بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / مری کا سیاحتی مقام

مری کا سیاحتی مقام

پچھلے دنوں جہاں مری میں چند دن گزارکر وہاں کے سیاحتی مقامات میں لگنے والی رونق اور ان مقامات کی ترقی اور وہاں دستیاب سہولیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا وہاں اسی اثناء سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ ہمارے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا باعث بنی ہے جس میں مری اور کالام کی سہولیات کاتقابل کرتے ہوئے ان دونوں سیاحتی مقامات کی مرکزی سڑکوں کا نظارہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں ایک جانب مری کی دورویہ بین الاقوامی معیار کی چمکتی دمکتی ایکسپریس وے دکھائی گئی ہے جبکہ دوسری طرف کالام کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال گرد وغبار سے اٹی ہوئی سڑک ہم سب کے ساتھ ساتھ تبدیلی والی سرکار کا منہ بھی چڑا رہی ہے مری ملک کے سب سے بڑے صوبے کا واحد گرمائی سیاحتی مقام ہے جہاں پنجاب حکومت نے تمام ممکنہ سہولیات بدرجہ اتم فراہم کر رکھی ہیں۔ راستہ اسلام آباد اور پنڈی سے ہو کر گزرتا ہے جسے کشمیر ہائی وے ،مری روڈ،مری ایکسپریس وے اورای 75کے ناموں سے جانا جاتا ہے اسلام آباد اور پنڈی کے مضافاتی علاقے بارہ کہو سے ہوتے ہوئے مری کی جانب جانے کیلئے کچھ عرصہ پہلے تک ایک ہی یک رویہ مرکزی شاہراہ تھی جو ان دنوں بھی مری روڈ کے نام سے مشہور ہے ‘یہ سڑک یک رویہ ہونے کے باوجود کافی کشادہ ہونے کیساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کی تمام سہولیات سے مزین ہے ‘ اس سڑک کا فاصلہ چونکہ نئی تعمیر شدہ ایکسپریس وے کی نسبت کم ہے اسلئے اب بھی اس پر ایکسپریس وے کی نسبت ٹریفک کا رش کئی گنا زیادہ ہے۔

اس پرانی اور روایتی شاہراہ پر ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کیلئے کچھ عرصہ قبل مری ایکسپریس وے تعمیر کی گئی ہے جو نہ صرف دورویہ ہے بلکہ اس میں موٹر وے کے بین الاقوامی معیار کی تمام ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔یہ ایکسپریس وے مری کے پہلو سے گزرتے ہوئے براستہ کوہالہ مظفر آباد تک گئی ہے جس کا مری اسلام آباد پورشن تو مکمل ہو چکا ہے البتہ مظفر آباد تک اس کی توسیع اور تعمیر پر کام جاری ہے۔نوے کلومیٹر فاصلے پر محیط اس ایکسپریس وے کو صاف ستھرا رکھنے کیساتھ ساتھ اس کی وقتاً فوقتاً مرمت کا خاطر خوا ہ انتظام ہونے کے باعث یہاں بحفاظت سفر کی جملہ تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔بھوربن کا پرل کانٹی نینٹل ہوٹل اور یہاں نوہولز پر مشتمل گالف کلب نیز یہاں کے گھنے سرسبز وشاداب جنگلات ہائیکنگ ٹریک اور خاص کر یہاں مختلف النوع پرندوں کی چہچہار اورٹھنڈے یخ بستہ پانی کے قدرتی چشمے یہاں کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ہیں۔

مری سے ایوبیہ اور نتھیا گلی کی جانب کے مناظر اور بھی زیادہ دلکش اور حسین ہیں۔اس جانب بھی سڑک کا معیار بہترین ہے ۔راستے میں بندروں کے غول ،زمین پر اترے ہوئے بادل ،لہلہاتی ہوئی ہوائیں اور تا حد نگاہ گھنے اور خوبصورت جنگلات قدرت کا حسین نظارہ پیش کرتے ہیں۔یہاں ایوبیہ کے نیشنل پارک‘ چیئر لفٹ‘ نتھیا گلی اور باڑہ گلی کے درمیان واکنگ ٹریک اور نتھیاگلی بازارکا تذکرہ نہ کرنا یقینازیادتی ہوگی اسی طرح مری کا ذکر کرتے ہوئے مال روڈکی خوبصورت دیسی اشیاء سے بھری ہوئی دکانوں‘ لذیذ کھانوں‘چائے اور کافی کیلئے مشہور ریستورانوں‘ یہاں کی تاریخی جامع مسجداور اس چھوٹے سے شہر میں قائم کئی تاریخی گرجا گھروں ‘پنڈی پوائنٹ اور پتریاٹکا کی چیئر لفٹ کی سیر اور راستے میں خوبصورت سدھائے ہوئے سفید اور بھورے گھوڑوں کی سواری کے ذکر کے بغیر مری کی سیر اور یہاں کی سیاحت کاحال احوال بیان کرنا ادھورا ہوگا سیاحوں کی سہولت کیلئے ہسپتالوں‘ ڈاک‘ بینکوں ‘ ریستورانوں‘ پارکس‘ ریڈنگ روم ‘کار پارکنگ‘ ٹریفک سسٹم اور سب سے بڑھ کر پرامن اور سیاح دوست ماحول کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے یہاں سال کے بارہ مہینے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کا رش بھی جوبن پرہوتا ہے۔مری کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ مقامی لوگوں کا سیاحوں کیساتھ انتہائی دوستانہ رویہ اور ہر مقامی فردچاہے وہ ٹیکسی ڈرائیور ہے،دکاندار،ویٹر ‘ پولیس کانسٹیبل ہے یا غبارے بیچنے والایہ سب بالاتفاق سیاحوں کومقامی روایات کے مطابق اپنا مہمان اور بزنس مینجمنٹ کے اصول کے تحت اپنا معزز گاہک سمجھ کر ڈیل کرتے ہیں اور شاید بہت ساری دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا مری کی جانب جھکاؤکا سب سے بڑاسبب یہی سیاح دوست رویہ ہے ۔