بریکنگ نیوز
Home / بزنس / پاک چین جو ہری ٹیکنالوجی کے تعاون کا معاہدہ

پاک چین جو ہری ٹیکنالوجی کے تعاون کا معاہدہ

بیجنگ ۔چین کی جوہری توانائی ایسوسی ایشن( سی این این سی ) اور پاکستان جوہری توانائی کمیشن مابین جو ہری ٹیکنالوجی کے تعاون کو بڑھانے کے لئے معاہدہ طے پا گیا،معاہدے کی بدولت اوبور منصوبہ کے علاقہ میں چین کی جوہری توانائی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کو بڑھایا جائے گا۔ معاہدے کے تحت چین یورینیم کی صنعت ،اس کے تکنیکی فوائد،جوہری تحقیقاتی اداروں، جوہری کیمسٹری کی صنعت، فضائی ریموٹ سینسنگ سینٹر اور دیگر جوہری عوامل میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گا، پاکستان مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان سب سے اہم پل ہے، پاکستان چین سے 300میگا واٹ تونائی کے 4جوہری ری ایکٹر پہلے ہی درآمد کر چکا ہے جبکہ 2ہزار میگا واٹ کا ری ایکٹر تکمیلی مراحل میں ہے۔چینی اخبار شنگھائی ڈیلی میں شائع رپورٹ کے مطابق چین کی جوہری توانائی ایسوسی ایشن( سی این این سی ) اور پاکستان جوہری توانائی کمیشن مابین جو ہری ٹیکنالوجی کے تعاون کو بڑھانے کے لئے معاہدہ طے پا گیا۔معاہدے کی بدولت اوبور منصوبہ کے علاقہ میں چین کی جوہری توانائی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کو بڑھایا جائے گا۔ معاہدے کے تحت چین یورینیم کی صنعت ،اس کے تکنیکی فوائد،جوہری تحقیقاتی اداروں، جوہری کیمسٹری کی صنعت، فضائی ریموٹ سینسنگ سینٹر اور دیگر یونٹس کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعاون میں مکمل طور پر تعاون فراہم کرے گا۔پاکستان مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان سب سے اہم پل ہے۔

پاکستان چین سے 300میگا واٹ توانائی کے 4جوہری ری ایکٹر پہلے ہی درآمد کر چکا ہے جبکہ 2ہزار میگا واٹ کا ری ایکٹر تکمیلی مراحل میں ہے۔مارچ میں سی این این سی نے یورینیم اور تھوریم وسائل میں دو طرفہ تعاون کے حوالے سے سعودی جیوولوجی سروے کے ساتھ ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے تھے ، معاہدے کے تحت سی این این سی اگلے دو سال کے دوران سعودیہ میں نو ممکنہ علاقوں کی تلاش کرے گا ۔

مئی کے آخر میں سی این این سی نے کہا تھاکہ اس نے فیلڈ ورک مرحلے کو مکمل کیا اور مزید تحقیقات کے لئیممکنہ ا ہدف کے معدنی علاقوں کی نشاندہی کی۔15 جولائی کو کیمیائی انجنیئرنگ اینڈ میٹلریج کے سی این این سی بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز کے ساتھ سائنسی اور ٹیکنالوجی کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔اس معاہدے کے مطابق سمندری پانی سے یورینیم نکالنے کے لئے سعودی عرب اور چینی محققین دو سالہ تحقیقات کریں گے۔