بریکنگ نیوز
Home / کالم / انصاف وجمہوریت کولاحق خطرات؟

انصاف وجمہوریت کولاحق خطرات؟

کیا پاکستان میں احتساب بذریعہ آئینی عمل سے جمہوری نظام خطرے میں ہے؟ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کے کہنے سے الگ تاثر ملتا ہے جو کہتے ہیں کہ انتظامیہ‘ عدلیہ اور پارلیمنٹ کو آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے اور موجودہ صورتحال میں سب سے کمزور ادارہ پارلیمنٹ کا ہے جو چاہتا ہے پارلیمنٹ پر چڑھائی کر دیتا ہے‘ کبھی پارلیمنٹ کو مارشل لاء کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے اور آج کل آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایگزیکٹو اتھارٹی پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوتی ہے‘ جمہوری قوتوں نے آمر کیخلاف جدوجہد کی اور اٹھاون ٹو بی کو ختم کیا۔ اب ایک اور طریقہ سامنے آگیا ہے۔‘‘ چیئرمین سینٹ نے پاکستان میں پارلیمان کے کمزور ہونے کا جو رونا گزشتہ روز کوئٹہ کی تقریب میں رویا‘ اس کی بنیاد ملک میں پارلیمانی جمہوری آئین کے نفاذ کا کریڈٹ لینے والے ذوالفقار علی بھٹو نے ہی رکھی تھی جنہوں نے آئین میں یکے بعد دیگرے سات ترامیم منظور کراکے منتخب سول حکمرانوں کو اپنے آمرانہ اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی من مرضی کی آئینی ترامیم کرنے کا راستہ دکھایا تھا۔ بھٹو مرحوم کے اس طرز عمل نے ہی اسمبلی کے اندر اور باہر حزب اختلاف کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجہ میں اپوزیشن اتحاد ’پی این اے‘ تشکیل پایا جس کے پلیٹ فارم پر متحدہ اپوزیشن نے پیپلزپارٹی کے مقابلہ میں 1977ء کا انتخاب لڑا‘ اور پھر اِن عام انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام لگا کر بھٹو کیخلاف متشدد تحریک شروع کر دی گئی‘ جس سے جواز پاکر اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت اور پارلیمنٹ کا دھڑن تختہ کر دیا اور 1973ء کا آئین معطل کرکے ’پی سی اُو‘ نافذ کردیا۔

اس کے ماتحت ہی انہوں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کیساتھ صدر مملکت کا منصب بھی سنبھال لیا اور اسی عبوری آئینی حکم نامہ کے تحت انہوں نے 1985ء کے غیرجماعتی عام انتخابات منعقد کرائے جسکے ذریعے تشکیل پانیوالی اسمبلی میں آٹھویں آئینی ترمیم منظور کراکے 1973ء کا آئین بحال کیا گیا اور اس میں دفعہ اٹھاون ٹو بی شامل کرکے صدر کو حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنیکا صوابدیدی اختیار سونپ دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے اس اندھے آئینی اختیار کی تلوار 1988ء میں جونیجو کی حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنیکی صورت میں چلائی۔ بدقسمتی سے مفاد پرست سیاستدانوں کی جانب سے طائع آزماؤں کے اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنا ادنیٰ سا حصہ وصول کرنے کی خاطر انہیں اپنا کندھا فراہم کرنے کی روش نے ہی طالع آزماؤں کو آئین اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا موقع فراہم کیا چنانچہ پارلیمان کو کمزور کرنے اور جرنیلی و سول آمروں کیلئے مرغ دست آموز بنانے کا موقع بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ہمارے سیاست دان ہی فراہم کرتے رہے ہیں جس کے نظارے قوم نے آئین میں ترامیم کی صورت میں 1985ء کی اسمبلی کے بعد مشرف کی جرنیلی آمریت میں تشکیل پانے والی 2002ء کی اسمبلی میں بھی دیکھے جبکہ میاں نوازشریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں صدر غلام اسحاق کے ہاتھوں ان کے اٹھاون ٹو بی والے صوابدیدی اختیار سے ڈسے جانے کے بعد اپنے دوسرے اقتدار میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے زور پر صوابدیدی صدارتی اختیار والی اس ترمیمی آئینی دفعہ کو آئین پاکستان سے بیک قلم چاک کرادیا اور اس وقت کی حزب اختلاف پیپلزپارٹی نے بھی اس عمل میں ان کا ساتھ دیا۔

منتخب سول حکومتوں کو ماورائے آئین اقدامات کے تحت چلتا کرنے کے اسٹیبلشمنٹ کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف میں میثاق جمہوریت کی سوچ پیدا ہوئی تھی مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد تشکیل پانے والی پیپلزپارٹی کی حکومت کے ہاتھوں ہی میثاق جمہوریت کی دھجیاں بکھیر دی گئیں‘ اس کے باوجود میاں نوازشریف نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے منتخب سول حکمرانیوں کو محلاتی سازشوں سے بچانے کے لئے حکمران پیپلزپارٹی کے ساتھ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اتفاق کیا‘ جس کے تحت ایگزیکٹو کے اختیارات وفاق اور صوبوں میں تقسیم کئے گئے مگر سید سجادعلی شاہ کے ذریعے بروئے کار لایا جانے والے عدلیہ کی فعالیت کا ہتھیار جسٹس افتخار چودھری کے ذریعے پھر سول حکمرانیوں کے سروں پر لٹکا دیا گیا جس کیلئے سول معاشرت کی خاطر مسلم لیگ (نواز) اور پیپلزپارٹی کے قائدین نے عدلیہ بحالی کی تحریک چلا کر خودہی راہ ہموار کی تھی۔سول معاشرت سے وابستہ سیاستدان اپنے اس جرم کی سزا ہی آج پارلیمنٹ کو عدلیہ کے تابع کرنے کی منظم حکمت عملی کی صورت بھگت رہے ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر نواب سہروردی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)