بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ملک میں عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، میرا نہیں ، عدالتوں کا ٹرائل ہے،عمران خان

ملک میں عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، میرا نہیں ، عدالتوں کا ٹرائل ہے،عمران خان


اسلام آباد۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، میرا نہیں بلکہ عدالتوں کا ٹرائل ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت کنٹینر لگاکر راستے بند کررہی ہے اور لوگوں کو پکڑ رہے ہیں جو توہین عدالت ہے، ’کیا وزیر اعظم کے لیے کچھ اور قانون اور ہمارے لیے کچھ اور قانون ہے؟ یہاں جمہوریت ہے یا نہیں‘؟ جب بھی حکمرانوں کی چوری پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں آگئی، سی پیک خطرے میں آگئی، ترقی خطرے میں آگئی۔

بنی گالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا نہیں بلکہ عدالتوں کا ٹرائل ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت کنٹینر لگاکر راستے بند کررہی ہے اور لوگوں کو پکڑ رہے ہیں جو توہین عدالت ہے‘۔ عمران خان نے کہا کہ ’عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، لوگ کیا سمجھیں گے کہ عدالت ایک حکم جاری کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوتا اور سب ٹی وی پر تماشہ دیکھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا وزیر اعظم کے لیے کچھ اور قانون اور ہمارے لیے کچھ اور قانون ہے؟ یہاں جمہوریت ہے یا نہیں‘؟ انہوں نے کہا کہ جب بھی حکمرانوں کی چوری پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں آگئی، سی پیک خطرے میں آگئی، ترقی خطرے میں آگئی ہے‘۔ عمران خان نے کہا کہ ’حکومت نے لوگوں کا کھانا بند کردیا ہے اور ظاہر ہے جب وہ کھانا بند کریں گے تو رد عمل تو آئے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے آزاد عدلیہ کے لیے 8 دن جیل میں گزارے تھے، جدوجہد کی تھی ، کیا یہ ہے آزاد عدلیہ کہ آپ کے سامنے ملک میں قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں‘؟ عمران خان نے استفسار کیا کہ ’اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر پرویز مشرف کی آمریت میں کیا فرق ہے‘؟۔

انہوں نے کہا کہ ہم ’پیر 31 اکتوبر کو پھر عدالتوں میں جائیں گے اور اپنے حقوق کے لیے عدلیہ کو پھر سے ٹیسٹ کریں گے کہ کب عدالت کمزور کے ساتھ کھڑی ہوگی کیوں کہ عموماً عدالت ہمیشہ حکومتوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے‘۔ انہوں نے تمام کارکنوں کو پیغام دیا کہ وہ جہاں بھی ہیں وہ بنی گالہ پہنچیں چاہے پہاڑیوں سے چڑھ کر آنے پڑے یا کسی اور طریقے سے آنا پڑے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں کوئی قانون نظر نہیں آرہا اور اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ہی قانون ہے تو پھر ہم بھی تحریک انصاف کے تمام کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے کی دعوت دیتے ہیں جہاں سے ہم 2 نومبر کو آگے نکلیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پختونخوا سے جو تحریک انصاف کے کارکنوں کو 2 نومبر کو آنا تھا اب وہ پیر 31 اکتوبر کو آئیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبر پختوانخوا اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکن تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے بنی گالہ پہنچیں۔ انہوں نے پولیس کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’جو آپ کررہے ہیں وہ غیر قانونی ہے۔

آپ قانون توڑ رہے ہیں، کھانا بند کرنا غیر قانونی ہے، نواز شریف کے دن ختم ہوگئے‘۔ حساس خبر لیک ہونے کے معاملے پر وزیر اطلاعات پرویز رشید کے استعفے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ایک درباری تو پکڑا گیا اور اب دیگر لوگوں کی باری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا، لیکن بادشاہ سلامت سے حکم ملے بغیر ان کی تو آواز ہی نہیں نکلتی، ان کی اتنی مجال نہیں تھی کہ وہ یہ کام کرتے‘۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ’سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا شخص دبئی بھاگ گیا، باقی لوگ بھی پر تول رہے ہیں‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’قوم پرویز رشید کی قربانی نہیں چاہتی، نواز شریف یہ نہ سمجھیں کہ لوگ مطمئن ہوجائیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کام کس نے کیا،یہ قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے کیوں کہ فوج کے خلاف وہی زبان استعمال کی گئی جو نریندر مودی کرتا ہے‘۔دھرنے میں لوگوں کی تعداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’لوگوں کی تعداد کو چھوڑیں، نکلنے کو تو میں اکیلا بھی نکل سکتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا تو ہم مطمئن ہوگئے لیکن حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کردی جو توہین عدالت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت طاقت ہی دیکھنا چاہتی ہے تو 31 اکتوبر کو انہیں تحریک انصاف کی طاقت کا پتہ چلے گا۔