بریکنگ نیوز
Home / کالم / مچھلی ہمیشہ اوپر سے سڑتی ہے

مچھلی ہمیشہ اوپر سے سڑتی ہے


لگتا یہی کہ شاہد خاقان عباسی 45 دنوں کیلئے نہیں بلکہ اس وقت تک کیلئے وزیراعظم بنائے گئے ہیں تاوقتیکہ ملک میں آئندہ عام انتخابات کااعلان نہیں ہو جاتا نئی کابینہ میں چند نئے چہرے بھی دیکھے گئے ہیں اور چوہدری نثارعلی کے دوبارہ وزیر نہ بننے پر بعض وزارتوں کے قلمدان بھی تبدیل کئے گئے ہیں نواز شریف کی طرح خاقان عباسی وزارت خارجہ کا قلمدان اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تھے سو اس لئے انہوں نے یہ منصب خواجہ آصف کو دے دیا چلو اچھا ہی ہوا فارن آفس کو اپنا سربراہ مل ہی گیا کہ جس کو چاربرس سے دوعمر رسیدہ لوگ چلا رہے تھے جو اس وقت عمر کے اس حصے میں تھے کہ جہاں پر ان کو دوا اور دعا کی زیادہ ضرورت ہوا کرتی ہے پہلے وزیراعظم کے قبل از وقت چلے جانے کے بعد دوسرے وزیراعظم کے حلف اٹھانے کے وقت تک جمہوری عمل بڑے آرام اور آئین کے تقاضوں کے مطابق پورا ہوا اس میں اسٹیبلشمنٹ نے نہایت تحمل‘ برد باری ‘ غیر جانبداری اور آئین کے قوانین کی منشا کے مطابق اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کیا حالانکہ اس کیخلاف ناعاقبت اندیش قسم کے سیاست دان اور سیاسی حلقے طرح طرح کی باتیں کرتے رہے‘ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے کیا کیا تھا ؟ اس پر بحث و مباحث سے کیا حاصل؟ دیکھنا یہ چاہئے کہ اب وہ کیا کر رہی ہے یقیناًاس کا موجودہ رویہ قابل ستائش ہے ورنہ پارلیمنٹ کا کردار ایسا بالکل نہیں ہے کہ اس پر کسی قسم کا فخر کیا جا سکے ہمیں(ن)لیگ کے سرکردہ لیڈر مشاہد اللہ خان کا جو پہلے بھی وزیر تھے بعد میں ہٹا دیئے گئے اور اب دوبارہ نئی کابینہ کے رکن بن گئے ہیں کا یہ جملہ بالکل اچھانہیں لگا کہ ’’ٹارزن کی واپسی ہوئی ہے‘‘یہ اپنے منہ میاں مٹھو والی بات ٹھہری اس قسم کا رویہ کسی بھی وزیر کو زیب نہیں دیتا۔

زرداری صاحب کا یہ بیان کہ وہ عیدالضحیٰ کے فوراً بعد الیکشن مہم پر نکلنے والے ہیں اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ پی پی پی مارچ2018ء سے پہلے الیکشن مہم چلاتی ہے تاکہ سینٹ کی ایک بڑی تعداد میں خالی ہونیوالی سیٹوں کے الیکشن سے پہلے پہلے وہ قومی اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کا اضافہ کرسکے گو اب تک تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے لیکن زرداری صاحب غالباً اس مقولے پر عمل کرنا چاہ رہے ہیں کہ لگا تو تیر‘ نہیں تو تکا ‘ان کو ان کی پارٹی والوں نے یہ یقین دلا دیا ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں وہ اپنی پارٹی کی تنظیم نو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور چونکہ اب بلاول کی شکل میں پارٹی کے پاس ایک ایسا سیاسی کارڈ موجود ہے کہ جو استعمال کرکے لوگوں کو پی پی پی کی طرف دوبارہ راغب کیا جا سکتا ہے لہٰذا اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مارچ2018ء سے قبل ہی الیکشن کا آپشن استعمال کر لیا جائے بہت کچھ البتہ اس بات پر بھی منحصر ہو گا کہ عمران خان کیسے اور کس حد تک اور کب تک اس سیاسی بھنور سے باہر کامیابی سے نکل آتے ہیں کہ جس میں ان کے سیاسی رقیبوں نے انہیں پھنسا دیا ہے۔

اس ملک میں بسنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مفروضے سے سو فیصد اتفاق نہیں رکھتی کہ سیاسی لوگوں کی کرپشن بغیر اسٹیبلشمنٹ کی معاونت ممکن ہوتی ہے ایک چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اوپر سے گلتی اور سڑتی ہے اگر کسی وزارت کے انچارج وزیر کے بارے میں یہ تاثر عام ہو جائے کہ وہ سخت دیانتدار ہے اور کرپشن کو اپنے نزدیک آنے نہیں دیتا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اس کا ماتحت سیکرٹری یا کوئی اور عملہ کرپشن کا سوچ بھی سکے اس ضمن میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں ہاں یہ بات درست ہے کہ انصافAcross the board ہونا چاہئے اس میں کسی قسم کی تمیز نہیں ہونی چاہئے انصاف وہی کہلاتاہے کہ جو اندھا ہو جو یہ نہ دیکھے کہ مجرم امیر ہے کہ غریب ‘ کالا ہے کہ گورا ۔