بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / خبردار

خبردار

صوبہ میں نمبرز گیم کے حوالہ سے جو کچھ ہورہاہے رفتہ رفتہ اس کی تفصیلات سامنے آتی جارہی ہیں بد قسمتی سے حکومت اوراپوزیشن دونوں طرف سے ہی جو کچھ کہاجارہاہے اس سے اس صوبہ کی ماضی کی روایات داغدار ہوتی جارہی ہیں قیام پاکستان کے بعدسے ہمارے ہا ں اب تک کوئی بھی وزیر اعلیٰ عدم اعتماد کانشانہ نہیں بنا اگر پیرصابر شاہ کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی گورنر راج کے نفاذ کے بعدتحریک عدم اعتمادکی نوبت نہیں آنے دی تھی اور ازخودمستعفی ہوگئے تھے اسی طرح اکر م درانی کے خلاف بھی عدم اعتماد کی قرارد اد جمع کرائی گئی تھی مگر پھر واپس لے لی گئی یوں اسمبلی تڑوانے کاموقع ضائع کرکے جنرل مشرف کے صدارتی الیکشن کو ممکن بنایاگیا اورچندروزبعد اکر م درانی نے اسمبلی توڑنے کیلئے گورنر کو سفارش کردی اس کے بعداے این پی کے حیدر ہوتی وزیر اعلیٰ بنے تو انکو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اپنی پانچ سالہ میعادپوری کرگئے اوراب پروزیز خٹک بھی چارسال سے زیاد ہ عرصہ گذار چکے ہیں مگر لگتاہے کہ اب باقی ماندہ عرصہ سکون کے ساتھ حکومت نہیں کرسکیں گے صوبائی حکومت کیخلاف ن لیگ سب سے زیادہ سرگرم نظر آتی ہے ظاہر ہے کہ اس نے اپنے قائد کی نااہلی کا بدلہ ہرصورت لینا ہے چنانچہ ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام خاصے متحر ک ہوتے جارہے ہیں اور انہوں نے آفتا ب شیرپاؤ کیساتھ اس حوالہ سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اگرچہ اس وقت کیوڈبلیو پی اور اے این پی نے خود نمبرز گیم سے بظاہرلاتعلق رکھا ہوا ہے تاہم واقفان حال بتاتے ہیں کہ اگر نوبت عدم اعتماد کی قرارداد تک پہنچ گئی تو پھر دونوں جماعتوں کیلئے معاملات سے لاتعلق رہنا مشکل تر ہوجائے گاکیونکہ دونوں نے پی ٹی آئی کو ہرصورت سبق سکھانے کاارادہ کیا ہواہے۔

مگر مناسب موقع کی تلاش میں ہیں اس تمام تر صورتحال میں صوبائی حکومت کی طرف سے باربار نمبرز پورے ہونے کے دعوے کئے جارہے ہیں جس کے بعد اپوزیشن حلقوں کایہ کہنا بھی وزن رکھتاہے کہ اگر حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تو پھر وزیر اعلیٰ آئے روز اس قسم کے بیانات کیوں دے رہے ہیں کہ ہماری تعداد برابر ہے بلکہ انکاتو یہ بھی کہناہے کہ حکومت کو 75اراکین کی حمایت حاصل ہے اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حکومت کو اپوزیشن کے جن اراکین کی حمایت حاصل ہے وہ کس بنیاد پر ہے اورکیا یہ ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں نہیں آتا اسی طرح اگر اپوزیشن کہتی ہے کہ ہمیں پی ٹی آئی کے بعض اراکین کی حمایت حاصل ہے تو کس قیمت پر ؟ صوبہ میں سیاسی عدم استحکام اور غیرجمہوری و غیرپارلیمانی روایات سے بچنے کی خاطر فریقین کو نوے کی دہائی والی سیاست سے گریز کرناہوگا کیونکہ پھر بہت کچھ داؤ پرلگ سکتاہے مگر افسوس کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی بتدریج صوبہ کو نوے کی دہائی والی سیاست کے دور میں دھکیلتی جارہی ہیں کوئی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتاکہ ایک دوسرے کے اراکین کی حمایت کے دعوے براہ راست ہارس ٹریڈنگ کے آغاز کی طرف صوبہ کو لے جارہے ہیں اپوزیشن حلقوں نے تو الیکشن کمیشن سے سے مداخلت کی اپیل بھی کردی ہے اگر فریقین نے غیر جمہوری رویوں سے گریز نہ کیاتو یہ اس پسماندہ صوبہ کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی کیونکہ اس باہمی محاذ آرائی کی وجہ سے صوبہ کے دیرینہ مسائل سے سب کی توجہ ہٹ چکی ہے۔

ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ نوے کی دہائی والی سیاست نے ملکی معیشت کا کچومر نکا ل کررکھ دیاتھا اور ساتھ ہی سیاسی اور سرکاری کرپشن کا جن بھی اسی دورمیں بے قابو ہوگیاتھا پہلی مرتبہ ضرورت سے کہیں زیادہ کی تعداد میں وزراء کابینہ میں شامل کئے جاتے رہے اور سب سے بڑھ کریہ کہ پھر وزراء کے ہرقسم کے کرتوت کی طرف سے آنکھیں بندرکھی جاتی رہیں اسی طرح ممبران کو وفاداررکھنے یا ان کی وفاداری خریدنے کیلئے بھی ہر قسم کی بے اصولی کی جاتی رہی چنانچہ یہی دور تھاکہ جب ملک میں اصولی سیاست کی جگہ وصولی سیاست نے لے لی اور سیاسی اقدار تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے چنانچہ محض گیارہ برس میں چار حکومتوں کو چلتاکیا گیاسیاست اور جمہوریت پر سے لوگوں کایقین اٹھتاچلا گیا جس کا سب سے بڑاثبوت یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے خلاف کوئی منظم تحریک چلنے کی نوبت نہ آسکی اور بارہ اکتوبر کے مارشل لاء کا بڑے بڑے سیاسی جغادریوں نے خیر مقدم کیا اس حوالہ سے ان دنوں کے اخبارات گواہ ہیں چنانچہ صوبہ کو خدارا اس دورمیں نہ دھکیلاجائے بصورت دیگر کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ۔