بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سارا تماشہ دیکھا رہا ہوں مگر خاموش ہوں ٗ نواز شریف

سارا تماشہ دیکھا رہا ہوں مگر خاموش ہوں ٗ نواز شریف

اسلام آباد۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ بیٹے سے پیسے نہ لینے پر سزا سمجھ سے بالا تر ہے ٗ کسی وزیراعظم کے ساتھ اس سے بڑا اور کیا مذاق ہوسکتا ہے ٗجس نے 2 مرتبہ آئین کوپامال کیا اس کوکسی عدالت نے پکڑا اور سزا دی؟ کیا کوئی ایسی عدالت ہے جو اس ڈکٹیٹر کو سزا دے سکے؟مجھے2007 میں وطن واپسی سے پہلے مشرف سے ملانے کی بہت کوشش کی گئی ٗ میں نے پرویز مشرف سے ملنے سے انکار کردیا ۔

آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہوں ٗ میثاق جمہوریت بہتر بنانا ہے تو تیار ہوں ٗ ماضی کا ڈکٹیٹر کہتا ہے جمہوریت سے ڈکٹیٹرشپ بہتر ہے ٗپاکستان آنے کی جرات نہیں ٗ یہاں آئے اور پبلک میں بات کرے تو اس کو پتا چلے ٗجمہوریت سے دائیں بائیں ہوئے تو خدانخواستہ انتشار پیدا ہوگا، ملک جمہوریت پر قائم رہے گا تو سلامت رہے گا ٗ نیب میں بد عنوانی کے کیس جاتے ہیں ٗ پہلا کیس ہے جس میں ہمارے باپ داداد کی کمپنی کی تحقیقات کی جارہی ہیں ٗ بہت کچھ سمجھ آرہا ہے ٗ کہنا چاہتا ہوں لیکن ابھی خاموش ہوں ٗکرپشن کک بیک یا سر کاری خزانے میں کرپشن کی ہوتی تو بات تھی ٗ ایک بیٹے نے پیسے باہر سے بھجوائے ٗ دوسرے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی ٗ اعتراض سمجھ سے بالا تر ہے ۔

پنجاب ہاؤس میں سنیئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ کوئی کرپشن، کک بیک یا سرکاری خزانے میں کرپشن کی ہوتی تو کوئی بات تھی لیکن کرپشن کا کوئی ایک بھی الزام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بیٹے نے پیسے باہر سے بھجوائے ٗدوسرے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اس پراعتراض بنانا سمجھ سے بالاتر ہے ٗ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لی ہی نہیں توریٹیرنزمیں فائل کرنے کی کیا تک ہے ٗبہت کچھ سمجھ میں آرہا ہے اور کہنا چاہتا ہوں لیکن خاموش رہنا چاہتا ہوں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے، کسی وزیراعظم کے ساتھ اس سے بڑا اور کیا مذاق ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے اور بچوں سے پوچھا جارہا ہے کہ کون سا پیسہ ہے جو ناجائز طریقے سے کمایا؟ نیب میں جوکیس جاتے ہیں وہ بدعنوانی کے ہوتے ہیں تاہم یہ پہلا کیس ہے جس میں نیب ہمارے باپ داد کی کمپنی کی تحقیقات کرنے جارہا ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ جب ہماری انڈسٹری کو بھٹو نے قومیایا تب میں سیاست میں بھی نہیں تھا ٗسوال تو ہمارا ہے کہ ہماراپیسہ لوٹ کھسوٹ کرکے کہاں لے گئے۔انہوں نے کہاکہ فیصلہ سن کر عمل کردیا لیکن خاموش ہوں ٗ میں نے تو اب تک کچھ بولا بھی نہیں ٗمیں رول آف لا پر یقین رکھنے والے بندہ ہوں اور جمہوریت کی مضبوطی پر یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے ترقی کا کام رکا ہو ٗمیں نے کوئی انتشار والی بات نہیں کی، ملک کیلئے ہمیشہ اچھا کام کیا، پاکستان سے کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جس پر کوئی شرمندگی ہو۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو اسٹاک مارکیٹ 19000 انڈیکس پر تھی فیصلہ سے پہلے انڈیکس54000 پوائنٹس تک پہنچاتھا، فیصلے کے بعد اسٹاک مارکیٹ جس طرح گری یہ بھی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک معاشی ترقی کی ڈگر پر چل رہاتھا ٗ عالمی میڈیا پاکستان کی ترقی کی بات کررہا تھا ٗ بجلی آناشروع ہوچکی تھی جو میرے لیے بڑا چیلنج تھا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کا ڈکٹیٹر کہتا ہے جمہوریت سے ڈکٹیٹرشپ بہتر ہے ٗجانے وہ کون سی دنیا میں رہتا ہے، پاکستان آنے کی جرات نہیں ٗ یہاں آئے اور پبلک میں بات کرے تو اس کو پتا چلے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیشہ قانون کی پاسداری کی بات کی ہے ٗمجھے2007 میں وطن واپسی سے پہلے مشرف سے ملانے کی بہت کوشش کی گئی تاہم میں نے پرویز مشرف سے ملنے سے انکار کردیا، پرویز مشرف کی مجھ سے ملنے کی شدید خواہش تھی کیونکہ وہ این آر او کرنا چاہتے تھے ٗمجھ سے کہا گیا یہ آپ کے مفاد میں ہے لیکن میں نے این آر او سے انکارکردیا۔نوازشریف نے کہاکہ میں نظریاتی آدمی بن چکا ہوں اور میرانظریہ مضبوط ہوچکا ہے ٗمیری ملک بدری ایک ٹھوکر تھی ٗانسان ٹھوکریں کھا کرسیکھتا ہے ٗہرشخص اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جس نے 2 مرتبہ آئین کوپامال کیا اس کوکسی عدالت نے پکڑا اور سزا دی؟ کیا کوئی ایسی عدالت ہے جو اس ڈکٹیٹر کو سزا دے سکے؟انہوں نے کہا کہ آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہوں اور اس پر آج بھی عمل ہوسکتاہے، میثاق جمہوریت بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت سے دائیں بائیں ہوئے تو خدانخواستہ انتشار پیدا ہوگا، ملک جمہوریت پر قائم رہے گا تو سلامت رہے گا۔نوازشریف نے کہاکہ یہ کس کا کیا دھرا ہے ٗیہ کیاہورہا ہے، یہ ملک کی بدنصیبی ہے ٗگالم گلوچ کا جواب نہیں دیا نہ وہ زبان استعمال کی، پاکستان کی سیاست کو اچھی سمت میں لے جاناچاہتاہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں تنہائی کا شکار نہیں ٗ جو بات جتنی کہنی ہے وہ کہہ رہا ہوں نوازشریف نے کہاکہ ماضی کا ڈکٹیٹر کہتا ہے جمہوریت سے ڈکٹیٹرشپ بہتر ہے ٗجانے وہ کون سی دنیا میں رہتا ہے، پاکستان آنے کی جرات نہیں ٗ یہاں آئے اور پبلک میں بات کرے تو اس کو پتا چلے۔نوازشریف نے کہا کہ میں وزیراعظم بن کربھی زرداری صاحب کے پاس گیا ٗجب زرداری صاحب ریٹائر ہوئے تو اچھے انداز سے رخصت کیا۔

انہوں نے کہاکہ ملک جب ٹوٹا تو سب روئے کیا ہم نے سبق سیکھا، یہاں اکبر بگٹی کو بے دردی سے مارا گیا لیکن آہستہ آہستہ لوگ سب سمجھ جائیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی کا خاتمہ ٗ کراچی میں کی صورتحال کیا تھی ہم نے وہاں امن قائم کیا اور معاشی صورتحال بہتر کی ٗ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے ۔ نواز شریف نے کہاکہ میں جی ٹی وی روڈ سے لاہور جانے کا حامی تھا لیکن سکیورٹی والوں نے منع کیا ہے آج یا کل نہ گیا تو چند روز میں جی ٹی روڈ سے لاہور جاؤنگا ۔