بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / صداقت کی کسوٹی!

صداقت کی کسوٹی!

پاکستان ناقابل تردید حقیقت ہے لیکن ترجیح نہیں۔ آئین میں صادق و امین ہونے کی جو سیدھی سادی شرائط درج ہیں‘ انہیں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے نکتۂ نظر سے دیکھتی ہیں۔ مقام اَفسوس نہیں تو کیا ہے کہ سب سے قوی اور متواتر دہرایا جانے والا مؤقف یہ ہے کہ آئین کی باسٹھ اُور تریسٹھ شقیں زمینی حقائق کے منافی ہیں کیونکہ ان میں درج شرائط پر عوام کا منتخب کردہ کوئی ایک بھی قانون ساز پورا نہیں اترتا۔ اس مؤقف کی حمایت و تائید کرنے میں قانون دان‘ صحافی اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں جو سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ۔۔۔ ’’سیاسی اداروں‘ عدلیہ اور فوج کے درمیان مثالی تعلقات کے لئے ضروری ہے کہ یہ تینوں اداروں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کریں اورسیاستدانوں کا احتساب صرف اور صرف عام انتخابات کے ذریعے ہونا چاہئے۔ پاکستان کے وسیع ترمفاد کے نکتۂ نظر سے یہ دلیل نہایت ہی کمزور اور خالصتاً بدنیتی پر مبنی ہے۔ کسی اسلامی ملک کے بارے میں یہ تصور بھی بھلا کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کے سیاسی حکمران اور غیرسیاسی فیصلہ ساز صداقت و امانت کے کم سے کم اس معیار کو بھی قابل عمل نہیں سمجھتے کہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے بارے میں حلفیہ بیان جمع کرانے میں دروغ گوئی سے کام نہ لیں!کسی ایسے جمہوری نظام کا مستقبل کس طرح درخشاں ہو سکتا ہے جس میں بالغ حق رائے دہی پر مبنی انتخابی عمل سے حاصل ہونیوالی فہم و فراست اور سیاسی جماعتوں کی ’’بناء اِحتساب حکمرانی‘‘ پر اِستوار عقل و دانش یہ چاہتی ہو کہ وہ جو چاہے بناء جوابدہ کرتی رہے!؟پانامہ کیس فیصلے نے پاکستان کا سیاسی مستقبل واضح کیا ہے‘ جسے مشکوک بنانے کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے ’پانچ مئی‘ کو سرکاری وسائل بروئے کار لاتے ہوئے میزبانی‘ کے لئے ’پنجاب ہاؤس‘ کا انتخاب کیا جہاں تعریف و توصیف کے ماہر‘ چنیدہ ذرائع ابلاغ کے ملازمین سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھر یہ معصومانہ سوال دُہرایا کہ ’’اُنہیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے؟‘‘وہ بات جو پوری دنیا جانتی ہے اور قریب ڈیڑھ برس سے پانامہ پیپرز کی تحقیقات کی صورت زیربحث ہے اگر اس سے کوئی ایک فرد بے خبر ہے‘ تو وہی ہے جو اِس پوری کہانی کا مرکزی ملزم قرار پا چکا ہے اور جن کے بارے میں عدالت عظمیٰ نے ’گاڈ فادر‘ اور ’مافیا‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی ہیں لیکن انہیں پھر بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ان اصطلاحات اور اس جملے کا مطلب کیا ہے کہ ’’ہر خوش قسمتی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے!‘‘ فی الوقت پانامہ کیس فیصلے میں شریف خاندان کے صرف ایک فرد کو اس کے عہدے سے الگ کیا گیا ہے لیکن حکمران سیاسی جماعت فوج اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ قومی اداروں کے درمیان اِس قسم کی ’محاذ آرائی‘ اور ایک دوسرے پر ’عدم اعتمادی‘ کے ماحول میں پروان چڑھتے ’انتشار‘ کے دو ہی ’خالص مقاصد‘ ہوسکتے ہیں کہ 1: شریف خاندان احتساب کے باقی ماندہ عمل کی تکمیل نہیں چاہتا اور 2: میثاق جمہوریت کی طرح وہ عدلیہ اور فوج کے ساتھ ’جیو اُور جینے دو‘ کے اصول پر ایک ایسا معاہدہ کرنے کا متمنی ہے جسکی بنیاد پر پاکستان سے اس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہو!مری اور چھانگلہ گلی کے پرفضا مقامات پر چند روزہ قیام کے بعد اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد نواز شریف نے جن ’ہم خیالوں‘ سے تبادلہ خیال کیا‘ ان کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنیکی جرات نہیں رکھتی تھی۔

سب میں قدر مشترک یہ تھی کہ انکی یا انکے اداروں کی وفاداریاں نواز لیگ کی نظروں میں مشکوک نہیں تھیں اور یہی وجہ تھی سوال کی رسمی جرات محدود رہی اور نوازشریف بولتے رہے‘ پنجاب ہاؤس کے درودیوار سنتے رہے! یہ بالکل ویسی ہی صورتحال رہی کہ 188 اراکین قومی اسمبلی جیسی اکثریت رکھنے والی نواز لیگ میں کوئی ایک رکن بھی ایسا نہیں پایا گیا جو نوازشریف کے سامنے (کلمۂ حق کہتے ہوئے) اُن سے بیرون ملک اثاثوں اور ذرائع آمدنی سے متعلق سوال کرتاان سے کوئی پوچھتاکہ پاکستان کا وزیراعظم ہونے کے باوجود بھی آپ اپنے ہی صاحبزادوں کے ہاں ملازم بھی رہے ؟ قطری خط‘ برطانیہ میں جائیداد و کاروبار سے متعلق معاہدوں کی صورت جعلسازی اور فراڈ کے زمرے میں شمار ہونیوالی ایسی دستاویزات عدالت کے سامنے کیوں پیش کی گئیں جن کی حقیقت وصداقت بعدازاں ثابت نہ کی جا سکی ؟ ‘‘ آئین سے باسٹھ اور تریسٹھ شقوں کے اخراج کی وکالت کرنیوالوں کو ’اسلامی‘ اُور ’جمہوریہ‘ جیسے لاحقوں کو بھی ’پاکستان‘ کے نام سے ہٹانا ہوگا کیونکہ بصورت دیگر ان کا غیرمشروط اور بناء احتساب حکمرانی کا خواب پورا نہیں ہوگا۔