بریکنگ نیوز
Home / کالم / خطرے کی گھنٹیاں

خطرے کی گھنٹیاں

پانامہ پیپرز کی صورت منظرعام پر آنیوالی دستاویزات کے بعد سے پورا پاکستان گزشتہ پندرہ ماہ سے حقائق کی کھوج اور سیاست میں ذاتی مفادات پر مبنی ترجیحات پر بحث کر رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کاروبارِ حیات رک گیا ہو اور ماسوائے پانامہ پاکستان میں کچھ بھی نہ ہو رہا ہو لیکن توجہ طلب یہ امر ہے کہ جب ہم ’پانامہ کھیل‘ میں مصروف ہیں تو پس پردہ پاکستان کی اقتصادیات تیزی سے روبہ زوال ہیں! ہمارے سامنے یورپی ملک اٹلی کی مثال موجود ہے جہاں وزیراعظم کو یوں تبدیل کیا جاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنی جرابوں کے جوڑے تبدیل کرتا ہے اور یہی صورتحال جاپان کے سیاسی نظام کی بھی ہے کہ وہاں حکمرانی کسی ایک خاندان یا فرد کی میراث نہیں ہے۔ ان ممالک میں سیاسی حکمرانوں کی آمدورفت سے ملک کی اقتصادی ترقی کا عمل متاثر نہیں ہوتاکیونکہ ادارے پالیسیوں کے تابع ہوتے ہیں اور پالیسیاں مرتب کرنے اور خودمختار ہونے کیساتھ قومی اداروں میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ سیاستدانوں کو اپنی حدود کا علم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قومی اداروں کی مضبوطی حد درجہ ضروری ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی وزیراعظم یا سیاسی حکومت مشکل میں پھنستی ہے تو ملک کا ہر ادارہ اس کے حق یا مخالف ہو کر اپنی بنیادی ذمہ داریاں پس پشت ڈال دیتا ہے اور اس طرزعمل سے برآمد ہونیوالا نتیجہ‘ پانامہ کیس کی ذیل میں ملک کی صورتحال سے واضح ہے۔تجارتی خسارہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملک کی درآمدات 52 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہوں۔

پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان کی برآمدات اس تیزی سے کم ہوئی ہوں جیسا کہ گذشتہ 6 سال کے دوران ہوئی ہیں! پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اقتصادی خسارہ 32 ارب ڈالر کو چھو رہا ہو! اس قومی اقتصادی خسارے کو کم کرنے کیلئے ہمارے پاس یہی صورتیں باقی رہ گئی ہیں کہ ہم مزید قرضوں کی صورت بھیک مانگیں۔ ادھار لیں یا پھر چوری کر کے کہیں نہ کہیں سے مالی ضروریات کو پورا اور اقتصادی خسارہ کم کرنے کی تدبیر کریں۔ ذہن نشین رہے کہ اقتصادی خسارہ ایک اصطلاح ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک کی برآمدات (باہر سے آنیوالی اشیاء)اسکی درآمدات(اسکی پیداوار کی بیرون ملک فروخت) سے زیادہ ہو جائیں! موجودہ حالات میں پاکستان میں اشیاء و اجناس کی پیداوار کے مقابلے بیرون ملک سے اشیاء واجناس کی درآمدات زیادہ ہو رہی ہیں۔اقتصادی بحران کا ایک رخ پاکستانی روپے پر برقرار اور بڑھتا ہوا دباؤ بھی ہے ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی شرح پھر سے نظرثانی کی متقاضی ہے۔ کیا ہم اس ناکام حکمت عملی سے کام لیتے رہیں گے کہ باہر سے درآمدات کرتے رہیں؟آخر ہم کیسے 32 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم اور اس قدر سرمائے کا بندوبست کرینگے بجٹ خسارہ:وزارت خزانہ کے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی آمدن و اخراجات عدم توازن کا شکارہے اور وفاقی بجٹ کا خسارہ 1.5 (ڈیڑھ کھرب)ٹریلین روپے ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وزارت خزانہ جائز قابل واپسی محاصل جن کی مالیت 300 ارب روپے ہے ادا نہیں کر رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ حکومت کے ذمے بجلی پیدا کرنے والے نجی کمپنیوں کے400 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایف بی آر چاہتا ہے کہ لوگ اپنی آمدنی کا پیشگی ٹیکس ادا کریں! ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی ادارے جیسا کہ پی آئی اے‘ پاکستان سٹیل اور پاکستان ریلویز خسارے میں ہیں اور ہرسال سینکڑوں ارب روپے ان اداروں کو فعال رکھنے پر خرچ ہو رہے ہیں!

لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری حکومت کھربوں روپے کے اقتصادی خسارے کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے یہ بالکل ایسی ہی کوشش ہے کہ جیسے کوئی ہاتھی کمرے میں گھس آیا ہو اور کوئی اسے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔پاکستان کا خسارہ مجمومی قومی آمدنی کے آٹھ فیصد کے قریب ہے لیکن حکومت اسے چار فیصد کے قریب ثابت کرنیکی کوشش کرتی ہے۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ قومی آمدنی اور قومی اخراجات زیادہ عرصہ تک برقرار رکھنا عملاً ممکن نہیں ہوگا۔ملکی قرضہ جات: 1971ء میں (قریب 46 برس قبل) پاکستان کا قومی قرض 30 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 22 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے۔ہم قرض کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چار برس کے دوران حکومت نے 35 ارب ڈالر مالیت کے نئے غیرملکی قرضے حاصل کئے ان میں17 ارب ڈالر مالیت کے نئے قرضے اسلئے حاصل کئے گئے تاکہ پرانے قرضہ جات کی اقساط ادا کی جائیں ! علاوہ ازیں حکومت نے مقامی مالیاتی اداروں سے اضافی 3کھرب روپے کے نئے قرضے لئے۔ وزارت خزانہ نے قومی ضروریات کیلئے حاصل کئے جانے والے قرضہ جات کی اصطلاح تبدیل کرکے عوام کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے! اگر اقتصادی خسارہ بے قابو رہتا ہے تو اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اگر وفاقی بجٹ کا خسارہ بھی بڑھتا چلا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اگر قومی قرضے میں اضافہ ہوتا ہے تو اسکے بھی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور یہ پرخطر حالات و واقعات کے نتائج کا بوجھ آنے والی نسلوں کو برداشت کرنا پڑے گا اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کا ’اِقتصادی تحفظ جب تک نظرانداز رہے گا اسوقت تک قومی سلامتی بھی دباؤ اور خطرے میں رہے گی۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)