بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا کا بجلی بقایاجات کی وصولی کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کا بجلی بقایاجات کی وصولی کا فیصلہ

پشاور ۔ خیبرپختونخواحکومت توانائی کے شعبے کی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے۔ حکومتی و نجی شعبے کے تعاون سے پن بجلی کے 4ہزارمیگاواٹ کے متعدد منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے رواں مالی سال2017-18 کے دوران پن بجلی منصوبوں کے لئے 15.3ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔صوبائی حکومت نے پیہورپن بجلی گھر سے پیداہونے والی بجلی کی مدمیں وفاق کے ذمے1.5ارب روپے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے معاملے کو اعلیٰ سطحی فورم پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اورکہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوامیں پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل میں عدم تعاون سے کام لے رہی ہے۔ان خیالات کا اظہارمحکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو) کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرزصاحبزادہ سعید احمدنے بورڈ کے19ویں اجلاس کے دوران کیا ۔

پیڈوبورڈ کے اجلاس میں سیکرٹری توانائی انجینئرنعیم خان کے علاوہ محکمہ خزانہ،داخلہ کے افسران،سرحد چیمبرآف کامرس کے صدر حاجی افضل،انجینئرلطیف خان،عبداللہ شاہ،روحیل اکرم،فواداسحٰق اورچیف ایگزیکٹوپیڈواکبرایوب خان نے شرکت کی۔اجلاس میں پیڈو کے سالانہ ترقیاتی بجٹ 2017-18کو پیش کیا گیاجبکہ گزشتہ مالی سال 2016-17کے 10.2ارب روپے کے نظرثانی بجٹ کی بھی منظوری دی گئی،ممبران نے طویل بحث کے بعد آئندہ مالی سال کے لئے 15.3ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔اجلاس میں توانائی کے جاری منصوبوں پر کام کی رفتارکاجائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ56میگاواٹ کے تین منصوبوں مچئی ،رانولیااور درال خوڑ ہائیڈروپاورپراجیکٹس پر کام آخری مراحل میں داخل ہوچکاہے اورجلدہی یہ منصوبے بجلی کی پیداوارشروع کردیں گے۔اسکے علاوہ بجلی کی نعمت سے محروم علاقوں میں پن بجلی کی پیداوارکے356 چھوٹیمنصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جن میں سے 200چھوٹیبجلی گھر مکمل کرلئے گئے ہیں اور باقی رواں سال کے آخرتک مکمل کرلئے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 69میگاواٹ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ،84میگاواٹ گورکین مٹلتان ہائیڈل پراجیکٹ ،41میگاواٹ کوٹوہائیڈل پراجیکٹ اوردیگر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور مستقبل میں مزید منصوبے شروع کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کی شراکت سے رواں سال شروع کئے گئے518میگاواٹ کے 6پن بجلی کے منصوبوں ناران ہائیڈروپاورپراجیکٹ،188میگاواٹ مانسہرہ،شیگوکس102میگاواٹ لوئیردیر،ارکاری گول 99میگاواٹ چترال،بٹاکنڈی96میگاواٹ مانسہرہ،غوربند21میگاواٹ شانگلہ اورنندی ہار12میگاواٹ بٹ گرام ایوارڈ کے آخری میں ہے۔حال ہی میں نجی شعبے کے تعاون سے صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑے منصوبے 150میگاواٹ شرمئی ہائیڈروپاورپراجیکٹ(لوئیردیر) شروع کرنے کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔اجلاس میں بورڈ ممبران نے پن بجلی کے جاری منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکیا اور امید کی کہ ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرلیا جائے گا۔