دبا بھی بڑھا دیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی بھاری اکثریت نے ان اقدامات کی حمایت کی جس کے ذریعے شمالی کوریا اور ایران پر بیلیسٹک میزائل کے تجربے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ان نئی پابنیوں کی وجہ سے روس کے تیل اور گیس کے پراجیکٹس پر اثر پڑے گا۔یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن ہیکنگ کے حوالے سے 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپانڈ بند کر دیے گئے تھے۔

روس امریکی انتخاب میں مداخلت کے الزام کر مسترد کرتا آیا ہے۔روس نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ قبضے میں لیے گئے دونوں کمپانڈ کو روس کے حوالے کرے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو روس جوابی کارروائی کرے گا۔گذشتہ دنوں اعلی سطح کی بات چیت کے بعد ایک روسی اہلکار نے کہا تھا کہ کمپانڈ کا مسئلہ تقریبا حل ہو گیا ہے۔تاہم اس نئے بل کے تحت صدر ٹرمپ پابندیوں میں تبدیلی یا سفارتی جائیداد کی واپسی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے۔