بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا اصولی موقف

پاکستان کا اصولی موقف

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق 2017ء کا معاہدہ بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتا 1978ء میں اقوام متحدہ نے کم سے کم دفاعی ضروریات پوری کرنے کی اجازت دی تھی ترجمان کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کلیئر کررہا ہے کہ مذکورہ معاہدہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتا یہ معاہدہ سٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے نہ اصل مقاصد پورے کرسکتا ہے۔ دریں اثناء پاکستان نے امریکہ کی جانب سے دہشت گردوں سے متعلق دوہری پالیسی کے الزام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدامنی کے نتائج پاکستان بھگت رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر مک ماسٹر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان عسکریت پسندوں کی مبینہ مدد کی اپنی دوہری پالیسی تبدیل کرے۔

‘ امریکہ کی جانب سے یہ بیان صدر سے منسوب کیا گیا ہے۔ افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی ہمیشہ مثبت رہی ہے اور افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششیں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اسی طرح بھارت کے حوالے سے پاکستان کا موقف کلیئر ہی رہا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ ہم بھارت کیساتھ حالات معمول پر لانا چاہتے ہیں مگر اس کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ ورکنگ باؤنڈری ہو یا لائن آف کنٹرول ہماری افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لئے تیار ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں مگر یہ صرف ہماری خواہش پر نہیں ہوگا۔ جوہری معاہدہ ہو یا افغانستان و بھارت سے متعلق پالیسی ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پرپاکستان اپنا اپنا موقف رکھتا ہے جو بالکل واضح اور شفاف ہے اس موقف کی سپورٹ خود پاکستان کا خطے میں امن کے قیام کے لئے کردار ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان سے نت نئے مطالبات کی بجائے پاکستان کو سپورٹ فراہم کرنی چاہئے۔

مکھی مچھروں کی بہتات

ایک جانب ڈینگی بخار نے شہریوں کو پریشانی اور خوف میں مبتلا کر رکھا ہے تو دوسری طرف مکھی مچھروں کی بہتات دیگر مختلف بیماریوں کا موجب بن رہی ہے وائرل اور بیکٹیریل انفیکشن پینے کے صاف پانی کے فقدان اور ناقص غذاؤں کانتیجہ بن رہا ہے یہ صورتحال علاج میں مشکلات کی عکاسی کے ساتھ متعلقہ اداروں کی جانب سے صفائی اور سپرے کے مؤثر اور عملی اقدامات کی متقاضی ہے بارشوں کے سیزن میں مکھی مچھروں کی بہتات اور گندگی کے باعث ہر جگہ تعفن زیادہ اذیت ناک صورتحال اختیار کر جاتا ہے ہمارے ذمہ دار ادارے ایسے میں شہریوں کو طرح طرح کی ہدایات ضرور جاری کرتے ہیں خود ان کے اپنے اقدامات اول تو ہوتے نہیں اگر ہوں بھی تو صرف اعلانات تک محدود رہتے ہیں ضرورت فوری طور پر صفائی کی خصوصی مہم چلانے‘ سیوریج لائنوں کو کلیئر کرنے اور پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں سپرے کی ہے تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔