بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سول حکومتوں کا تسلسل!

سول حکومتوں کا تسلسل!

مغربی جمہوریت کی بے شمار خامیوں کی بحث سے قطع نظر فی الوقت پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو آگے لیکر جانے اور یہاں سیاسی استحکام اور سول حکمرانی کی بالادستی کے ادھورے خواب کی تکمیل کی جانب اگر کوئی راستہ جاتا ہے تووہ جمہوری اداروں اور جمہوریت کے تسلسل سے ہوکر ہی گزرتا ہے نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے کے بعد پچھلے کئی روز سے ہمارے ہاں ایک بار پھر یہ بحث زوروں پر ہے کہ یہاں جمہوریت کاکیا مستقبل ہے اور یہ کہ قائد اعظم کے وژن کے مطابق یہاں سول حکمرانی کے ادھورے خواب کو اس کی تعبیرنہ جانے کبھی مل بھی پائے گی یا یہ خوا ب ہمیشہ بس ایک خواب ہی رہیگا۔اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے ہمیں اس تلخ حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کی70 سالہ تاریخ میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم اپنی پانچ سالہ میعاد پوری نہیں کر سکا ہمارے ہاں قیام پاکستان کے وقت سے سیاسی صورتحال نشیب وفراز سے دوچاررہی ہے ہمارے سول حکمرانوں کی بدقسمتی کا آغاز جہاں بابائے قوم کی بے وقت رحلت سے ہوگیاتھا وہاں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم لیاقت علی خان کو اس وقت منظر سے ہٹا دیاگیا تھا جب انہیں 19اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں بھرے مجمع میں قتل کردیاگیاتھا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو 17اپریل 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے ہٹایا ۔ملک کے تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کوبھی گورنر جنرل غلام محمدنے 1954 میں برطرف کیا ۔

حسین شہید سہروردی محض ایک سال تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پرفائز رہ سکے۔انکے بعد وزارت عظمیٰ کا قرعہ فال ابراہیم اسماعیل چند ریگر کے نام نکلا جو بمشکل دوماہ تک وزیراعظم رہے اسکندر مرزا نے بطور صدر مملکت ملک فیروز خان نون کو ملک کا ساتواں وزیراعظم نامزد کیا لیکن انہیں بھی یہ عوامی عہدہ راس نہیں آیا اور 1958 میں جنرل ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاء لگاکر انہیں برطرف کردیا۔ جنرل ایوب خان کی رخصتی کے بعد جنرل یحییٰ خان کو اقتدار سونپا گیاجنرل یحیےٰ خان نے پہلے تو نور الامین کو وزیر اعظم نامزد کیا لیکن انہوں نے جلد ہی ان سے جان چھڑاتے ہوئے صدر مملکت کی حیثیت سے تمام اختیارات بھی خود سنبھال لئے۔1973کے آئین کی منظوری کے بعد ذوالفقار علی بھٹوایک مضبوط وزیر اعظم کے طور پر ابھر کر سامنے آئے لیکن ا نہیں بھی جولائی 1977میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے ذریعے نہ صرف اقتدار سے ہٹایاگیا بلکہ 1979میں ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی کے پندے پر بھی چڑھایا گیا 1985کے غیر جماعتی انتخابات میں محمد خان جو نیجو پاکستان کے آٹھویں وزیراعظم منتخب ہوئے انکی حکومت 29مئی 1988کو محض تین سال بعد ختم کردی گئی1988 کے انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنیوالی محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے 6اگست 1990 کو برطرف کردیاتھا۔میاں نواز شریف 1990 میں پہلی بار وزیراعظم بنے صدر غلام اسحاق خان نے 1993میں انکی حکومت ختم کی 1993 ہی میں سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو بحال کر دیا تاہم دو ماہ بعد ہی صدر اسحاق اور میاں نوازشریف دونوں نے استعفیٰ دے دیابینظیر بھٹو 1993میں پھر وزیراعظم بن گئیں۔

لیکن انکی دوسری حکومت بھی صرف تین سال تک چل سکی اسی طرح نومبر 1996میں پیپلز پارٹی کے جیالے صدر فاروق احمد خان لغاری نے انکی حکومت 58ٹوبی کا اختیار استعمال کرکے برطرف کردی تھی فروری 1997 میں نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بنے لیکن 12 اکتوبر1999کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹادیا۔ جنرل مشرف دور حکومت میں میر ظفر اللہ خان جمالی 19ماہ ،چوہدری شجاعت حسین ڈیڑھ ماہ جبکہ شوکت عزیز تین سال کے لئے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ 2008کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن انہیں بھی چار سال بعدعدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں کوچہ اقتدار سے رسوا ہو کر نکلنا پڑا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میاں نوازشریف ایک جانب ملک کے وہ پہلے خوش قسمت سیاستدان ہیں جنہیں تین بار وزیراعظم بننے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا جبکہ دوسری جانب وہ پاکستان کے ایسے واحد بدقسمت رہنما ہیں جنہیں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں تیسری بار اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔