بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / تختیاں لگانے والوں کا تختہ ہو گیا ٗبلاول بھٹو

تختیاں لگانے والوں کا تختہ ہو گیا ٗبلاول بھٹو


چترال۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو تختیاں لگانے کا بہت شوق ہے ، میاں صاحب کا تختیاں لگاتے لگاتے تختہ ہوگیا ، میاں صاحب جن آرٹیکلز پر نااہل ہوئے وہ ضیاء الحق نے آئین میں شامل کئے تھے ، بار بار کہا کہ یہ آرٹیکلز ایک آمر نے غیر آئینی طور پر آئین میں شامل کئے میاں صاحب ان آرٹیکلز کو اپنے بڑوں کی نشانی سمجھ کر سنبھالتے رہے ۔

میاں صاحب آپ کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا ، قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینا ہوگا ، میاں میاں صاحب خوش نہ ہوں کہ آپ کی جان بچ گئی ،میاں صاحب اور خان صاحب ایک سکے کے دو رخ ہیں ، میاں صاحب نے سیاست کو کاروبار اور خان صاحب نے گالی بنا دیا ہے ، خان صاحب کہاں ہے آپ کی تبدیلی ؟ آپ نے کیا نیا کردیا ، خیبرپختونخوا میں نوجوان بے روزگار بھٹک رہے ہیں ، کہاں ہے آپ کا نیا خیبرپختونخوا ، کیا تبدیلی لے کر آئے آپ،خان صاحب آپ کے وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں ،الزامات ہم نہیں آپ کے ہی وزیر لگا رہے ہیں ، کہاں ہے آپ کا احتساب کمیشن ؟ ن صاحب ، آپکی سیاست کا محور الزامات لگانا اور گالی دینا ہے۔

خیبرپختونخوا میں کرپشن سے عمران خان کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چل رہا ہے ، ہم انگلی کے اشارے کے منتظر نہیں رہتے ، خان صاحب میرے والد پر الزام لگا رہے ہیں ، ، عمران چاچا 2018میرا پہلا اور آپ کا آخری الیکشن ہوگا ۔وہ ہفتہ کو چترال میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کے درمیان میں ہوں جنہوں نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا ، میں آج یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں لیکن یہاں کے لوگ میرے لئے اجنبی نہیں ، چترال میرا دوسرا گھر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں کالجز کی بنیاد رکھی ۔

پیپلزپارٹی نے ہمیشہ چترال کو اہمیت دی ۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لوگوں کی خدمت کی ، چترال میں آج بھی گندم پر سبسڈی دی جاتی ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری بھی چترال کو نہیں بھولے ، گزشتہ دنوں نااہل وزیراعظم نے نامکمل لواری ٹنل کا افتتاح کیا ، اپنے نام کی تختی لگائی ، کیا کریں میاں صاحب کو تختیاں لگانے کا بہت شوق ہے ، میاں صاحب کا تختیاں لگاتے لگاتے تختہ ہوگیا ، میاں صاحب جن آرٹیکلز پر نااہل ہوئے وہ ضیاء الحق نے آئین میں شامل کئے تھے ، بار بار کہا کہ یہ آرٹیکلز ایک آمر نے غیر آئینی طور پر آئین میں شامل کئے ۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا ، قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینا ہوگا ، میاں صاحب ان آرٹیکلز کو اپنے بڑوں کی نشانی سمجھ کر سنبھالتے رہے ، میاں صاحب خوش نہ ہوں کہ آپ کی جان بچ گئی ۔میاں صاحب نے اداروں کو کمزور کیا ، آپ نے سیاست نہیں کاروبار کیا ، ایک طرف میاں صاحب ہیں دوسری طرف خان صاحب ہیں ، میاں صاحب اور خان صاحب ایک سکے کے دو رخ ہیں ، میاں صاحب نے سیاست کو کاروبار اور خان صاحب نے گالی بنا دیا ہے ، خان صاحب کہاں ہے آپ کی تبدیلی ؟ آپ نے کیا نیا کردیا ، خیبرپختونخوا میں نوجوان بے روزگار بھٹک رہے ہیں ، کہاں ہے آپ کا نیا خیبرپختونخوا ، کیا تبدیلی لے کر آئے آپ ۔

بلاول نے کہا کہ خان صاحب آپ کے وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں ،الزامات ہم نہیں آپ کے ہی وزیر لگا رہے ہیں ، کہاں ہے آپ کا احتساب کمیشن ؟ آپ نے 60کروڑ روپے احتساب کمیشن پر خرچ کر دیے ، کہاں ہے وہ احتساب ، خان صاحب آپ پورے ملک کی عوام سے جھوٹ بولتے ہیں ، خان صاحب ، آپکی سیاست کا محور الزامات لگانا اور گالی دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن سے عمران خان کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چل رہا ہے ، خان صاحب اگر تبدیلی لائے ہیں تو ضمنی انتخابات میں آپ کو کیوں مسترد کیا گیا؟ سوا سال پانامہ کیس اور اب دوسرا گٹر کھل گیا ہے ، کیا وجہ ہے کہ پڑھی لکھی خواتین تحریک انصاف چھوڑ کر جارہی ہیں ، آزادی کشمیر کے وزیراعظم کس بیان غلط تھا ، اختلاف کیا جا سکتا تھا لیکن وزیراعظم کو جلسے میں کیسے گالی دی جاسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو ایک شخص نہیں جدوجہد ، فلسفہ اور نظریے کا نام ہے ، ہم انگلی کے اشارے کے منتظر نہیں رہتے ، خان صاحب میرے والد پر الزام لگا رہے ہیں ، اپنے والا کا بھی تعارف کرائیں ، عمران چاچا 2018میرا پہلا اور آپ کا آخری الیکشن ہوگا ،میں جانتا ہوں کرپشن اس ملک کا مسئلہ ہے ، ایک ناسور ہے ، احتساب پر یقین رکھتا ہوں ، احتساب ہونا چاہیے مگر احتساب سب کا ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہ اکہ آج کل نیا فیشن شروع ہوگیا ہے کہ سیاسی پارٹی جلسوں میں فیصلوں سے زیادہ ججز پر بات کرتے ہیں ، اصغر خان کیس کا کیا ہوا؟ بھٹو ریفرنس کیس بھی زیر التوا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا ۔