بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / گیلا فرش اور خطرات

گیلا فرش اور خطرات

اچھے بھلے شخص کی مت ماری جاتی ہے تو وہ یاتو گھر بنانا شروع کرتا ہے اور یا بنے بنائے گھر میں تبدیلی کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اچھا بھلا گھر تھاکہ بیگم نے شکایت کی کہ کچن بہت گندہ ہوچکا ہے اور اسے تبدیل کروائیں۔ جس طرح سے شروع شروع میں ہر ٹھیکیدار کہتا ہے کہ ’جی بس دوہفتے کا کام ہے‘ اسی طرح میں اس گُھن چکر میں پھنس گیا۔ دو تین ماہ ہوگئے ہیں کہ گھر میں ہرطرف ہتھوڑوں‘ بیلچوں اور لکڑی کی آرا مشین کی آوازیں گونجتی ہیں۔ تنگ آکر بیوی بچے تو باہر چلے گئے اور اب میں اور امّی ہی میدان جنگ میں رہ گئے ہیں۔ خیر یہ تو ضمنی سی بات ہے سیریس تب ہوا جب امّی نے فرمائش کی کہ واش بیسن یعنی سنک کی اونچائی کم رکھی جائے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ وضو میں پاؤں دھوتے وقت سنک میں پاؤں رکھنا پڑتا ہے۔یہ معلوم ہوکر میرے تو ہوش اڑ گئے۔ وضاحت کیلئے ایک بار پھر ان سے پوچھا کہ واقعی وہ سِنک میں پاؤں دھوتی ہیں تو اثبات میں جواب ملا۔

میں نے سب سے پہلے تو سینیٹری والے کو بلایا کہ امّی کی سنک تھوڑی اور اوپر لگائیں تاکہ ان کا پاؤں وہاں تک نہ پہنچے ۔ ان کیلئے باتھ روم میں ایک کرسی رکھوائی اور لمبے پائپ والے مسلم شاور کا اضافہ کیا ۔ میں نے امّی کو جتلایا کہ اتنا عرصہ سے وہ کیسے اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ خدانخواستہ ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر کبھی پھسل گئیں تو چند ایک ہڈیاں ٹوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اسی دن میں جب ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں گیا اور کپڑے تبدیل کرنے لگا تو ہمارے ایک سرجن کولیگ بھی یہی کام کررہے تھے۔ نماز کا وقت تھا چنانچہ ان سے قبل بھی کئی لوگوں نے یہی عمل کیا تھا اور نتیجتاً سارے باتھ روم کا فرش گیلا تھا۔

عجیب لوگ ہیں۔جہاں صفائی نصف ایمان شمار ہوتی ہے‘ وہیں نماز سے قبل سارا فرش گیلا کردیتے ہیں۔ اگر یہ مسجد ہے تو گیلے پاؤں سے جاکر قالین پر نماز کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اکثر مساجد میں جہاں قالین بچھے ہوتے ہیں، قالین سے بدبو کا آنا عام ہوتا ہے۔ویسے توتھوڑے سے وقت کیلئے انسان برداشت بھی کردیتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ آپ عین اسی جگہ سجدے میں پیشانی رکھتے ہیں جہاں کسی نے گیلا پاؤں رکھا ہوتا ہے۔ میں تو اس موقع پر سانس روک لیتا ہوں اور سجدے سے اُٹھنے کے بعد ہی سانس چھوڑتا ہوں۔جہاں مسجد کے اندر والے قالین بدبو سے بھرے ہوتے ہیں، وہاں وضوخانے کے پاس سے گزرنا بھی گویا کوئی نالہ پار کرنے کے مترادف ہے۔ صفائی کو تو چھوڑیں حفاظتی خیال ہی سے غور کریں۔ آجکل تمام مساجد کے فرش سنگِ مرمر سے مزیّن ہوتے ہیں۔ اسی لئے جب وہ گیلے ہوجاتے ہیں اس پر ننگے پاؤں چلنا نہایت خطرناک ہوسکتا ہے۔ گیلے فرش پر پھسلنے کا انجام اتنا خراب ہوسکتا ہے کہ مہذب ملکوں میں روزمرہ کی صفائی کے وقت بھی اگر فرش گیلا ہو تو اسکے قریب خطرے کا نشان رکھ دیا جاتا ہے۔

کچھ مقتدی وضو کرنے کے بعد ہاتھ پیر سکھائے بغیر صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور مسلسل ہاتھ جھٹکتے رہتے ہیں جس سے پاس کھڑے ہونے والے مقتدیوں کے چہروں پر چھینٹے پڑنے کا احتمال ہوتا ہے لیکن کسی کو دوسروں کی تکلیف کا احساس تک نہیں ہوتا۔ خیر بات سنک میں پاؤں دھونے سے چلی تھی۔ یاد رہے کہ کچھ مکتبہ فکر کے نزدیک وضو میں سر کی طرح پاؤں پر بھی مسح کرنیکا حکم ہے۔ جرابوں پر مسح تو تقریباً تمام مسالک میں جائز قرار دی جاتی ہے اور اسی چھوٹ سے میں نے خود بیرون ملک فائدہ اُٹھایا ہے۔ اور ہوائی جہاز کے طویل سفر میں بھی،جہاں جہاز کے باتھ روم میں کم از کم پانی استعمال کرنا ضروری ہے ہم نے خود عمرہ کے لئے جانے والوں کو جہاز کے باتھ روم میں اس قدر پانی ضائع کرتے دیکھا ہے کہ پانی غسل خانے سے باہر نکل کر پورے جہاز کے مسافروں کیلئے اذیت کا باعث بنتا ہے۔
جہاں سنک میں پاؤں دھونے سے سارا فرش گیلا ہوجاتا ہے‘ اسی طرح وہ شخص پھسلنے کا خطرہ بھی مول لیتا ہے میں نے کئی بار بیرون ملک لوگوں کو باقاعدہ شکایت درج کرتے دیکھا ہے کہ وہاں پر سنک میں پاؤں دھونا نہایت گندا عمل سمجھا جاتا ہے۔ہم ہسپتال میں کام کے دوران مشترکہ مسجد اور چرچ میں نماز کیلئے اگر پہنتے تو انہی غسل خانوں میں وضو کرتے لیکن سنک میں پاؤں دھونے کی بجائے مسح پر اکتفا کرتے۔

غسل خانوں کا غلط استعمال صرف سنک میں پاؤں دھونے تک محدود نہیں۔ ویسٹرن کموڈ کے استعمال کے اپنے آداب ہیں۔ سب سے پہلے تو اس پر بیٹھنے کا طریقہ بھی کئی لوگوں کو نہیں معلوم اور اس دفعہ محکمہ حج نے باقاعدہ اخباروں میں بڑے بڑے اشتہاروں میں ویسٹرن کموڈ پر صحیح بیٹھنے کاطریقہ ایک خاکے کے ذریعے سے اُجاگر کیا ہے۔ اس دور میں تو کسی کو ویسٹرن کموڈ پر بیٹھنے کا طریقہ نہ آنا بد قسمتی ہے۔ اچھے اچھے دفاتر میں کسی غسل خانے میں کموڈ کے کور پر جوتوں کے نشان نظر آتے ہیں کیونکہ لوگ اوپر چڑھ کر اُکڑوں بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست لاہور میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے تو یہی عمل کموڈ کے ساتھ کیا اور کموڈ ٹوٹ گیا اور میرے دوست نیچے گر کر اپنے کولہو کی ہڈی تڑوابیٹھے تھے۔ بنیادی طور پر میرے کالم کا مقصد عمررسیدہ لوگوں کو حفاظتی اقدامات کا خوگر بنانا ہے۔ ان میں کموڈ کے پاس مضبوط ریلنگ بھی شامل ہے تاکہ بزرگ آسانی سے اٹھ سکیں۔ شاور کے نیچے یہ خطرات اور بھی بڑے ہوجاتے ہیں ۔ اسلئے ایک مضبوط ریلنگ کی وہاں موجودگی بھی ٖضروری ہے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ شاور کے نیچے ایک کرسی رکھ دی جائے تاکہ بزرگ آرام سے بیٹھ کر نہاسکیں۔ اگر بزرگوں کو کسی قسم کا عارضہ لاحق ہو تو ان کو کبھی بھی باتھ روم اندر سے لاک نہیں کرنا چاہئے۔