بریکنگ نیوز
Home / کالم / جھیلوں کاشہراورگلزارکافون

جھیلوں کاشہراورگلزارکافون

میں لمحہ موجود میں امریکہ کی دھوپ بھری ریاست فلوریڈا کے شہر آرلینڈو میں ہوں۔ آرلینڈو جنگلوں اور جھیلوں کا شہر ہے اور یہاں ڈزنی لینڈ کے مکی ماؤس کا راج ہے۔ یوں تو تیسری دنیا کے بیشتر ملکوں میں راج سنگھاسن پر مکی ماؤس ہی براجمان ہیں لیکن ایک فرق ہے کہ یہ مکی ماؤس ایک کارٹون کردار ہے اور لوگوں میں خوشیاں بانٹتا ہے جب کہ ہمارے ہاں کے مکی ماؤس خلق خدا کو دکھ دینے پر مامور ہیں۔ انہیں لوٹ کرفرانس‘ انگلستان‘ امریکہ وغیرہ میں جائیدادیں خریدتے ہیں اور اگر کوئی پوچھے کہ جان من میرے پیارے مکی ماؤس یہ پان گھر گھر کے کدھر سے آئے‘ تو کہتے ہیں کہ بس جی اللہ کا فضل ہوگیا۔ بہرحال آرلینڈو میں اتنی جھیلیں ہیں کہ اگر آپ احتیاط سے نہ چلیں تو کسی جھیل میں غڑاپ سے گر سکتے ہیں جہاں مقامی روایت کے مطابق کوئی بھی مگرمچھ آپ کو ہڑپ کرسکتا ہے۔ آرلینڈو والوں نے سیاحوں کو خوب بیوقوف بنا رکھا ہے کہ یہاں ہر جھیل میں سینکڑوں مگرمچھ پائے جاتے ہیں وہ دھوپ سینکنے کے لئے سڑکوں پر آکر لیٹ جاتے ہیں اور انتظامیہ وہاں ایک ٹریفک سائن آویزاں کردیتی ہے کہ ’’خبردار آگے مگرمچھ قیلولہ فرما رہے ہیں‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اکثر صبح سویرے دیکھتے ہیں کہ پائیں باغ میں واقع سوئمنگ پول میں کوئی مگرمچھ ڈبکیاں لگا رہا ہے اور یہ قرین قیاس نہیں بھلا مگر مچھ اپنا آبائی تالاب چھوڑ کر کسی اور کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں کیوں لگاتے ہیں۔ مگرمچھ تو شنید ہے کہ نہاتے بالکل نہیں ۔ ویسے ہمارے ہاں کے مگرمچھ اکثر اپنا آبائی تالاب چھوڑ کر غیر ملکی سوئمنگ پولوں میں جو کچھ عوام کا ہڑپ شدہ ہوتا ہے اسے ہضم کرنے کے لئے لوٹنیاں لگانے چلے جاتے ہیں اور جب ہضم کرچکتے ہیں تو واپس آکر کہتے ہیں ’’ہم صرف عوام کی خدمت کرنے کے لئے واپس آتے ہیں‘‘ اللہ معاف کرے اہل آرلینڈو جھوٹ بہت بولتے ہیں۔

میں شاید پانچویں بار عینی بیٹی کے ہاں آرلینڈو آیا ہوں اور حرام ہے آج تک میں نے ایک بھی مگرمچھ دیکھا ہو حالانکہ میں ہر جھیل کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہوں۔ صرف ایک بار میں نے ایک واجبی سا مگرمچھ دیکھا تھا جو مجھے دیکھتے ہی شتابی سے پانیوں میں اتر گیا تھا۔ بلکہ مجھے شک ہے کہ وہ اتنا نازک اور چھریرا سا مگرمچھ تھا کہ وہ مگرمچھ تھا ہی نہیں۔ غالباً مگر مچھنی تھی۔ اب میرے ادبی رقیب پھر مجھ پر الزام لگائیں گے کہ تارڑ جہاں جاتا ہے اسے وہاں صنف نازک مل جاتی ہے۔ آرلینڈو گیا تو بھی وہاں مگرمچھنی سے ہی ملاقات ہوگئی۔ بھئی اگر آپ اب بھی حسد کی آگ میں جل رہے ہیں تو یہ مگرمچھنی آپ کی ہوئی۔ اب تو خوش ہیں ناں؟ میں نے ایک مقامی باشندے سے جب شکایت کی کہ کہاں ہیں مگرمچھ آرلینڈو کے۔ تو وہ کہنے لگا۔ دراصل ہمارے مگرمچھ کچھ حیادار سے ہیں۔ اجنبیوں سے پردہ کرتے ہیں تو اگر آپ کو واقعی دلچسپی ہے تو یہاں سے کچھ دور دلدل اور جنگل کا ایک علاقہ ہے جسے ’’گیٹرلینڈ‘‘ کہا جاتا ہے آپ کشتی کرائے پر حاصل کرکے انہیں درجنوں کی تعداد میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اے امریکی برادر میرا دماغ خراب ہے جو اتنی دور جاؤں‘ بے شمار ڈالر خرچ کرکے کشتی کرائے پر حاصل کرکے مگرمچھ دیکھوں‘ میں کیوں نہ کراچی کے قریب اپنے منگوپیر جاکر مفت میں خالص پاکستان آرگینک مگرمچھ دیکھوں ہمارے ہاں ان کی شان میں ایک میلہ ہوتا ہے جس میں نہ صرف ان کوخوب کھلایا پلایا جاتا ہے بلکہ رنگوں سے ان کی تھوتھنیوں پر میک اپ کرکے ان سے من کی مراد حاصل کی جاتی ہے اور اس لاڈ پیار کی وجہ سے پاکستانی مگرمچھ ’’چَوڑ‘‘ ہوگئے ہیں کہ لوگوں نے ہمارا چناؤ کرنا ہی کرنا ہے۔

بہرطور یہ طے ہے کہ آرلینڈو میں دیگرجنگلی حیات بہت ہیں۔ کل صبح سیر کے دوران مقامی شاپنگ سنگر کے فٹ پاتھ پر تین عدد کونجیں مزے سے مٹر گشت کررہی تھیں۔ میں نے درختوں پر براجمان متعدد چھوٹے عقاب دیکھے۔ جھیل کنارے اکثر مرغابیاں نظر آتی ہیں ‘ہرن تو اکثر سویروں میں گھر کے پچھلے لان میں چرتے دکھائی دیتے ہیں ان کے علاوہ خرگوش‘ سانپ‘کنڈیالے‘ اور نیولے وغیرہ بھی نظر نواز ہوتے رہتے ہیں۔ اور لینڈو کے موسم بھی عجب ہیں۔ صبح دھوپ اور حبس‘ پچھلی پر گھنے بادل اور گرج چمک پھر زور کی بارشیں اور پھر یکدم ہر سو چپ‘ جنگل میں جھینگر بولنے لگتے ہیں اور بھیگ چکے پرندے اپنے پروں کو یوں جھٹکتے ہیں کہ پانی کے ہر قطرے میں شفق کی سرخی نظر آتی ہے۔ ویسے اپنے اور گلزار کے چچا غالب کو دلی کی بجائے آرلینڈو میں قیام کرنا چاہئے تھا۔ غالب چھٹی شراب مگر اب بھی کبھی کبھی۔ پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں۔ آرلینڈو میں تو روزانہ روز ابر ہوا کرتا ہے تو یہاں شراب کہاں چھٹتی۔ منہ کو یہ کافر لگی ہوئی اور ہاں ’’گیٹر لینڈ‘‘ جہاں سیاح مگرمچھ دیکھنے جاتے ہیں اگر اس کا اردو ترجمہ کرنا مقصود ہو تو کیا ہوگا۔ شاید ’’سرزمین مگرمچھاں‘‘ یار پھر پاکستان کی طرح ’’مگرمچھستان‘‘ کیا خیال ہے جس کا راج ہوگا جگہ کا نام بھی تو اس پر ہی ہوگا۔ امریکہ کا قومی پرندہ گنجا عقاب ہے جو دراصل گنجا نہیں ہوتا۔ اس کے سر پر سفید بال ہوتے ہیں تو دور سے گنجا دکھائی دیتا ہے اس کی نسل محفوظ رکھنے کے لئے جہاں کہیں اس کا گھونسلا ہے اس کے نواح میں کسی بھی تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی یہاں تک کہ شاہراہوں کا رخ بھی تبدیل کردیا جاتا ہے ہمارے ہاں چوبر جی یا شالیمار کے سینے پر کسی مخدوش ریل کی پٹڑی بچھانے میں بھی کچھ حرج نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے ہم نے بھی اپنے گنجے عقابوں کو محفوظ کر رکھا ہے۔ کوئی ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا اور جہاں وہ رہتے ہیں وہاں آس پاس کوئی اور گھر نہیں بنا سکتا۔ سپریم کورٹ بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ ایک سویر ے فون چیک کیا تو حیرت در حیرت انڈیا سے گلزار صاحب کے دو پیغام درج تھے۔ بہت کوشش کی آپ کا فون نہیں لگ رہا۔ آپ کہاں ہیں؟ کچھ دیر بعد واٹس ایپ کے توسط سے فون کی سکرین پر گلزار صاحب کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہوگیا۔ ہاتھ میں پنسل تھامے وہ شاعری کی کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ میں پہلے بھی کہیں تذکرہ کرچکا ہوں کہ میں جو ایک مدت سے ان کی فلموں اور شاعری کا مداح تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک روز میری ڈاک میں ان کا ایک خط ہے۔ ہندوستان میں اردو افسانوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا جس میں میرا افسانہ ’’بابا بگلوس‘‘ بھی شامل تھا۔ گلزار صاحب نے اس سے متاثر ہوکر دو نظمیں لکھیں جو بعد میں ان کے ایک شعری مجموعے میں شائع ہوئیں۔ گلزار صاحب نے مجھ سے رابطہ اس لئے کیا کہ وہ ان نظموں کا عنوان بھی ’’بابا بگلوس‘‘ رکھنا چاہتے تھے ۔