بریکنگ نیوز
Home / کالم / ترقی بمقابلہ حا ئل رکاوٹیں

ترقی بمقابلہ حا ئل رکاوٹیں


میں یہ سطور بطور سیاست دان یا وزیر اعلیٰ تحریر نہیں کر رہا بلکہ ایک عام پاکستانی ہونے کے ناتے لکھ رہا ہوں۔ کم وبیش چوبیس ماہ قبل ہم نے اسلام آباد کا ایک غیرمقبول دھرنا دیکھا جس کے شورشرابے کی وجہ سے سی پیک پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی یاد رہے کہ’سی پیک‘ پاکستان کی تقدیر بدلنے جیسا اہم منصوبہ ہے اور اگر یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا ہے تو جو کوئی بھی اِس کی تاخیر کا محرک بنے گا کیا وہ پاکستان کے حق میں مفید ہوگا؟ یادرہے کہ ’سی پیک‘ احتجاجی دھرنے کی وجہ سے ایک سال تاخیر کا شکار ہوا۔

جس طرح انفرادی حیثیت میں ہر شخص کی زندگی کا ہردن اہم ہوتا ہے اسی طرح اقوام کی زندگی میں بھی ایک ایک دن کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ہر دن لاکھوں فیصلے اور اقدامات کرنا ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے اپنے نتائج و مقصدیت ہوتی ہے ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں اُسکے اثرات و نتائج بھی ہوتے ہیں اِس مرحلہ فکر پر جس اہم فیصلے کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کو بند کرنے سے متعلق ہے جس کا اعلان کیا جاچکا ہے اور میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے؟ ایسے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جنہوں نے تحریک انصاف کے احتجاج کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا لیکن ہزاروں ایسے بھی ہیں جو تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں اور ایک اکثریت اِس پورے معاملے سے الگ خاموشی سے پورے سیاسی تماشے کو دیکھ رہی ہے۔ ایمانداری سے بات کی جائے تو خاموش رہنے کا یہ مقام نہیں ہمیں اپنے بچوں اور پاکستان کے مستقبل کیلئے آواز اٹھانی چاہئے ایک ایسے دھرنے کیخلاف جو پاکستان کے حق میں مفید نہیں اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے دو متضاد دعوے کئے جاتے ہیں جن میں ایک ظاہراً غلط ہے اور وقت ہے کہ ایسے باطل نظریئے کو پوری شدت و طاقت سے رد کیا جائے۔

پانامہ پیپرز کو جواز بنا کر اسلام آباد کے رہنے والے پرامن لوگوں کو تکلیف دینے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی وفاقی دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے جہاں تک پانامہ پیپرز کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ نے پہلے ہی اس سے متعلق درخواستوں پر فریقین کو طلب کر لیا ہے اور لارجر بنچ بھی تشکیل دے دیا ہے وزیراعظم نے اپنے قانونی مشیروں کو ہر قسم کے تعاون کا حکم دیا ہے کہ پانامہ پیپرز میں آنیوالے ناموں کے بارے میں حقائق سامنے آنے چاہئیں اگر کسی کو حقائق جاننے ہیں تو اس کیلئے سپریم کورٹ سب سے بہترین راستہ ہے کیونکہ سپریم کورٹ سے بالا کوئی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے۔ جب یہ حقیقت موجود ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے کسی بھی معاملے کے تصفیہ اور حقائق تک پہنچا جا سکتا ہے۔ وقت ہے کہ ہم احتجاج کرنے والوں سے بھی اُنکے درپردہ محرک کے بارے میں سوال کریں ؟
پاکستان اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر قدم قدم آگے بڑھ رہا ہے اور اِس ترقی کی رفتار کو جاری رہنا چاہئے ناکہ اِس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں حائل کی جائیں جن سے ترقی کا عمل رک جائے۔ ہمیں ذاتی خواہشات اور لالچ جیسے جذبات کے بہاؤ میں نہیں آنا چاہئے بلکہ اُس عالمی تناظر کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے جو پاکستان کی تعریف کر رہا ہے۔

جیسا کہ چین نے صوبہ پنجاب میں ہونے والی تیزرفتار ترقی کو سراہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی پاکستان میں ہونے والی مالی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے اس میں چھپے ترقی کے امکانات کا حوالہ دیا ہے۔ پاکستان میں اقتصادی ترقی کے جملہ اعشاریئے حوصلہ افزا ہیں دہشت گردی کم ہو رہی ہے جس سے یہ اُمید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان پھرسے ایک معاشی طاقت بن کر خطے میں ابھرے گا اِن اعشارئیوں میں سے ہر ایک اِس حقیقت کا بیان ہے کہ زندگی بہتر ہو رہی ہے زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم بڑھ رہا ہے جو تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں حصص کی مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے۔ احتجاجی دھرنے سے اقتدار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مسلم لیگ (نواز) حکمران جماعت ہے جسے قوم کی اکثریت نے منتخب کیا ہے اور یہ اعزاز اُس سے واپس لینے کا اختیار بھی کسی دوسرے کو نہیں بلکہ صرف اور صرف قوم ہی کے پاس ہے توپھر سوال یہ ہے کہ دھرنے سے کیا حاصل ہوگا ماسوائے اس بات کہ اِس سے ہماری اقتصادی ترقی کا عمل رک جائے گا اور سی پیک پر جاری عمل درآمد میں رکاوٹیں آئیں گی یہی دونوں وہ باتیں ہیں جو ہمارے دشمن کی بھی خواہش ہے وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ پاکستان داخلی محاذ پر مستحکم نہ ہو تو کیا ہم اپنے دشمن کی خواہشات کی
تکمیل کرتے ہوئے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنا چاہتے ہیں؟ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جائے اور کسی بھی صورت ایسے حالات پیدا نہ کئے جائیں جن سے جمہوریت کا تسلسل اور ملک کی جاری اقتصادی ترقی کا دور متاثر ہو۔