بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے ٗ پرویز خٹک

پاکستان کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے جو ہمارے اسلاف نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا جس کا مقصد منصفانہ نظام پر مشتمل اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا ۔بدقسمتی سے سیاسی مجرموں اور کرپٹ مافیا نے اسے تباہ کر ڈالا ۔ذاتی مفادات کی لالچ میں پاکستان کو کھربوں روپے کا مقروض بنا دیا گیا ہے۔پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے جس کے ذمہ دارکرپٹ حکمران ہیں۔

پاکستان مزید لوٹ مار اور اداروں پر سیاست بازی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔اگر دُنیا کے مقابلے میں جانا ہے تو نظام کی تبدیلی اور کرپشن کی بیخ کنی واحد حل ہے ۔ اب قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ بے ایمان اور کرپٹ مافیا کا غلام بن کر رہنا ہے یا پھر ایماندار قیادت کا انتخاب کرنا ہے ۔پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے ایماندار قیادت اور منصفانہ نظام واحد راستہ ہے بصورت دیگر ہم آئندہ 50 سال بھی بہتری کی طرف نہیں جا سکتے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدرشی ضلع نوشہرہ میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ضلع ناظم لیاقت خٹک، توصیف خان، منظور خان اور شہاب خان نے بھی جلسے سے خطاب کیاجبکہ اسحاق خٹک، اشفاق خٹک ، تاج الملک اور دیگر ضلعی و تحصیلی ممبران بھی ا س موقع پر موجود تھے ۔جنرل کونسلر وارڈ II شہاب خان ،دولت خان، بنارس خان، داؤر خان ، عدنان خان، کامران خان، عرفان خان، صدام خان، عارف خان، طاہر ، افسر خان، فضل جان، فرحان خان، قیصر خان، فرحان گلزار ، توصیف خان، حارث خان اور ارشد خان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک میں شامل ہونے والوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہا انہوں نے پاکستان کے دگر گوں حالات ، موجودہ صدی کے تقاضوں اور ایماندار قیادت کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوانوں کو ملکی سلامتی اور بقاء میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان بنیادی طور پر ایک کمزور ملک نہیں تھا اﷲ کے فضل سے یہ ایک بہترین جغرافیائی حیثیت کا حامل ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ۔

افسوس اس بات پر ہے کہ اسے مخلص قیادت نہ ملی جو اس کی ترقی کی سمت کا تعین کر سکے جو بھی آیا اُس نے قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ بہت سے ممالک پاکستان کے بعد معرض وجود میں آئے مگر ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے۔پاکستان کے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہنے کی وجہ یہی ہے کہ یہاں اداروں پر سیاست بازی کی گئی ۔اداروں کی تباہ حالی سے تکلیف غریب کو ہوتی ہے ۔ سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور مافیاز کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کرپٹ مافیا کے دھندے کی تو بقاء ہی اداروں کی تباہی میں ہے اُس کو غریب کی کیا فکر ہے ۔

ایوب خان کے بعد جتنے حکمران آئے انہوں نے کرپشن اور لوٹ مار کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا۔ اداروں کو کمزور کیاجس کے نتیجے میں ہم چین ، ملائشیا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے بھی پیچھے رہ گئے۔پاکستان تحریک انصاف نے تباہی کے اس سیلاب کو روکنے کیلئے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ظالم نظام سے تنگ عوام نے تحریک انصاف کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ۔ صوبائی حکومت نے تبدیلی کے منشور کے تحت گزشتہ چار سالوں میں نظر آنے والے اقدامات کئے اور دوسری طرف قومی سطح پر لوٹ مار کے خلاف تاریخی جدوجہد کی ۔

صوبائی حکومت اس مختصر وقت میں سو فیصد نہ سہی مگر ترقی کی سمت کا تعین کر کے ایک منصفانہ نظام کیلئے دیر پا اصلاحات کی بنیاد رکھ چکی ہے ۔کمزوریاں اب بھی موجود ہیں مگر فرق واضح ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کو ٹھیک کئے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرپشن کے خلاف تحریک انصاف کی کامیابیوں اور صوبائی حکومت کی کرپشن مخالف اصلاحات کی وجہ سے مخالفین سخت پریشان ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت اور صوبائی حکومت کے خلاف عجیب و غریب پروپیگنڈے شروع ہیں جس کو کام کرنے کا کہیں وہ الزام تراشی پر اُتر آتا ہے ۔ہماری نیت صاف ہے اور ایمانداری سے کام رہے ہیں کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم ایک پالیسی کے تحت چل رہے ہیں۔ ذاتی پسند و ناپسند کی ہمارے سسٹم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

پرویز خٹک نے کہاکہ وہ نفرت کی سیاست کو پسند نہیں کرتے انہوں نے 30 سال ایمانداری سے سیاست کی ہے ۔ الزامات لگانے والوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ پرویز خٹک نے سرکاری خزانے سے اپنی ذاتی ایک گلی یا ایک نالی تک بھی نہیں بنائی ۔ہمارے قانون میں غلط کاری اور دو نمبری کی گنجائش نہیں یہ عوام کا پیسہ ہے اُس کا غلط استعمال نہ خود کرتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے سے موجود ڈھانچے کو فعال بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔تباہ حال شعبہ تعلیم کو ٹھیک کیا ۔40 ہزار اساتذہ بھرتی کئے اب صوبے بھر میں اساتذہ موجود ہیں جو کمی رہ گئی اس سال پوری ہوجائے گی ۔

اسی طرح یہ واحد صوبہ ہے جس کے ہسپتالوں میں 100 فیصد ڈاکٹر موجود ہیں۔ ہسپتالوں میں خراب مشینری کو ٹھیک کرکے استعمال کرنے کے قابل بنایا ۔صحت انصاف کارڈ کو 24 لاکھ خاندانوں تک توسیع دے رہے ہیں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ۔2018 میں عوام کو اے ون ہسپتال دیں گے ۔ہم نے پولیس کو اختیارات دیئے اور تھانوں میں غریب کی عزت بحال کی ۔پہلے سیاسی بنیادوں پر تعیناتی ہوتی تھی اب میرٹ پر بھرتیاں ہو رہی ہیں۔

خیبرپختونخو اپولیس پاکستان کی بہترین پولیس فورس ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے بے مثال قانون سازی کی ہے ۔ کرپشن کو لگام دینے کیلئے وصل بلوئر قانون منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ عوام ہمت دکھائیں تو اس قانون کے ذریعے کرپٹ مافیا کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے ۔ اگر عوام ساتھ نہیں دیں گے تو مطلوبہ نتائج کا حصول مشکل ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر شخص اپنی ذات کے حصار سے نکل کر قوم کا سوچے پھر دیکھیں۔

سیاستدان کیسے راہ راست پر آتے ہیں۔ بیروزگار ی کے خاتمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مقصد کیلئے زراعت کی ترقی اور کارخانوں کا فروغ ضروری ہے ۔بدقسمتی سے بد امنی کی وجہ سے سرمایہ کار یہاں نہیں آتے تھے ۔سابقہ حکومتیں اس ضمن میں بھی مجرمانہ خاموشی کا شکار رہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم حکومت میں آئے تو کوئی انٹیلی جنس ادارہ موجود نہ تھا ۔پاک فوج، ایم آئی، آئی بی اور صوبائی پولیس کی مشترکہ کاؤشوں کے ذریعے اب حالات بد ل چکے ہیں۔

نئے کارخانوں کیلئے این او سی کی شرط ختم کر دی ہے ۔ہم نے سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی ہیں جس کے نتیجے میں صوبہ بھر میں کارخانے قائم کئے جارہے ہیں۔ موٹروے پر 40 ہزار کنال پر کارخانے قائم کئے جائیں گے۔ اسی طرح حطار ، رسالپور ، جلوزئی سمیت صوبہ بھر میں 17 صنعتی زونز بنا رہے ہیں۔ بیر وزگاری کے مسائل سے نمٹنے کیلئے صنعتوں کی بحالی کے سوا کوئی دوسرا حل موجود نہیں کیونکہ ہر گھر میں بیروزگاری ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے مافیا کی شدید مزاحمت کے باوجود ایک شفاف سسٹم کی بنیاد رکھ دی ہے قانون سازی کے ذریعے اصلاحاتی عمل کو دیر پا بنادیا ہے ۔ہماری کارکردگی واضح ہے ۔ملکی خوشحالی اور ترقی کی سمت کا تعین کردیا ہے جو ایک مضبوط ، خوشحال اور خود کفیل پاکستان کی بنیادہے ۔بعدازں وزیراعلیٰ نے تحریک انصاف میں نئے شامل ہونے والوں کو پارٹی کی ٹوپیاں بھی پہنائیں۔