بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مخالفین ہماری حکومت نہیں گرا سکتے ہیں ٗ پرویز خٹک

مخالفین ہماری حکومت نہیں گرا سکتے ہیں ٗ پرویز خٹک

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صوبے میں جب ہماری حکومت قائم ہوئی تو مولانا فضل الرحمن سمیت سب نے کہا کہ تھا کہ تین ماہ کے اندر اندر حکومت کوگرائیں گے۔ مگرا للہ تعالی کے فضل و کرم سے چارسال گزر گئے اور اب ہمارا آخری سال جاری ہے۔یہ لوگ ہمارے خلاف جتنی باتیں کرتے ہیں اور افواہیں پھیلاتے ہیں ہم اتنے ہی مضبوط ہوتے جا تے ہیں۔یہ لوگ کچھ بھی کرلیں ہماری حکومت نہیں گرا سکتے۔ ان میں وہ طاقت ہی نہیں ہے۔ ہمارے ساتھی ہمارے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے آدھے سے زیادہ ممبران میرے ساتھ ہیں۔ ان کی حمایت مجھے حاصل ہے یہ سب احمقوں کی جنت میں ہیں۔ ان کومعلوم ہے کہ یہ ایسی کوئی حرکت یہ نہیں کرسکتے۔ اگر یہ ایسی کوئی بھی حرکت کریں گے توان کی اپنی پارٹیوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو نہ پہلے کوئی خطر ہ تھا نہ آج کوئی خطرہ ہے اورنہ کل کوئی خطرہ ہوگا۔

تحریک انصاف کارکردگی کے بل بوتے پر عوامی قوت سے 2018 کے انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے نہ صرف خیبرپختونخو ا بلکہ چاروں صوبوں اور وفاق میں حکومت بنائیں گے اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔وہ حلقہ پی کے 16 کے علاقے مرہٹی بانڈہ میں اے این پی کے ویلج ناظم سرزمین خان کی اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پی ٹی ائی میں شمولیت جبکہ ڈاگئی میں مجاہد خان نائب ناظم ملک عالمزیب خان کی جانب سے دئیے گئے استقبالیوں کے موقع پر جلسوں سے خطاب اورزرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے اس موقع پر ضلع ناظم نوشہر ہ لیاقت خان خٹک وزیر اعلیٰ کے صاحبزاد اسحق خٹک، تحصیل کونسلر احد خٹک، سکندر خان، سرزمین خان ، ملک عالمزیب اور مجاہد خان نے بھی خطاب کیا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ جب سے تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت قائم کی۔ پہلے دن سے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا تھا کہ تین ماہ کے اندر اندر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت گرا دیں گے۔ مگر ان میں ہمت ہی نہیں ہے کہ وہ ہماری حکومت گرائیں یہ ساری افواہیں میڈیا پھیلا رہا ہے اگر میڈیا کے بس میں تو میں ایک دن بھی حکومت نہیں کرسکتا۔

انھوں نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں اور ہماری صوبائی حکومت کو کوئی مسلہ نہیں ہم معمول کے مطابق عوامی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہا کہ نہ تو جماعت اسلامی نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے وہ ہماری اتحاد ی جماعت ہے۔ اور وہ حکومت کاحصہ ہیں۔ ہم اکٹھے کام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور 2018 کے انتخابات میں بھی جماعت اسلامی ہمارے ساتھ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی کے دس ممبران کے حکومت سے نکل جانے کے باوجود اب بھی ہمارے پاس ارکان اسمبلی کی زیادہ تعدادکی حمایت حاصل ہے۔ خود پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہا کہ مجھے ساری دنیا جانتی ہے میر ا سب کچھ عوام کے سامنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں وہ کچھ شواہد سامنے لائیں زبانی کلامی الزامات تو سب پر لگتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حققیت یہ ہے کہ لوگوں کے ذاتی ایجنڈے اور مقاصد ہوتے ہیں جب ہم پورے نہیں کرسکتے تو وہ لوگ الزامات پر اترآتے ہیں۔ اور پھر میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت نے میرٹ شفافیت اور کرپشن کے خلاف جہاد کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ابتدا سے عمل شروع کیا ۔ جو آج تک جاری ہے اور جاری رہے گا۔ ٹھیکوں اور بڑے بڑے پراجیکٹ کے ٹھیکے ای ٹینڈرنگ سے دئیے جارہے ہیں اس لیے کچھ لوگوں کو تکلیف ہے کمیشن کرپشن کوہم نے فل سٹاپ لگا دیا ہے۔ میرے خلاف اگر کسی کے پاس کرپشن کے کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائیں مجھ پر پہلے دن سے کرومائیٹ کے لیز اور ٹھیکوں کاالزام لگایا جارہا جس میں حقیقت نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کرومائیٹ کی لیز کے حوالے سے مجھ پر الزام لگارہے ہیں یہ سب کوپتہ ہے کہ یہ لیز کب اور کونسی حکومت میں دی گئی۔میرا اس کرومائیٹ کی لیز کے ساتھ نزدیک کاکوئی واسطہ نہیں اورنہ میں نے کسی کزن کو اس کاٹھیکہ دیا ہے۔ میرے کزن سابق وزیر اعلیٰ نصر اللہ خان خٹک اور اس کے بھائی لطیف خان خٹک تھے جو اس فانی دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں۔ ایسے الزامات لگا کر یہ اپنی شکست سے ڈر رہے ہیں۔ یہ کبھی عمران خان کو بدنام کرنا چاہتے اور کبھی میرے خلاف غلط اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں 2018 کے انتخابات میں ان کو منہ کی کھانی پڑے گی۔میں پہلے بھی کرایہ کے گھر میں تھا اور اقتدار کے ختم ہوتے ہی میں واپس کرایہ کے گھر میں جاؤں گا۔ میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں ۔ میری جو کمرشل جائیدا د ہے اس سے کرایہ لیکر اپنا گزر اوقات کرتاہوں میں نے جب سے سیاست شروع کی اپنے صوبے میں کوئی کار وبار یا ٹھیکہ نہیں کیامیرے بیٹے دوسرے صوبوں میں محنت مزدور ی کرتے ہیں۔میری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے اور میں سب کومعلوم ہوں۔ اوریہی وجہ ہے کہ نوشہرہ کے عوام نے مجھ پر اورمیرے خاندان پر ہمیشہ اعتماد کیا ہے۔ مجھے تین بار صوبائی وزیر ضلع ناظم اور اب وزیر اعلیٰ بنایا۔ میرے بھائی کوایم پی اے ، اوراب ضلع ناظم منتخب کرویا۔ ڈاکٹر عمران خٹک کوممبر قومی اسمبلی منتخب کروایا۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت ملی۔ تین تحصیلوں اور ضلعی حکومت پی ٹی آئی نے بنائی۔ میں نوشہرہ کے عوام کایہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا ہے ترقیاتی فنڈ عوام کاحق ہے یہ عوام پر خرچ ہوتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے نظام کی تبدیلی کے لے ووٹ مانگا تھا۔

ہم اپنے منشور پر من وعن عمل کررہے ہیں پی ٹی ائی کے چیرمین عمران خان ہماری بہتر ین رہنمائی کررہے ان کی تمام توجہ غریب عوام پر ہے ۔ اوریہی وجہ ہے کہ صوبے میں تعلیمی اصلاحات، تھانہ پٹوا رکلچر صحت کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج عوام کو جو تھانہ پٹوار خانوں میں جو عزت مل رہی ہے۔ وہ پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی تحریک انصاف میں جوق درجوق شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تحریک انصاف اپنی مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے میرٹ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے میرٹ پر اساتذہ ، ڈاکٹرز ، پولیس اہلکار بھرتی کیے۔ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سابقہ ادوار میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا گیا۔ جس کی وجہ سے غریب کی حالت زندگی بہتر نہیں ہوئی ۔ سابقہ حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ آج ہماری حکومت کے خلاف کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگانے والے اپنے دور حکومت کو نہ بھولیں ۔ جب ہر طرف کرپشن اور کمیشن کا بازار گرم تھا۔ تقرریوں اور تبادلوں کی سرعام قیمتیں وصول کی جاتی۔ میرٹ انصاف نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ مگر جب سے صوبے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت برسراقتدارآئی ہے۔ کرپشن اور کمیشن کو فل سٹاپ لگ چکا ہے۔ اور ہر کام میرٹ اور انصاف پر کیا جارہا ہے۔ اور انشاء اللہ 2018 کے انتخابات میں عوامی قوت سے نہ صرف خیبرپختونخوا ، چاروں صوبوں اور وفاق میں حکومت بنا ئیں گے۔ عوام کی نظریں عمران خان پر لگی ہوئی ہیں۔ پرویز خٹک نے مصری بانڈہ میں کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔اور مڈل سکول مرہٹی بانڈہ اور ڈاگئی کو ہائی کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا۔