بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / کردارکشی مناسب نہیں

کردارکشی مناسب نہیں

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی خاتون عائشہ گلالئی نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں وہ حیثیت حاصل کرلی ہے جسکاکوئی تصوربھی نہیں کرسکتاعائشہ گلالئی کے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک اوراپنی ہی جماعت کے دیگررہنماؤں کے خلاف لگائے گئے الزامات کے بعداب عدالتی اورپارلیمانی سطح پر جنگ شروع ہوگئی ہے اورنہ جانے پاناماکے ہنگامے کے بعدعائشہ گلالئی کے الزامات اب کیا رنگ دکھائیں گے مگرزیادہ ترسیاسی رہنما‘ تجزیہ کاراورناقدین اب عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات کامطالبہ کررہے ہیں عائشہ گلالئی کانام پہلی باراس وقت سننے میںآیاجب 1992-93 میں بی بی سی کی پشتوسروس نے ان کامحترم رحیم اللہ یوسفزئی کے ذریعے انٹرویوکیااس وقت غالباً عائشہ گلالئی چوتھی یاپانچویں جماعت کی طالبہ تھی اس مختصرمگرپہلے انٹرویومیں عائشہ گلالئی نے نہ صرف قومی سیاست میںآنیکی خواہش کا اظہار کیا بلکہ انہوں نے محترمہ بے نظیربھٹوکواپنی آئیڈیل شخصیت بھی قراردیا اور عین اس فیصلے کے مطابق انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی ہی میں شمولیت اختیارکی تاہم بعدمیں جب دیدہ اورنادیدہ قوتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کو دیوارسے لگایاتوملک کے طول وعرض بالخصوص غربت ‘بے روزگاری ‘پسماندگی‘ انتہاپسندی اور دہشتگردی کے مارے پختونوں کو عمران خان اور انکی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں گھپ اندھیرے کے بعدروشنی کی کرن دکھائی دی اور یوں عائشہ گلالئی کاشماربھی ان سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں میں ہوا جنہوں نے ملک کے بہتر مستقبل کی خاطراس جماعت میں شمولیت اختیار کی 2013کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ستارے بالکل اس طرح چمکے جیسے2002 میں متحدہ مجلس عمل کے چمکے تھے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھاکہ تحریک انصاف کواتنی پذیرائی ملے گی اوراس پذیرائی کے نتیجے میں عائشہ گلالئی کاشماربھی گنتی کی ان چند خواتین میں ہواجن کومخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی ممبرشپ مل گئی۔

کوئی مانے یانہ مانے مگر اپنی کامیابی کے بعدعائشہ گلالئی نے جس طریقے سے پارٹی پالیسی کی وکالت کی اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی نہ صرف عوامی اورپارلیمانی سطح پربلکہ ذرائع ابلاغ میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ہرایک فیصلے کانہ صرف تحفظ کیابلکہ اپنی حریف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ترجمانوں کابھی مقابلہ کیا تاہم پارٹی کے بعض رہنماؤں اور عہدیداروں کیساتھ اختلافات کے باعث چندروزقبل عائشہ گلالئی نے نہ صرف پارٹی سے مستعفی ہونے کااعلان کیا بلکہ عمران خان‘ وزیراعلی پرویز خٹک اوردیگر رہنماؤں کیخلاف الزاما ت بھی لگائے عمران خان اوروزیراعلیٰ پرویزخٹک کیخلاف عائشہ گلالئی کے الزامات نئے نہیں اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے بیشتررہنماؤں نے دونوں رہنماؤں کیخلاف کچھ اس قسم کے الزامات لگائے ہیں الزامات لگانے والوںیاپارٹی پالیسیوں پرنکتہ چینی کرنے والوں میں ڈاکٹر شیریں مزاری ‘ فوزیہ قصوری ‘ محمدعلی ترکئی‘ داور خان کنڈی‘ ناصر خان خٹک یادیگر بااثر افرادبھی شامل تھے لہٰذا ردعمل میں خاموشی پراکتفاکیا گیا جبکہ عائشہ گلالئی کاتعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے لہٰذاردعمل میں نہ صرف عائشہ گلالئی بلکہ انکے والدین کوبھی نہیں بخشاجارہا حتیٰ کہ عائشہ کی چھوٹی بہن ماریہ تورپکئی جوسکواش کھلاڑی ہے پربھی الزامات کی بوچھاڑجاری ہے ہر شخص یافردکوعائشہ گلالئی کے سیاسی نظریات سے اختلاف کاحق حاصل ہے عمران خان یاوزیراعلیٰ پرویزخٹک کیخلاف لگائے گئے الزامات کی تردیدبھی کی جاسکتی ہے مگران الزامات کے جواب میں پچھلے چنددنوں سے نہ صرف سوشل میڈیابلکہ اخبارات اورنجی ٹیلی ویژنزکے ذریعے عائشہ گلالئی کی جس طریقے سے تضحیک کی جارہی ہے اس کے اثرات انتہائی خطرناک اوربھیانک ہوسکتے ہیں۔

کافی کاوشوں کے بعدملک کی آدھی آبادی یعنی خواتین کو پارلیمان تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور ایسانہ ہوکہ والدین یادیگر مرد رشتہ دارخواتین کوسیاسی جماعتوں میں سرگرمیاں ادا کرنے سے روک دیں یہ تواچھاہواکہ خیبرپختونخواکی مخلوط حکومت میں شامل جماعت اسلامی کے امیر سینیٹرسراج الحق نے عائشہ گلالئی کواپنی جماعت میں شامل ہونیکی دعوت دی ورنہ فوادچوہدری توعائشہ گلالئی پرپاکستان مسلم لیگ(ن)کے قائدین سے مبینہ طورپروصول کی جانے والی رقم میں دن بہ دن اضافہ کرنیکی پالیسی پرگامزن تھے عائشہ گلالئی پہلی شخصیت نہیں جنہوں نے سیاسی وفاداری بدلی یاپاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیارکی بلکہ روزانہ کی بنیادپرہزاروں لوگ وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں لہٰذا سیاسی وفاداری کی تبدیلی پرعائشہ گلالئی کی ذات‘ خاندان یاوالدین پرالزام تراشی کسی بھی طور مناسب نہیں‘سیاسی عمل پریقین رکھنے والوں کافرض بنتاہے کہ وہ عائشہ گلالئی جیسی بے باک‘ نڈرخاتون کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی ۔