بریکنگ نیوز
Home / کالم / طرز حکمرانی: نئے دور کا آغاز!

طرز حکمرانی: نئے دور کا آغاز!

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے نظام کو بہتر کرنے اور معاشی پالیسی کے نفاذ کیلئے نئی وزارتیں اور ڈویژن قائم کرنے کیساتھ موجودہ تین وزارتوں کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے وزراء کی گنجائش نکالنے کیلئے نئی وزارتوں اور ڈویژنز کو رول آف بزنس 1973ء کے رول نمبر تین کے تحت تشکیل دیا گیا جبکہ اداروں کے اندرونی تعاون کو بہتر بنانے کیلئے معاشی وزارتوں کی تنظیم نو کی گئی ہے جسکی طویل عرصے سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی عالمی بینک پاکستان کو ان وزارتوں کی تنظیم نو کرنے کی تجاویز پیش کر چکا ہے‘ خاص طور پر وزارت پانی و بجلی میں تنظیم نو کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا وزیراعظم کے اس فیصلے کے مطابق توانائی کی وزارت تشکیل دی گئی‘ جس کے دو اضافی ڈویژن بھی قائم کئے گئے‘ جن میں پاور اور پیٹرولیم ڈویژنز شامل ہیں۔ وزارت آبی وسائل کے نام سے ایک اور وزارت تشکیل دی گئی‘ جس میں ایک اضافی ڈویژن شامل ہے وزیراعظم کے اس فیصلے کے مطابق وزارت پانی و بجلی کو ختم کر دیا گیا اور اسکی ذمہ داریاں وزارت توانائی کو سونپ دی گئیں جبکہ وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کو پیٹرولیم ڈویژن میں تبدیل کردیا گیا تاہم وزارت پیٹرولیم کے وہ محکمے جو بجلی کی پیداوار کی دیکھ بھال کرتے تھے‘ اب پاور ڈویژن کے ماتحت کام کریں گے یہ تمام ڈویژنز ایک وفاقی سیکرٹری کے ماتحت ہوں گے جبکہ ان تمام ڈویژنز کو ترکی اور بھارت میں جاری نظام کی طرز پر قائم کیا گیا ہے۔نئی وفاقی کابینہ میں مجموعی طور پر سینتالیس ارکان شامل ہیں۔

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت وزیراعظم کے منصب سے میاں نوازشریف کے نااہل قرار پانے کے بعد مسلم لیگ (نواز) اور اسکی اتحادی جماعتوں نے جس احسن طریقے سے فوری طور پر معاملات کو سنبھالا اور میاں نوازشریف کی نااہلیت کیخلاف مسلم لیگ کے کارکنوں اور عوام میں غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہونے کے باوجود مزاحمت اور متشدد محاذآرائی کا راستہ اختیار نہیں کیانتیجتاً آج سال دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں بھرپور عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والی نواز لیگ کے اقتدار کا ہی تسلسل قائم ہے‘ وہ مسلم لیگ نواز اور اس کے حکومتی اتحادیوں کی سسٹم کیساتھ گہری وابستگی اور اسے مستحکم بنانے کے بے پایاں جذبے کا بین ثبوت ہے اگر نواز لیگ اور اسکی اتحادی جماعتیں میاں نوازشریف کی نااہلیت کے فیصلہ سے زچ ہو کر مزاحمت اور اداروں کیساتھ ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرلیتیں تو اس سے جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل کرنے کے خواہش مند سیاستدانوں اور غیرجمہوری عناصر کے مقاصد ہی پورے ہوتے تاہم حکمران نواز لیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سخت تحفظات رکھنے کے باوجود سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محدود مدت میں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرلیا اور مروجہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہاؤس کے اندر اپنے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرلیا جبکہ وزیراعظم کے منصب پر شاہد خاقان عباسی کو لا کر ایک تو میرٹ کا بول بالا کیا گیا اور دوسرے پارٹی میں موروثی سیاست کے تسلسل کا تاثر بھی زائل کر دیا گیا اسکے یقیناًملک کے اندر ہی نہیں‘ ملک کے باہر بھی سیاسی استحکام کے حوالے سے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں جسکا پاکستان میں تعینات چینی سفیر کے اس بیان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی قیادت پاکستان میں ہموار انداز میں اقتدار کی منتقلی پر خوش ہے۔ یقیناًیہ صورت ان عناصر کیلئے مایوس کن ہوگی۔

‘ جو گزشتہ چار سال سے ’چائے کے کپ‘ میں طوفان اُٹھاتے ہوئے میاں نوازشریف کی حکومت کے خاتمہ کے لئے اُچھل کود کرتے رہے ہیں جبکہ ان کی یہ اچھل کود درحقیقت ماضی جیسے کسی ماورائے آئین اقدام کے ذریعے جمہوریت کو گرانے کے لئے تھی۔ قومی سیاست میں موجود چند عناصر اب نومنتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو بھی اپنے حریصانہ مقاصد کی تکمیل کیلئے مختلف مقدمات میں الجھانے کی کوششوں میں جتے نظر آتے ہیں جو درحقیقت جمہوریت پر ملبہ ڈالنے کی سازش ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اسی سازش کی یہ کہہ کر نشاندہی کی ہے کہ آمریت کے جمہوریت سے بہتر ہونے کی فضا بنائی جارہی ہے۔ ان کے بقول ایک ہی وزیراعظم کو صدر‘ آرمی چیف اور عدلیہ نے گرایا ہے تو یہ آمریت کے جمہوریت سے بہتر ہونے کا تاثر پیدا کرنے کی ہی سازش ہے۔ یقینی بات ہے کہ جب عوامی مینڈیٹ کے مطابق مسلم لیگ کے اقتدار کا تسلسل برقرار رہے گا اور موجودہ اسمبلی کی آئینی میعاد کی تکمیل پر نئے عام انتخابات کے ذریعے انتقال اقتدار کا مرحلہ شروع ہوگا تو جمہوریتوں کو راندۂ درگاہ بنانے والی آمریتوں کے گن گانے کی فضا پر خود ہی اوس پڑ جائیگی اور جمہوریت کی عملداری ایک مسلمہ حقیقت بن جائیگی اسکے لئے یقیناًسابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف نے ہی بنیادی اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور ان کی مشاورت و رہنمائی سے نئی وفاقی حکومت تشکیل پائی ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا ہے کہ میاں نوازشریف ہی حقیقی وزیراعظم ہیں جو عوام کی عدالت سے دوبارہ مینڈیٹ لے کر پھر اسی کرسی پر فائز ہوں گے پانامہ کیس کے بعد ’نواز لیگ‘ زیادہ متحد اور اپنے خلاف ہر قسم کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے پرامید ہے تاہم ایسی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بچاؤ ضروری ہے جس سے تصادم کا تاثر پیدا ہو۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر حمید شیرازی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)