بریکنگ نیوز
Home / کالم / عدلیہ کا احترام

عدلیہ کا احترام

اس ملک میں کئی ریاستی ادارے ہیں مثلاً انتظامیہ ‘ عدلیہ ‘ پارلیمنٹ ‘ افواج ‘سول بیورو کریسی وغیرہ وغیرہ‘ ماضی میں ان سب سے کہیں نہ کہیں بڑی سخت لغزشیں سرزد ہوئی ہیں جس سے ان کے وقار کو سخت دھچکا لگا اور جن کا خمیازہ آج تک یہ قوم اور ملک کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہا ہے لیکن آج ان میں سے کسی ایک ادارے یا ایک سے زیادہ نے اپنی ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرتے ہوئے بہتر کام شروع کر دیا ہے تو کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انکو ماضی میں غلطیاں کرنے پر ان پر لعن طعن کرے افواج پاکستان کی کارکردگی میں جنرل راحیل شریف کے وقت سے کافی بہتری نظر آئی ہے وہ آئین کے اندر رہ کر اپنے فرائض منصبی نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے ہیں اس قسم کی بہتری عدلیہ خصوصاً اعلی عدلیہ کے رویئے میں بھی دیکھنے کو ملی ہے ماضی میں شاذ ہی ایسا ہوا ہو کہ عدالتوں نے بڑی مچھلیوں پر اتنا قوی ہاتھ ڈالا ہو جتنا کہ اس نے حال ہی میں ڈالا ہے جو لوگ پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بار بار رٹ لگا رہے ہیں وہ پارلیمنٹ کے ارکان ہی تو ہیں کاش کہ انہوں نے عوام دوست قانون سازی کی ہوتی اور ان میں سے اکثر ارکان نے وہ گھناؤنے جرم نہ کئے ہوتے کہ جنکی پاداش میں بعض سزا پا چکے ہیں اور کئی دوسروں کا نمبر آنے والاہے یہ دونوں قسم کے لوگ آج ا س لئے چیخ رہے ہیں وہ آج بالواسطہ یا بلاواسطہ کھلی یا دبی زبان میں عدلیہ پر تنقید اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کو عدلیہ نے آئینہ دکھایا ہے کہ رضا ربانی جیسے سنجیدہ سیاستدان بھی جو سینٹ کے چیئرمین ہیں انہوں نے بھی اشارتاً عدلیہ پر تنقید کے نشتر برسائے ہیں وزیراعظم کے نا اہل ہونے پر یوں تو کئی لوگوں نے تبصرے کئے لیکن ہمیں سندھ کے گورنر کا بیان بڑا مضحکہ خیز لگا موصوف نے فرمایا کہ دراصل اب بھی صحیح معنوں میں تو ملک کا وزیراعظم میاں نواز شریف ہی ہے اس نے کام کاج چلانے کیلئے اپنے بندے وزیراعظم ہاؤس میں لگا دیئے ہیں ۔

ذرا سوچئے گورنر جیساذمہ دارشخص اس شخص کو اب بھی اپنا وزیراعظم قرار دیتا ہے کہ جسے عدالت عظمیٰ کے پانچ جج مشترکہ طور پر وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے نا اہل قرار دے چکے ہیں شنید یہ بھی ہے کہ سابق وزیراعظم اپنی دکھانے کیلئے اسلام آباد سے لاہور تک بذریعہ روڈ سفر کرکے راستے میں جگہ جگہ عوامی جلسوں کو خطاب کرنیکا پروگرام بھی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ وہ ہر وقت خبروں میں رہیں جوں جوں الیکشن کی تاریخ نزدیک آتی جائے گی سیاست کا تندور گرم ہوتا جائے گا یہ بھی ممکن ہے کہ مارچ میں سینٹ کے الیکشن کے فوراً بعد اپریل 2018ء میں قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے بشمول صوبائی اسمبلیوں کے اور نئے الیکشن کا انعقاد ہو جائے بعض سیاست دانوں نے یہ جو بعض خواتین کیساتھ بعض سیاسی لیڈروں کے قصے منسوب کرکے ان کیخلاف کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے ۔

اس قسم کی حرکات سے اجتناب کیا جائے ورنہ پھر کوئی بھی فرشتہ نہیں اس صورت میں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہے گی اور ہر کسی کی پگڑی اچھلے گی سیاست دانوں میں سیاسی فہم اور بلوغت کی ابھی بہت کمی ہے ان کو شخصیات کی کردار کشی پر اپنی انرجی اور پیسہ ضائع کرنے کے بجائے ملک کو درپیش مسائل پر بحث و مباحث کرنی چاہئے ہمیں لیلیٰ مجنوں کے قصے نہیں بلکہ دال دلیا‘ تعلیم ‘ صحت عامہ ‘ شفاف پانی کی فراہمی ‘ امن عامہ کی بہتری‘ گڈ گورننس ‘ انصاف کے حصول میں آسانی ‘ خارجہ پالیسی وغیرہ وغیرہ جیسے بنیادی مسائل پر مغز ماری کرنی چاہئے ہمارے میڈیا کو بھی Objective رپورٹنگ کی روش اپنانی چاہئے اسے یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ آج عوام کا سیاسی شعور کافی بلند ہے ۔