بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / الزامات کی کھچڑی!

الزامات کی کھچڑی!

قومی اسمبلی کے بیس اراکین پر مشتمل اخلاقیات کمیٹی کے وجود کا اخلاقی جواز کیا ہو سکتا ہے جس کا اقدام مخصوص حالات میں مخصوص سیاسی مخالف کے خلاف مخصوص کاروائی کیلئے مخصوص سوچ کی عکاسی کر رہا ہے! تحریک انصاف ہی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی محترمہ عائشہ گلالئی کے اپنی پارٹی سربراہ کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات سے جو کچھ بھی برآمد کرنے کی کوشش کی جائیگی اس سے سوائے سیاسی جماعتوں کی بدنامی سے کیا حاصل ہوگا؟ معاملے کی تہہ تک پہنچنا ہی تھا تو استحقاق کمیٹی کی موجودگی میں کسی دوسری ایسی کمیٹی کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر کسی کمیٹی کے اکثریتی اراکین کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت سے ہوگا تو اس کا فیصلہ کس طرح غیرجانبدار ہو سکے گا؟ گلالئی اور عمران کے درمیان معاملات قومی اسمبلی ایوان کے اندر کی بات نہیں جو یوں رازداری سے نمٹائی جا سکتی ہے بلکہ چونکہ دونوں معززین اراکین قومی اسمبلی بننے سے پہلے پاکستانی ہیں اسلئے جو بھی فیصلہ ہو وہ آئین پاکستان کے تحت ہونا چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ عوام کو پیغام ملے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اراکین قومی اسمبلی نے اپنے لئے الگ پاسپورٹ اور امتیازی قواعد کے ذریعے خود کو عام پاکستانیوں سے ایک درجے بلند تو کر لیا ہے لیکن آئین کے اطلاق سے خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کی آئین و اخلاقیات میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ عقل مند کیلئے اشارہ کافی ہوتا ہے‘ سیاستدانوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا ہوگا جس سے انکے ساکھ اُور جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ کے کردار و مستقبل پر شب خون مارنے والوں کے ہاتھ کاروائی کرنیکا ایک اور جواز آ جائے!پاکستان میں کون کتنا مقبول اور عوام کی نظروں میں مستند و بااختیار ہے‘ ان تین زاوئیوں سے ملک گیر جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی ایک تعداد سمجھتی ہے کہ ملک کا سب سے معتبر‘ قابل بھروسہ اور کارکردگی کے لحاظ سے توقعات پر پورا اترنے والا ادارہ عدالت عظمیٰ اور دوسرے نمبر پاک فوج ہے۔

ظاہر ہے ایسے سروے سائنسی بنیادوں اور بڑے پیمانے پر نہیں ہوتے اسی لئے قابل بھروسہ قرار نہیں دیئے جاتے لیکن ایک مقبول سوچ کی ترجمانی ضرور کرتے ہیں۔ عدلیہ کو آئندہ عام انتخابات میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالنا اور نہ ہی عدلیہ پر ہاتھ پڑا تو دو کروڑ لوگ اس کے دفاع میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ ماضی گواہ ہے کہ عدلیہ کو بھی سیاسی جماعتوں کی ضرورت پڑتی ہے اور ایک وقت میں اس کے دفاع کی تحریک اگر کامیاب ہوئی تو اس میں سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ پانامہ کیس کے فیصلے کو شریف خاندان عالمی سازش قرار دے رہا ہے۔ الزامات کی کھچڑی ایسے وقت میں پک رہی ہے جبکہ قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کا آغاز کرنے والا ہے۔!پاکستان ماضی سے مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ عدلیہ اور فوج کے اداروں نے پاکستانی سیاست کے بدلتے ہوئے انداز کے مطابق اپنی حکمت عملیاں بدل لی ہیں اور یہ دونوں طاقتیں اب ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے رائے عامہ پہلے ہموار کرتی ہیں۔

کون نہیں جانتاشہباز شریف ہنسی خوشی وزیراعظم بننے کی دوڑ سے الگ نہیں ہوئے بلکہ وہ جانتے ہیں کہ نیب مقدمات کی نوعیت کیا ہے اور ذرائع ابلاغ کی کڑی نگرانی میں نیب کے مقدمات اپنے حق میں نمٹانا ناممکن حد تک دشوار ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ نواز لیگ کا ووٹر دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے‘ جو بڑی تعداد میں احتجاج نہیں کرتاجب تک ترقیاتی منصوبے مکمل ہوتے رہیں گے‘ نواز لیگ کی مقبولیت برقرار رہے گی لیکن نوازلیگ کے دفاع میں اداروں سے تصادم کے لئے عوام کی اس قدر بڑی تعداد میدان میں نہیں آئیگی جو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں انہیں ووٹ دے چکی ہے۔ کیا نو اگست کے روز ’ڈیرہ غازی خان سے اٹک کی سڑکوں پر عوام کا جم غفیر اُمڈ آئے گا؟ قومی اسمبلی کے 100 حلقوں میں نظام زندگی مفلوج ہو جائیگا جس سے یقیناًاداروں پر دباؤ آئے گا اور مجبوراً نواز لیگ سے مذاکرات کے ذریعے نیب کو مزید تحقیقات سے روک دیا جائیگا؟۔