بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی بیانات میں تیزی

سیاسی بیانات میں تیزی

وطن عزیز میں پانامہ لیکس کا ہنگامہ گرما گرم سیاسی بیانات کے ساتھ جاری ہے سابق وزیراعظم نواز شریف بدھ کو جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔نواز شریف اسلام آباد میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ خاموش نہیں رہیں گے باوجود اس کے کہ انہیں بہت کچھ سمجھ آرہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر سزا ملنا کسی وزیراعظم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے سیاست کو کاروبار جبکہ عمران خان نے گالی بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان جوابی بیان میں کہتے ہیں کہ بلاول کرپشن پر بات کرکے اپنے والد کو شرمندہ نہ کریں۔ خیبرپختونخوا میں عائشہ گلالئی کے الزامات اور ان کے جوابات نے گرما گرمی مچائی ہوئی ہے تو عمران خان حمزہ شہباز کے حوالے سے عائشہ احد کے بیان پر کمیٹی بنانے کی بابت سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وزیراعظم یہ کمیٹی بنا پائیں گے۔اس سب کے ساتھ خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد کی باتوں پر سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ یہ تحریک نہیں آئے گی‘ گرمی کی شدت میں جب شہری لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنے کے ساتھ گرانی اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر مشکلات کا شکار ہیں۔

سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کی مخالفت کے ساتھ عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ اس وقت ضرورت ملک کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ نمٹنے کے ساتھ مزید قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے مالیاتی حکمت عملی طے کرنے کی ہے ضرورت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر توجہ مرکوز کرنے کی بھی ہے جبکہ فاٹا ریفارمز کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ جیسے معاملات سلجھانے کی بھی ہے سیاسی قیادت نے اگلے انتخابات تک کہ جن کے لئے اصلاحات کا کام بھی مکمل کرنا ہے اگر عوامی مشکلات کا ادراک نہ کیا اور مرکز کے ساتھ صوبوں میں برسراقتدار جماعتوں نے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ نہ دی تو ان کے اپنے ووٹر مایوس ہوجائیں گے۔ حکومت کو احساس کرنا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے پر عام شہری کوئی ریلیف نہیں پائے گا کوئی کارخانہ مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کرے گا نہ ہی فارورڈنگ چارجز اور کرائے کم ہوں گے لیکن چینی کی قیمت میں اضافہ گھریلو بجٹ پر بڑا بوجھ بن جائے گا۔

نتائج مانیٹر کرنے کی ضرورت

میٹرک کے بعد انٹر کے نتائج کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔ میٹرک کے نتائج میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی۔ ہمارے ہاں کسی بھی ایشو پر وقتی گرما گرمی اور کمیٹیوں کی تشکیل پر اکتفا کی روایت چلی آرہی ہے ہر معاملے پر بیان بازی رواج کی صورت اختیار کرچکی ہے تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس سے ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے تعلیم کو ترجیح اول قرار دینے والی حکومت کے لئے تو ضروری ہے کہ وہ ایک ایسی مستقل مانیٹرنگ باڈی کا انتظام کرے جو نہ صرف نتائج بلکہ تعلیم کے جاری عمل کا جائزہ بھی لیتی رہے یہ باڈی نجی اداروں کو بھی دیکھے اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ کس ادارے نے اوسط درجے کے طالب علم کو اعلیٰ نمبروں پر کامیابی کے قابل بنایا اور کس نے پہلے سے ہی ذہین اور میٹرک میں اعلیٰ نمبر لینے والوں کو انٹر کے نتائج میں اپنی بڑی کامیابی کا دعویدار بنایا۔ تعلیم کے شعبے میں جزا اور سزا کا مؤثر نظام ہی مثبت تبدیلی لاسکتا ہے۔