بریکنگ نیوز
Home / کالم / کچھ بھی ہو سکتا ہے!

کچھ بھی ہو سکتا ہے!

خدا جانے یہ کیوں ہے مگر ہے ضرور۔ ہم کسی بھی بندے کی اس کی زندگی میں قدر نہیں کرتے مگر اس کے مرنے کے بعد اس کے قصیدے لکھتے ہیں اور اسکی مدح خوانیاں کرتے ہیں۔ہمارے جتنے بھی تحریک آزادی کے ہیرو تھے ان کی زندگی میں ان کے خلاف ہرزہ سرائی میں وہ لوگ پیش پیش تھے جو آج ان کے نام سے کما کر کھارہے ہیں ہمارے بہت سے بڑے لیڈروں میں جو نام ہم آج بہت احترام سے لیتے ہیں وہ علامہ اقبالؒ ہیں جن کو ہم پاکستان کا مصور قرار دیتے ہیں۔انہوں نے ہی برصغیر کے مسلمانوں میں خصوصاً نوجوانوں میں حریت کی روح پھونکی۔تحریک آزادی کے دوران جس قدر غلط اندازسے ہمارے کئی رہنماؤں نے علامہ صاحب کو پیش کیا اسکی مثال نہیں ملتی۔ان کے ایک ایک شعر پر ان پر فتوے جاری کئے گئے ۔ جب علامہ نے اپنی نظم شکوہ سنائی تھی تو اس کے بعد ان کے خلاف ایک ہنگامہ برپا کردیا گیا تھاجس کے بعد ان کی نظم جواب شکوہ نے جلتی پر کچھ پانی ڈالا۔ ہم نے ان ہستیوں کی ان کی زندگی میں قدر نہیں کی مگر ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی قبروں کو مرجع خلائق بنادیا۔اسی طرح اور بھی وہ لوگ جو پاکستان کی جدوجہد میں مصروف تھے انکی بے قدری میں حد کر دی مگر ان کے مرنے کے بعد وہی ہمارے ہیروز ہیں پاکستان بننے کے بعد جن لوگوں کی ہم نے کھل کر بے قدری کی ان میں جناب ایوب خان کا نام بھی آتا ہے۔ جب تک وہ زندہ تھے ان کی پاکستان کی ترقی میں کوششیں قابل تعریف تھیں مگر ان کو ہم نے جس طرح بے عزت کر کے حکومت سے علیحدہ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے ان کے مرنے کے بعد جب ملک دو لخت ہوا اور ان کی جاری کردہ صنعتی ترقی کو تباہ کیا گیا اور جس طرح ان کی زرعی اصلاحات اور زراعت کی ترقی کیلئے بنائے گئے کارناموں کو خاک میں ملایاگیا اسکی بھی مثال نہیں ملتی اور جب ملک دو لخت ہوا تو ہمیں یاد آیا کہ وہ شخص کس قدر محب وطن تھا اور کس طرح ہم نے اسکو بے عزت کر کے حکومت سے علیحدہ کیا اسکی پالیسیوں کو ختم کرکے ہم نے ملک کو کس قدر نقصان پہنچایا اسکا قلق ہمیشہ رہے گا۔

اب ہمیں یاد آیا کہ وہ تو اس قوم کا ہیرو تھا جس کی ہم نے قدر نہیں کی آمریت اور جمہوریت سے ہٹ کر اگر ہم ملک کی زرعی اور صنعتی ترقی کا موازنہ کریں تو پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی دور میں ترقی ہوئی ہے تو وہ صرف ایوب خان کی حکومت کا دور تھااس کے بعد نہ ملک رہا اور نہ اس نے کسی قسم کی ترقی کی پھر پرویز مشرف کی حکومت نے توحد ہی کر دی کہ صنعتکاروں کو ہی اس ملک سے بھاگنا پڑ گیا۔ کراچی کو جو ہمارا صنعتی حب تھا وہاں دہشت گردی نے کارخانوں کو ملیامیٹ کر دیا اور اسکا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ کراچی کے کارخانوں کی وجہ سے ملک کی آبادی کا بیشتر حصہ کراچی منتقل ہو گیا اور کارخانوں کے خاتمے نے اسی حصے کو بے کار کر دیا ۔ اب اس کے باشندے کاروبار سے محروم ہیں مگرپیٹ توروٹی مانگتا ہے اور اس بھوک نے ہمارے ہاں دہشتگردی کو جنم دیا ہے اور وہ بھوکے جن کو رات کو اپنے بچوں کے منہ میں نوالہ ڈالنا ہے وہ سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے ہیں اور جو بھی ہاتھ آتا ہے اس سے سب کچھ چھین کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اب جو ملک ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا ہے تو پھر ہم نے اسکی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے ہیں نہ جانے یہ ہمارے ملک کو کس حد تک لے جائے گا۔ہم مردہ پرست قوم ہیں ہم کسی بھی ایسے شخص کو برداشت نہیں کرسکتے جوہمارے فائدے کی بات کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں کہ کب وہ قبر میں دفن ہو اور ہم اس کی قبر پر پھول چڑھائیں ۔کرسی کی دوڑیں لگی ہیں مگر اب کوئی بھی نہیں ہے کہ جس کے ہاں جاکر اقتدار کے بھوکے لاٹھیاں کھائیں اور اپنے لئے کرسی حاصل کریں۔ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو ہم آج برا بھلا کہہ رہے ہیں کل کو اس کو ہم مرجع خلائق بنا لیں۔ہمارے ہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔