بریکنگ نیوز
Home / کالم / یادرکھنا ضروری ہے

یادرکھنا ضروری ہے


سیاسی جماعتوں کی قیادت کاکبھی تو مخصوص مفادات کے زیر اثر باہم شیر وشکر ہو جانا اور کبھی جوشِ رقابت میں ایک دوسرے کی مخالفت میں ساری حدیں پھلانگ جانا‘یہ روش نئی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے بساطِِ سیاست کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے‘ یہ ضرور ہے کہ 1970ء کی دہائی میں سیاسی حریفوں کے خلاف دل کا غبار نکالنے کیلئے الفاظ کا انتخاب نسبتاً مناسب تھا جسے 1990ء کی دہائی میں سیاسی رسہ کشی نے حدود و قیود کے دائرے سے آزاد کر ڈالا۔مذکورہ دہائی میں سیاسی مخالفین کی جانب سے رقابت کے وہ وہ مظاہرے دیکھنے کو ملے کہ سیاسی مخا لفت اور ذاتی دشمنی کا فرق ہی مٹ گیا ۔ میدان سیاست کی کھلاڑی مذہبی جماعتوں کی قیادت کا آپس کی کدورتوں اور دیگر سیاسی مخالفین سے عداوتوں کا اظہار بھی کہیں مناسب تو کہیں نامناسب الفاظ میں ڈھل ڈھل کر عوام کے سامنے آتا رہا ہے دور جمہوریت میں ایک دوسرے پر لعن طعن کرنیوالے سیاسی و مذہبی قائدین کا دورِ آمریت میں باہم’ ہم دم و ہمراز‘بن جانا اور اس سے ہٹ کردیگراوقات میں سیاسی ضرورتوں کے تحت کبھی دشمنی تو کبھی دوستی پر اتر آنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی تشکیل اورمیثا ق جمہوریت طے پا نا دو ایسے بڑے واقعات تھے جن کی بنیاد پر سیاسی رویوں میں ہم آہنگی ‘برداشت اور بردباری جیسی خصوصیات در آنے کی توقعات نے جنم لیا اورامید پیدا ہو ئی کہ سیاسی مخاصمتوں کا اظہار تہذیب و اخلاق کے دائروں میں سمٹ جائیگا اگرچہ مذکورہ عوامل کے نتیجے میں حزب اقتدار و حزب اختلاف کے باہمی رویوں میں بحیثیت مجموعی سیاسی شعور و پختگی کی علامات کا ظہور ہو ا جسکے نتیجے میں دونوں کے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے اور اختلافی امور کو ’پوائنٹ آف نو ریٹرن ‘ تک لے جانے کے سلسلے کو بریک لگا تاہم سیاسی قیادت کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نوعیت کی ہرزہ سرائی کو لگام نہیں ڈل سکی‘سیاستدانوں کا یہ عمل بھلے اُن کارکنوں اور حامیوں کیلئے ناپسندیدہ نہ ہوجو چھوٹے چھوٹے فائدوں کی امید پرسر تسلیم خم کئے قیادت کے ہر جائز و ناجائز فیصلے کی اتباع کیلئے تیار ملتے ہیں لیکن عوام کی اکثریت کویہ عمل ایک آنکھ نہیں بھاتا‘عام انتخابات میں تحریک انصاف کا متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھرنا دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ روایتی سیاسی رویوں سے عوام کی بد ظنی کا بھی شاخسانہ تھا‘ 2014ء کے پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران بھی جب الزامات اور ذاتیات کی سیاست جھلک دکھلاتی نظر آئی تو عوام کی خاموش اکثریت کو اچھا نہیں لگا اور اب ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسی قسم کے طرز عمل کے مظاہر ے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے حال ہی میں جب پانامہ لیکس کے ایشو پر پی پی پی اور پی ٹی آئی قریب آئے توکہنے والوں نے کہا کہ’ دونوں جماعتیں جو اس سے قبل ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

محض مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں مخصوص مفادات کی تکمیل کیلئے قریب آرہی ہیں اور یہ عمل دیرپا ثابت نہیں ہو گا ‘۔ وہی ہوا کہ اب ایک بار پھر پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں کی قیادت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہے ‘اس حوالے سے عوامی سطح پرپی ٹی آئی اور پی پی پی دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا یا گیا ہے تاہم انگلیاں پیپلز پارٹی کی طرف زیادہ شدت سے اٹھی ہیں کیونکہ وہی پی پی پی جو قبل از یں جمہوریت کے دفاع‘ پارلیمنٹ کے استحکام اور ان جیسے دیگر حوالوں کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کیساتھ مفاہمت کے رشتے میں بندھی ہوئی تھی اپنے قائدین کیخلاف بعض کرپشن کیسز میں پیش قدمی کے بعد یکایک مخاصمانہ سیاست کا علم اٹھائے نظر آئی‘ کیا عوام مخصوص عزائم کی تکمیل کیلئے لی جانے والی سیاسی قلابازیوں کی وجوہات اور حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں؟ اورکیا عوام یہ سب کچھ ہضم کر لیتے ہیں یا پھر وقت آنے پر اس کا حساب بھی لیتے ہیں؟یہ وہ سوالات ہیں جو مفادات کی بنیاد پررفاقت اور مفادات ہی کی بنیاد پر رقابت کے رشتے استوار کرنیوالی جماعتوں کے پیش نظر رہنے چاہئیں۔