بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / نئی کابینہ اور فاٹا اصلاحات

نئی کابینہ اور فاٹا اصلاحات

بھاری بھر کم وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس عزم کو دہرا رہے ہیں کہ نوازشریف کے مشن کو جاری رکھاجائیگا، قابل اطمینان ہے کہ بڑی وفاقی کابینہ میں قبائلی علاقہ جات کی نمائندگی کا احساس بھی کیاگیا ہے وفاقی کابینہ کی حلف برداری سے ایک روز قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں فاٹا کے انضمام کیلئے تیار ہے تاہم وفاقی حکومت کاپلان سست ہے اور انضمام کے حوالے سے نیک نیتی بھی نہیں پائی جاتی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ نئی وفاقی کابینہ کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ حکومتی اعلانات اور کاغذی اقدامات کو عملی شکل دینے کا ہے، وفاق کی جانب سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی سعی ریکارڈ کا حصہ ہے، اس مقصد کیلئے خصوصی کمیٹی نے دورے بھی کئے اور طویل مشاورت کے بعد اصلاحات کا پیکج سامنے آیا‘ اس میں بھی طریقہ کار ایک طویل ٹائم فریم کے اندر رکھاگیا ہے جس پر ہر طرف سے تنقید بھی ہوئی، اس طریقہ کار کو برقرار ہی رکھتے ہوئے اصلاحات پر مجموعی کام کی رفتار انتہائی سست اور ترجیحات کی فہرست میں شاید کہیں نیچے ہے۔

دوسری جانب فاٹا کے منتخب ارکان نے رواج ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کردہ اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وزیراعظم سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، ناصر خان آفریدی کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی باہمی مشاورت سے طے کی جائیگی اور حکومت سے حتمی بات ہوگی، قبائلی طلباء 11اگست کو اسلام آباد میں مظاہرے کا اعلان کررہے ہیں، فاٹا اصلاحات یقیناًایک بڑا فیصلہ ہے اورا س پر عمل درآمد موثر پلاننگ کا متقاضی بھی ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ پورے کیس کو سرد خانے میں ڈال دیاجائے، اس سارے عمل میں کسی کے تحفظات اور خدشات ہیں تو وہ دور ہونے چاہئیں، متعلقہ سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لینا چاہئے اور ذمہ دار اداروں کو اپنا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت جاری ہونی چاہئے، چونکہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے تو اس سارے عمل میں اہم سٹیک ہولڈرز یہاں کی صوبائی حکومت ہے جس کیساتھ معاملات طے کرکے پورے پیکج پر اسے اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے، وفاقی کابینہ کو اپنی ترجیحات کے تعین میں فاٹا کا انضمام سرفہرست امور میں رکھنا ہوگا۔

بچوں میں امراض خون

بچوں میں خون کے امراض والدین کیلئے اذیت ناک مسئلہ ہوتے ہیں، اس میں دیگر علاج کیساتھ انتقال خون ایک تسلسل کیساتھ کرنا پڑتا ہے، خیبرپختونخوا میں بعض رضا کار ادارے یہ کام کررہے ہیں جبکہ ضرورت سرکاری ہسپتالوں میں انتظامات بہتر بنانے کی ہے، ضرورت انتقال خون کے پورے عمل کو چاہے وہ سرکاری ہو یا رضا کار بنیادوں پر مانیٹر کرنے کی بھی ہے، اس مقصد کیلئے عالمی اداروں نے باقاعدہ طریقہ کار دیاہوا ہے، صوبائی دارالحکومت میں تو ضرورت امراض خون کیلئے علیحدہ ہسپتال کی بھی ہے جبکہ کم ازکم ڈویژنل لیول پر ان بیماریوں کیلئے علیحدہ یونٹس کو آراستہ کرنا ضروری ہے، ضروری تو یہ بھی ہے کہ موبائل یونٹ دور دراز علاقوں میں بھجوائے جائیں جو بظاہر تندرست نظر آنیوالے بچوں کے خون کا تجزیہ کریں اور بیماری کی تشخیص پر علاج کی سہولت دی جائے، اس کیلئے متعلقہ محکموں کو حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔