بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / نیسا پور رہے آباد

نیسا پور رہے آباد

اب تو ایک زمانہ ہوگیاہے بچوں کو ساتھ لے کر کہیں سیرسپاٹے پر گئے ہوئے کہ غم روزگار نے ہر چیز بھلارکھی ہے ہربار کسی نہ کسی صورت ان کو ٹرخا تے ہوئے کسی قریبی جگہ لے جاکر بہلا لیتے ہیں اس بار فرمائش ہوئی کسی پرفضاء مقام پر جاکر دریامیں نہانے کی ،اب اس مقصد کے لئے سوات اور ہزارہ تو جانے سے رہے سو ایک مرتبہ پھر انکو ٹرخانے کی نیت سے پروگرام بناڈالا کہ صوابی جاکر نیساہ پور میں دن گزار آتے ہیں نیسا ہ پورہمارے برادر محتر م میجر عامر کا بنایاہوا وہ محبت خانہ ہے جسکے دروازے ہردوست کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں خود میجر عامر کہتے ہیں کہ نیساہ پور آبادکرنے کامقصد دوستوں کو کچھ دیر کیلئے قدرت کے قریب ترماحول سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہے کسی روایتی سرمایہ دار کی طرح ا نہوں نے اس معاملہ میں کنجوسی کامظاہر ہ کرتے ہوئے اس محبت خانہ کو مقفل رکھنے کے بجائے کھلا چھوڑ رکھاہے جو دوست بھی اپنے شہرکی اپنی روزمرہ کی معمولات سے تھکے جسم ودماغ کو سکون اور طراوت پہنچانے کاخواہشمندہوتاہے وہ فوری طور پر نیساہ پور کارخ کرتاہے سو ہم نے بھی اس گوشہ عافیت میں پنا ہ ڈھونڈنے کافیصلہ کیامگر احتیاطاً میجر صاحب سے پوچھ لیا کہ کہیں ہم سے پہلے کسی اور دوست کے لئے نیساہ پور کے دروازے کھلے چھوڑ دیئے ہوں چنانچہ جب ان سے بات ہوئی تو بہت خوش ہوئے اورکہنے لگے کہ ساری بچہ پارٹی کو لے آؤ یہ جگہ انہی کے لئے تو بنی ہوئی ہے اورپھر ہم اللہ کانام لے کر نیساہ پور کے لئے روانہ ہوئے احتیاطاً اپنے ساتھ راشن پانی لے کرگئے کہ نجانے کب بچے کیامانگ بیٹھیں مگر نیساہ پورمیں اس کی گنجائش کم ہی ہوا کرتی ہے میجر صاحب نے ایک دن پہلے سے ہی اپنے لوگوں کو الرٹ کررکھاتھا اور جو کچھ اپنے ساتھ لے کر گئے تھے اس کی طرف دیکھنے تک کی نوبت نہ آئی الٹا میجر صاحب ناراض ہوکر کہنے لگے کہ آصف یہ تو آپ نے وہ کا م کیاکہ اگر میں آپکے گھر آؤں تو اپنے ساتھ کھانا پیناساتھ لے کرآؤں‘ ہم نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے بات ادھر ادھر کردی اس روز سب نے خوب موج مستی کی اورہمارے دل سے بے اختیار دعا نکلتی رہی کہ اللہ کرے کہ یہ نیساہ پور یوں ہی شاد و آبادرہے۔

اس سے قبل میجر صاحب کی دعوت پر ایک شب مہتاب کچھ دن پہلے ہی مناچکے تھے اس روز جب ہم نے وہا ں باجماعت نماز ادا کی تو سوچنے لگے کہ یہ اجر بھی اس شخض کی قسمت میں لکھاتھاکہ یہاں پر باجماعت صور ت میں ہم لوگ سربسجودتھے وگرنہ چندسال قبل یہاں نہ درخت تھا نہ کہیں بیٹھنے کی کوئی جگہ تھی مگر اب یہ محبت خانہ آبادہے اور محبت بانٹنے کے کام آرہاہے طاہر اور حاشر تو ایک دفعہ عید کے دن میرے ساتھ وہاں جاچکے تھے تاہم طلحہ ‘انس‘ حذیفہ ‘مائدہ اور اطہر پہلی دفعہ گئے تھے اور پھر حسب خدشہ واپس آنے سے انکاری بھی ہوگئے بڑی مشکل اور میجر صاحب کی ضمانت پر راضی ہوئے کہ جلد دوبارہ ایک دن وہاں گزاریں گے ویسے اسی جگہ پر اگر کوئی ہمدم دیرینہ ساتھ ہو اور شام کے بعددوستوں کی یادوں سے سجی محفل جمے تو لطف دوبالا ہوجاتاہے جب کبھی ہم اکٹھے ہوتے ہیں تو میجر عامر کے تجربات و مشاہدات ‘ناصرعلی سید کا کلام اور دلچسپ گفتگو اور دیگر دوستوں کی ہمنوائی ایک سحر طاری کرکے سب کوجکڑ لیتی ہے جب بھی نیساہ پورجاتے ہیں دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ نیساہ پور کو ہمیشہ آباد رکھے کیونکہ ہم جیسوں کیلئے کہ جن کے پاس کہیں دور جانے کیلئے وقت بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہواکرتاہے اس محبت خانہ کا کردار بہت اہم ہوچکاہے کیونکہ محض گھنٹہ بھرکی مسافت کے بعد آپ دریا کے کنارے سرسبز و شاداب نظاروں سے لطف اندوزہورہے ہوتے ہیں کہاجاتاہے کہ دماغی کام کر نے والوں کو کچھ وقت ضرور فطرت سے قریب تر رہنے کے لئے نکالنا چاہئے کیونکہ اس سے صلاحیتوں میں نکھار آتاہے اور فن کو زنگ نہیں لگتا توچلیں سوات‘ کاغان گلگت نہ سہی نیساہ پور توہے ۔