بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / احتساب ‘اگلی باری کس کی؟

احتساب ‘اگلی باری کس کی؟

پاکستان کے سیاسی حقائق میں اس باب کا اضافہ ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا جسکے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے علیحدہ ہوگئے تاہم نواز شریف اپنی سیاسی جماعت (نواز لیگ) پر مبنی نئی وفاقی حکومت کے انتخاب و کابینہ کے اراکین کے چناؤ میں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک رہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ انکی جماعت کے سربراہ عوام کے دلوں میں رہتے ہیں۔نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی اراکین کی اکثریت کی حمایت واعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد یہی مؤقف اپنی تقریر میں بھی دہرایا اور ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’نوازشریف دوبارہ وزیراعظم بنیں گے۔‘‘ نواز لیگ اور اس کی قیادت سے وفاداری کا اظہار کرنے والے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ عوام کی عدالت میں جائیں گے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرینگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ’نواز شریف کو مجرم پایا‘ اور انہیں حسب جرم سزا دی۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے آئین کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نواز شریف کی سیاسی قسمت کا فیصلہ سنایا اور انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی ہمیشہ کیلئے علیحدہ کردیا وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی سے یہ بحث چل نکلی کہ کیا آئین میں باسٹھ اور تریسٹھ کی شقیں رکھنے کی ضرورت باقی ہے اور کیا کوئی بھی رکن اسمبلی صادق و امین ہونے کے اِس معیار پر پورا اترتا ہے؟ بہت سے سیاستدان اور سول سوسائٹی کے کارکن چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کی جائے اور مذکورہ شقیں یا تو حذف کر دی جائیں یا پھر ان میں ترامیم لائی جائیں لیکن ایسی کسی بھی پیشرفت کی صورت مزاحمت کرنے کیلئے جماعت اسلامی نے احتجاج کی دھمکی دی ہے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترنا قابل عمل نہیں اور اسی وجہ سے انہیں آئین سے خارج کرنے کے حق میں دلیل دینے والے کہتے ہیں کہ کم و بیش سبھی اراکین اسمبلی اپنے اور اپنے اہلخانہ کے اثاثوں اور آمدنی کے بارے میں کسی نہ کسی صورت غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ سیاست میں انتہاء کی دھڑے بندیوں کی وجہ سے وسیع المقاصد مقصدیت اوجھل ہو جاتی ہے۔

سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکن حالات اور واقعات کو مخصوص زوایئے سے دیکھتے ہوئے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ انکے ذاتی یا سیاسی مؤقف کے مطابق ہوتا ہے نہ قومی مفاد میں اور اگر یہ خرابی حالات بھی کافی نہ سمجھی جائے تو سول اور ملٹری قیادت میں اختلافات رہی سہی کسر نکال دیتے ہیں جسکی وجہ سے سیاسی ماحول مکدر ہوتا ہے اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔مسلم لیگ کی قیادت اور کارکن بناء فوج کے ادارے کا نام لئے کہتے ہیں کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے پیچھے ایک طاقت کارفرما ہے اگر ایسا ہے اور حقیقت میں ایسا ہی ہے تو پھر ابھی نواز شریف کی سیاسی قسمت کا پوری طرح فیصلہ نہیں ہوا ہے کیونکہ وہ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے باوجود بھی اپنی جماعت کی کلیدی سیاسی فیصلہ سازی کے عمل کی سربراہی کر رہے ہیں اور وفاق کی طرح آج بھی انکی درپردہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکومت قائم ہے یہ بات شک وشبے سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنی حاکمیت ثابت کی ہے اور ایک ایسے وزیراعظم کو عہدے سے الگ کیا جس کی پارلیمنٹ میں اکثریت تھی۔ بھارت کے ایک معروف صحافی نے سپریم کورٹ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کی سپریم کورٹ کبھی بھی وزیراعظم کو یوں نااہل قرار نہیں دے سکتی اگرچہ وہ اسی قسم کے جرم میں ملوث پائے گئے ہوں۔‘‘پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور حاکمیت ایک درخشاں باب ہے۔ سال 2007ء میں وکلاء کی تحریک کے نتیجے میں سپریم کورٹ اور صوبائی سطح پر ہائی کورٹس خود کو طاقتور محسوس کرتی ہیں لیکن بعدازاں سیاسی اور آئینی تشریحات کے معاملات میں عدالتوں کے فیصلوں پر اختلافات پیدا ہوئے اور فیصلوں کے درپردہ اصولوں اور ترجیحات پر سوال بھی اٹھائے گئے اِن میں سپریم کورٹ کے ججوں کا حالیہ متفقہ فیصلہ جس میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا کی بیک وقت تعریف بھی ہوئی اور اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ فیصلہ جن بنیادوں پر کیا گیا ان میں اختلافی نکات موجود ہیں جیسا کہ وزیراعظم نے جو تنخواہ وصول ہی نہیں کی وہ ان کا آمدنی یا اثاثہ کیسے ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ فیصلہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کے خلاف بھی ہے۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ نااہلی فیصلے کو تسلیم کرکے نوازشریف نے اچھی مثال قائم کی ہے ان کی جماعت اگرچہ اختلافی نکتۂ نظر رکھتی ہے لیکن وہ اِسے تسلیم بھی کرتی ہے اس سلسلے میں فیصلے پر نظرثانی کی ایک درخواست پیش کرنا بھی زیرغور ہے جسکے اثرات عدالت کے اندر اور باہر ظہورپذیر ہوں گے۔ نواز شریف کے دو بیٹوں حسن اور حسین‘ بیٹی مریم صفدر‘ داماد کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آنے والے دنوں میں کئی ماہ تک نیب میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں خود کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے آمدنی اور جائز طریقوں سے اندرون و بیرون ملک اثاثوں کی خریداری کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ دوسری اہم سیاسی پیشرفت ملک میں نئے وزیراعظم کا انتخاب اور نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے مراحل ہیں جو خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں اور سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا جس کے بارے میں اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا تھا پاکستان میں سردست کوئی سیاسی بحران نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی خلاء پیدا ہوا ہے جسے پورا کرنے کیلئے فوج کے ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔

جمہوری ادارے فعال ہیں اور نئے وزیراعظم کے انتخاب سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ احتساب کا جو عمل وزیراعظم کی نااہلی اور ان سمیت اہل خانہ کے بارے میں نیب کی تحقیقات سے شروع ہوا ہے اس کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟کیا احتساب کا یہ عمل جاری بھی رہے گا اور کیا اسے اس انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا کہ پانامہ پیپرز میں جن دیگر افراد کے نام آئے ہیں کیا انہیں بھی احتساب کا سامنا کرنا پڑیگا؟ پاکستان کے عوام ہمیشہ ہی سے احتساب کے حق میں رہے ہیں اور اگر احتساب کا یہ عمل چنیدہ اور بلاامتیاز نہیں ہوگا تو اِس سے عوام میں مایوسی پھیلے گی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)