بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / قحط سالی!

قحط سالی!

تحریک اِنصاف اگر ہم جماعت محترمہ عائشہ گلالئی کی وجہ سے مشکل میں پڑ گئی ہے‘ تو مسلم لیگ نواز کے داخلی حالات بھی پرسکون نہیں۔ پس پردہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں بانی رکن چوہدری نثار کے علاوہ شعلہ بیان مقرر دانیال عزیز کی ناراضگی منطقی ہے۔درحقیقت دانیال عزیز کے وہ غیرمحتاط بیانات انکا پیچھا کر رہے ہیں‘ جو موصوف نے نواز شریف کے بارے میں کہے تھے اور سوشل میڈیا نے ماضی کو زندہ رکھا ہوا ہے‘ جس کی موجودگی میں انکی نوازلیگ قیادت سے وفاداری کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اور انہیں پانامہ کیس میں بہترین دفاع کرنے کے باوجود بھی وفاقی وزارت نہیں مل سکی! وفاقی کابینہ کی حلف برداری کسی بھی طرح عبوری نہیں۔ اِبتدامیں کہا گیا کہ چونکہ دس یا گیارہ ماہ حکومت کا عرصہ باقی ہے اس لئے اُمید تھی کہ وفاقی کابینہ کو مختصر رکھا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگر ملک بناء وزیراعظم اور بناء وفاقی کابینہ کئی روز تک چل سکتا ہے تو درحقیقت یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بناء وزیر و مشیر تو ملک چل سکتا ہے لیکن مالی و انتظامی بدعنوانیوں کیساتھ ملک ترقی نہیں کرسکتاشاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ پینتالیس دنوں کیلئے وزیراعظم ہیں۔ میاں شہباز شریف کے لئے پنجاب کا وزیراعلیٰ ہونا ملک کی وزارت عظمیٰ جیسا ہی ہے کیونکہ ایک تو پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور اِس کے ترقیاتی فنڈز دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں اور دوسرا انہیں اپنی ہی جماعت کے وزیراعظم سے ماضی کی طرح آئندہ بھی ہر ممکن بلکہ حد سے زیادہ تعاون (توجہ) ملتی رہے گی اور ان کی حیثیت وفاق کی دیگر اکائیوں کے وزرائے اعلیٰ کے مساوی نہیں بلکہ کئی درجے بلند تھی اور رہے گی۔ ایسی صورت میں شہباز شریف کیلئے ’این اے ایک سو بیس پر ضمنی انتخاب لڑنا‘ جس میں کامیابی سوفیصد یقینی بھی نہیں تو ان سے کیوں اس بیوقوفی کی توقع کی جا رہی ہے!

نئی وفاقی کابینہ میں وزارتوں کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے۔ چار سال میں وزارت داخلہ کا قلمدان نواز شریف نے اپنے پاس رکھنے کے بعد اسے خواجہ آصف کو سونپ دیا ہے۔ قبل ازیں وزارت خارجہ کو اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ اس کا مستقل وزیر مقرر کیا جاتا اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نوازشریف دور میں وزارت داخلہ کو خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ آج اگر پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار دکھائی ہے تو کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وفاقی وزیر کی تقرری سے صورتحال بہتر ہوگی؟ جو کبھی وزیرخارجہ نہ رہے ہوں‘ جنہیں خارجہ امور کا تجربہ اور ان کا مطالعہ و استعداد میں خارجہ امور شامل نہ ہوں‘ وہ جن کے بیوروکریسی کیساتھ تعلقات اور لب و لہجہ تنقید کی زد میں رہا ہو۔ شاید نواز لیگ وزیرخارجہ کے ذریعے فوج کے ادارے اور افسرشاہی کو سبق دیناچاہتی ہو لیکن جو ایک بات طے ہے وہ یہ کہ وزیر خارجہ کی تقرری سے پاکستان کو خارجہ محاذ پر کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا اسی طرح وزیرداخلہ سے بھی توقعات وابستہ کرنا عبث ہوگا۔ انکی دیگر وزارتوں میں کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ نسبتاً اچھے وزیرخارجہ ثابت ہو سکتے تھے لیکن بہرحال یہ سوال اپنی جگہ موجود اور وزنی ہے کہ وفاقی وزارتوں کی بانٹ چھانٹ کے عمل میں سیاسی مقاصد کو قومی مفادات پر اہمیت دی گئی ہے۔ پاکستان حالت بحران سے گزر رہا ہے۔

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ فیصلے کے بعد مزید تحقیقات ہونی ہیں۔ ملک کو درپیش اس سیاسی غیریقینی کی صورتحال کے علاوہ معاشی و اقتصادی بحران الگ سے ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ دوہزار اٹھارہ کے بعدآئی ایم ایف سے قرض لینے جانا تھا لیکن رواں ماہ زرمبادلہ کے ذخائر جس تیزی سے کم ہوئے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ دوہزار اٹھارہ یا اس سے قبل ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ہی وفاقی حکومت کو بھیک مانگنا پڑے گی۔ پاکستانی روپے پر دباؤ الگ سے بدستور برقرار ہے تو ان مسائل اور بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چار اگست کے روز 27 وفاقی وزرا‘ اور 16 وزرائے مملکت نے حلف اٹھایا۔ وفاقی کابینہ کو نئے محکموں کے قلمدان سپرد کرنے پر 12کروڑ روپے ماہانہ خرچ آئیگا یعنی فی وفاقی وزیر قریب چار کروڑ روپے ماہانہ خرچ آتا ہے! اِس قدر مہنگے اور شاہانہ طرزحکمرانی کی بجائے اگر سادگی اختیار کی جاتی تو نہ صرف ’آئی ایم ایف‘ سے مزید قرض لینے کی حاجت نہ رہتی بلکہ قرضوں کے بوجھ اور سود کی ادائیگی میں مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکتی تھی! غریب ملک کے امیر حکمران اور شاہانہ طرزحکمرانی حسب حال نہیں!