بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ایک اورتاریخی فیصلہ

ایک اورتاریخی فیصلہ

وزیر اعظم پینتالیس دنوں کا ہو یا پینتالیس مہینوں کا‘ نیا نویلا ہو یا پرانا ‘ اچھا ہو یا برا اسکی معزولی ہر حال میں ایک تاریخی فیصلہ ہو تا ہے اس فیصلے کو کسی بھی صورت ایک معمولی‘ غیر اہم یا غیرتاریخی نہیں کہا جا سکتا ہر وزیر اعظم اپنے ملک کا چہرہ‘ پہچان اور عزت و افتخار ہوتا ہے اسے طاقت‘ اقتدار اور اختیار کا منبع سمجھا جاتا ہے وہ صرف ایک شخص نہیں ہوتا ایک ادارہ بھی ہوتا ہے اسے لوگوں نے عزت و احترام اور مقام و مرتبے سے نوازا ہوتا ہے وہ ایک طویل اور پیچیدہ سیاسی عمل سے گزر کر اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوتاہے وہ کٹھن اور دشوار لمحوں میں قوم کی رہنمائی کرتا ہے اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ وہ اگر کرپٹ ہو اور اسکے ہاتھ کردہ یا ناکردہ گناہوں سے آلودہ ہوں تو اسکے ساتھ کیا سلوک کیا جائے وہ جو بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں یا وہ جو کسی راندۂ درگاہ مجرم سے کیا جاتا ہے اس سوال کا جواب ہرملک میں مختلف ہے مغربی جمہوریتوں میں صدریاوزیراعظم کی برطرفی کا طریقہ کار اگر چہ کہ یکساں نہیں مگر یہ تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کو صرف اور صرف پارلیمنٹ ہی برطرف کر سکتی ہے برطانیہ ‘ کینیڈا اور امریکہ نے یہ اختیار صرف عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو دیا ہوا ہے ان تینوں ممالک میں عدالت عظمیٰ عوام کے اس بنیادی حق میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی امریکی آئین Separation of Power یعنی طاقت کی تقسیم کے اصول کو تسلیم کرتا ہے برطانیہ اور کینیڈا کے آئین اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے لیکن تینوں مما لک حکومت کے سربراہ کی برطرفی کا اختیارپارلیمنٹ کے علاوہ کسی بھی دوسرے ادارے کو نہیں دیتے برطانیہ میں جس آخری وزیراعظم کا مواخذہ کیاگیاتھا اسکا نام Warren Hastings تھا اور اسکا مقدمہ 1787 سے 1795 تک چلتا رہا تھا آٹھ سال پر پھیلے ہوئے اس اعصاب شکن مرحلے سے گزرنے کے بعد برطانوی عوام نے دو سو بائیس برسوں میں کسی بھی وزیر اعظم کو مقدمہ چلا کر معزول نہیں کیا اگر کبھی ایسا کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو House of Commons اپنے منتخب کردہ لیڈر کو ووٹ کے ذریعے اکثریت سے محروم کر کے معزول کر دیتا ہے۔ کینیڈا میں کبھی بھی کسی وزیر اعظم کو معزول نہیں کیا گیا اس ملک میں اس ناخوشگوار کام کیلئے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے وزیر اعظم کو اکثریت سے محروم کرنے کے بعد برطرف کیا جاتا ہے امریکہ میں صدر بل کلنٹن کے خلاف ایوان نمائندگان (House) میں مواخذے کا بل انیس دسمبر8 199کو پیش کیا گیا تھا اسکی وجہ Paula Jones نامی ایک خاتون کا امریکی صدر پر Sexual Harassment یا جنسی طور پر ستانے کا الزام تھا یہ مقدمہ اس نے عدالت میں پیش کیا تھا مگر ایوان نمائندگان نے ایک آزاد تفتیشی افسر Kenneth Starکو اس معاملے کی تفتیش کیلئے مقرر کیا اس نے صدر بل کلنٹن پر Perjury یعنی دروغ حلفی یا عہد شکنی اور Obstruction of Justice یعنی انصاف کے حصول میں مداخلت کے دو مزید الزامات عائد کر دئیے۔

بعد ازاں اس میں مونیکا لیونسکی کیساتھ صدر کلنٹن کے جنسی تعلقات کا مقدمہ بھی شامل کر لیا گیا ہاؤس کی قائم کردہ عدالتی کمیٹی نے کینتھ سٹار کے پیش کردہ ثبوتوں کو کافی قرار دیتے ہوئے اسے ووٹنگ کیلئے پیش کردیا اسکے نتیجے میں صدر کلنٹن کو ہاؤس نے سادہ اکثریت سے معزول کرنے کی سفارش کر دی اس سے پہلے 1868 میں ہاؤس نے صدر انڈریو جیکسن کو معزول کیا تھا صدر رچڑد نکسن نے واٹر گیٹ سکینڈل میں 1974 میں مواخذے کی کاروائی کے دوران استعفیٰ دیدیا تھا بل کلنٹن کا کیس ہاؤس کے بعد جب بارہ فروری 1999 کو سینٹ میں ووٹنگ کیلئے پیش ہوا تو وہاں اسکی منظوری کیلئے دو تہائی اکثریت درکار تھی جو کہ ری پبلکن پارٹی کو میسر نہ تھی سو سینیٹرز میں سے صرف پچپن نے صدر کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا جو کہ کافی نہ تھا اور یوں صدر کلنٹن ہاؤس سے برطرفی کی سفارش کے باوجود معزول ہونے سے بچ گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے حکومت کے سربراہ کو معزول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا امریکہ میں طاقت کی تقسیم کے اصول پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ایک ریاستی ادارہ دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا اس اصول کی تہہ میں یہ بات ہے کہ ہر ریاستی ادارہ بے پناہ طاقت رکھتا ہے وہ اپنی طاقت اگر دوسرے اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیگا تو ریاست نفاق و انتشار کا شکار ہو جائیگی اور معاشرہ کئی دھڑوں میں تقسیم ہو جائیگا عدالت عظمیٰ اگر صدر کو برطرف کرنا شروع کر دے اور فوج عدالت کے معاملات میں مداخلت کرنے لگے انتظامیہ بھی فوج کے ساتھ ملکر صدر کو برطرف کرنے کا شوق پورا کرنے لگے اور صدر محض تماشائی بن کر رہ جائے تو عوام کے مسائل دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ریاست کا پہیہ جام ہو جائیگا۔آجکل صدر ٹرمپ پر امریکہ کے ازلی دشمن روس کیساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانیکا الزام بڑے شدو مد کیساتھ لگایا جا رہا ہے اس مقدمے کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف اسوقت ہاؤس اور سینٹ کی دو الگ الگ کمیٹیاں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ انکے بیٹوں‘ داماد اور ساتھیوں میں سے کسی نے گذشتہ سال کے انتخابات جیتنے کیلئے روس کی مدد تو حاصل نہیں کی تھی اسی معاملے کی تحقیقات کیلئے جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے ایک آزاد وکیل Robert Muller جو کہ طویل عرصے تک ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں کی سربراہی میں الگ تفتیشی کمیٹی قائم کی ہوئی ہے۔

مگر صدر ٹرمپ کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے ہیں وہ ہر روز اپنی صبح کا آغاز دو چار ٹویٹس سے کرتے ہیں اور جو جی میں آئے لکھ ڈالتے ہیں اسوقت وہ میڈیا اور واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ دونوں کیساتھ بیک وقت حالت جنگ میں ہیں انکی اس ہٹ دھرمی کی اصل وجہ وہ زبردست طاقت ہے جو امریکی آئین نے انہیں دے رکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ فوج ‘ عدالت اور انتظامیہ انکے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتی کانگرس کے دونوں ایوانوں میں انکی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے یہ اکثر یت اگر نہ بھی ہوتی تب بھی مخالفین کیلئے بیک وقت ہاؤس میں سادہ اور سینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا کوئی آسان کام نہ تھامغربی جمہوریتوں میں حکومت کے سربراہ کو برطرفی کی سزا سے اسلئے اتنا تحفظ دیا گیا ہے کہ صدر یا وزیر اعظم اپنے ملک کا چہرہ او ر پہچان ہوتا ہے اسکا گریبان عام آدمی کا گریبان نہیں ہوتا کہ ہر کس و ناکس اسکے چیتھڑے اڑا دے پاکستان میں چودہ وزیر اعظموں کو اگر سولہ مرتبہ فوج ‘ عدالت اور انتظامیہ نے معزول کیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں جمہوریت کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے وزیر اعظم کو کوئی ریاستی ادارہ حتیٰ کہ ایک عام شخص بھی عدالت میں صادق اور امین نہ ہونے کامقدمہ قائم کر کے معزول کروا سکتا ہے ایساوزیر اعظم محض ایک نمائشی سربراہ ہوتاہے جسے کسی بھی وقت برطرف کیا جا سکتا ہے یہ تماشہ ستر برس میں سولہ مرتبہ ہو چکا ہے اب اسکے بارے میں کہا جا سکتا ہے
فانی بس اب خدا کیلئے ذکر دل نہ چھیڑ
جانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا
میاں نواز شریف تیسری مرتبہ اس تاریخی فیصلے کے نتیجے میں معزول ہونے کے بعد اب مرزا غالب کی دانائی سے رجوع کرتے ہوئے پوچھ سکتے ہیں کہ
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے