بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹریفک کے مسائل اور ایبٹ آباد

ٹریفک کے مسائل اور ایبٹ آباد

ایبٹ آباد ایک چھوٹا سا شہر تھا جو اب صوبے کے بڑے شہروں میں شمار ہونے لگا ہے مگر حکومت کے کاغذات میں ابھی تک چھوٹے شہروں میں ہی داخل ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب اس کے پر امن شہر ہونے کی وجہ سے صوبے کے جنوبی اضلاع کے زیادہ ترلوگ اس شہر میں رہائش پذیر ہو گئے ہیں اسلئے کہ جن علاقوں میں انسان کو اپنی حفاظت کیلئے ہر وقت بندوق کو ساتھ رکھنا پڑتا ہے اور ہر وقت یہ خطرہ ہوتا ہے کہ قدیمی دشمنی والا کوئی بھی شخص کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتا ہے ۔ صوبے کا یہ شہر اس وجہ سے قابل رہائش سمجھا جاتا ہے کہ یہاں نہ تو کوئی دشمن داریاں چلتی ہیں اور نہ ہر وقت کوئی رائفل اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے دوسرے اس شہر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں انتہائی اچھے اور مشہور تعلیمی ادارے ہیں کہ جن میں والدین کی خواہش ہے کہ انکے نونہال ان اداروں میں تعلیم حاصل کریں ‘آج ہماری کوئی بھی زندگی کی روش ہو اس میں ان تعلیمی اداروں کے فارغ ا لتحصیل لوگ اعلیٰ عہدوں پر متمکن ہیں اور وہی بچے اب والدین کا روپ دھار چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انکی مادر علمی میں انکی اولادیں بھی زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوں اور بہت سے تو بچوں کی تعلیم کیلئے یہاں پر مستقل رہائش پذیر ہو چکے ہیں۔زلزلے اورضرب عضب نے بھی اس شہر کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے اس کے علاوہ یہ شہر شمالی علاقہ جات کا گیٹ وے بھی ہے جسکی وجہ سے سیاحت کے شوقین اور شمالی علاقہ جات کے مکین اس شہر کو بطور گزر گاہ استعمال کرتے ہیں ادھر اس شہر کی سڑکیں وہی ہیں جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل تھیں ۔ جن پر ( اس کے فوجی چھاؤنی ہونے کی وجہ سے) کچھ سڑکیں بنائی گئی تھیں اور انکی ضرورت جو اس وقت تھی اس میں معمولی سا بھی اضافہ نہیں ہو سکا بجز مانسہرہ روڈ کے فوارہ چوک سے ایوب میڈکل کمپلیکس تک دو رویہ ہونے کے ۔

اور یہ دو رویہ بھی نام ہی کی دو رویہ ہے۔اس کے چوڑا کرنے کی ایک سکیم بنائی گئی تھی جس پر عمل درآمد اسی قدر ہو سکا کہ جو جو مکان اور دکانیں اس سڑک کے کنارے واقع تھیں ان کو اکھاڑ پھینکا گیااور بس ۔ اس سے نہ تو ٹریفک کے دباؤ میں کوئی آسانی ہوئی ہے اور نہ مکینوں کو کوئی سہولت مہیا ہوئی ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جن پوائنٹس پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے وہاں کچھ فلائی اوور بھی بنانے کی تجویز تھی اور اس کیلئے شاید بجٹ میں رقم بھی مخصوص کی گئی تھی مگر شاید وہ کسی اسمبلی کے رکن کے اکاؤنٹ میں اضافے کا سبب نہیں بن رہی تھی ( دروغ بر گردن راوی) اس وجہ سے وہ فلائی اوورز آج تک نہیں بن پا رہے ۔ ان فلائی اوورز کے نہ بننے سے بھی ٹریفک کے مسائل میں خاطر خواہ کمی نہیں ہو پا رہی تاہم ہم اپنی حکومتوں سے امید رکھ سکتے ہیں کہ اس مسئلے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا مسئلہ نہ بنائیں یا اپنے ووٹ سیدھے کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ یہ سیدھا سادہ عوامی مسئلہ ہے اس لئے اسے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کریں۔ پچھلے دنوں جب شہری اتحاد نے اپنی ٹریفک پولیس کی عید کے دنوں میں ٹریفک رواں دواں رکھنے کی کارکردگی پر ٹریفک پولیس کو خراج تحسین پیش کیا تھا تو اس میں ڈی پی او اشفاق احمد نے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کیلئے ایک تجویز پیش کی تھی کہ سڑک پر باری باری جفت اور طاق نمبروں والی گاڑیوں کو لایا جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو۔یہ سلسلہ دنیا کے بہت سے انڈر ڈیویلپ ممالک میں جاری ہے اور کامیاب ہے۔ اس طریقے کو لاگو کرنیکی کوشش کی گئی مگر گاڑیوں کے مالکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑااورہڑ تال کر دی گئی۔ ہم نے بہت سے سوزوکی ڈرائیوروں سے اس بارے میں بات کی تو معلوم ہوا کہ یہ مالکان کیری ڈبہ اور مالکان سوزوکی نے گاڑیاں قسطوں پر لے رکھی ہیں اور اگر وہ مہینے میں صرف پندرہ دن گاڑی چلائیں گے تو وہ اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے اور قسطیں کس طرح پوری کریں گے۔بات ان کی بھی سچ ہے۔

ان سوزوکی ڈرائیوروں کا کہنا یہ ہے کہ اگر حکومت ان گاڑیوں کو روٹ پرمٹ جاری کردے اور اس پر سختی سے عمل کروائے تو ٹریفک کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ پرائیویٹ کیری ڈبے کہ جو سواریاں اٹھاتے ہیں ان پر بھی سختی کی جائے تو امید ہے کہ ٹریفک کا دباؤ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔محترم ڈی پی او صاحب ان کی اس تجویز پر غور فرمائیں تو شائد مسئلے کا کوئی حل نکل آئے وہ غریب ڈرائیور جو کسی کی سوزوکی چلا رہے ہیں وہ بھی جفت اور طاق نمبروں والی سکیم سے زیادہ متاثر ہوں گے اس لئے کہ یہ ڈرائیور جو دن کو کماتے ہیں اُسی پر اُن کا چولہا جلتا ہے۔