بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / بلاول بھٹو زرداری کا دورہ چترال

بلاول بھٹو زرداری کا دورہ چترال

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے2018کے عام انتخابات کی مہم کاآغازچترال ہی سے کیااورتوقع ہے کہ ماضی کی طرح آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پوزیشن2013کے انتخابات سے بہترہوگی ضیاء الحق کے طویل دور کے اختتام پرجب مرحوم صدرغلام اسحاق خان نے1988کے عام انتخابات کااعلان کیا تو شہید بے نظیربھٹونے نہ صرف چترال کاایک مختصردورہ کیاتھابلکہ چترال ہی سے قومی اسمبلی کی اکلوتی نشست کیلئے والدہ محترمہ مرحوم نصرت بھٹو کو امیدوارنامزدکیاتھااوربعدمیں مرحومہ نصرت بھٹو چترال ہی سے بھاری اکثریت سے ممبرقومی اسمبلی منتخب ہوگئی تھیں‘ کوئی مانے یانہ مانے چترال پاکستان پیپلزپارٹی اوربھٹوخاندان کے مابین تعلقات اورروابط کافی پرانے ہیں 1976 میں جب شہیدذوالفقارعلی بھٹونے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادرکھی تو1970کے انتخابی مہم کے سلسلے میں انہوں نے ازخودچترال کادورہ کیاتھااس دورے کے موقع پرمرحوم جی ایم الانہ کے علاوہ مرحوم نادرخان لالابھی شہیدذوالفقارعلی بھٹوکے ہمراہ ایک ہی جہازمیں چترال گئے تھے چونکہ 1969میں دیراورسوات کی خودمختارریاستوں کی طرح چترال بھی باقاعدہ طورپرپاکستان میں ضم ہواتھا اوران ریاستوں کے سابق حکمران روایتی طورپرمسلم لیگ کے قریب تھے لہٰذا1970کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی چترال سے کوئی نشست حاصل کرنے میں ناکام رہی مگر شہیدذوالفقارعلی بھٹونے پاکستان پیپلزپارٹی کو چترال کی ایک مضبوط قوت بنادیاتھا اور یہاں کے عوام کے دلوں میں پیپلزپارٹی کے لئے ایک خاص گوشہ بن جاتا جو آج تک موجود ہے، بعد میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونیوالے ممبر صوبائی اسمبلی قادرنوازخان نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکی جبکہ مسلم لیگ کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے بعدممبرقومی اسمبلی ظفرعلی شاہ اتالیق بھی حکومتی بنچوں پربیٹھ گئے تھے ۔

شہیدذوالفقارعلی بھٹونے چترالی عوام کی امنگوں کے مطابق اپنے دوراقتدارمیں نہ صرف لواری ٹنل کی منظوری دی تھی بلکہ باقاعدہ طور پر انہوں نے اس سرنگ پر تعمیراتی کام کاآغازبھی کردیا تھا اورجواب میں چترال کے لوگوں نے 1977 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کوبھاری اکثریت سے کامیاب کروایا تھا‘ 1988 میں برسراقتدارآنے کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے لواری ٹنل پرکام شروع کرنے کاوعدہ کیامگروہ اپنے دونوں ادوارحکومت میں ان وعدوں کوایفاء کرنے میں ناکام رہی تھی مگر اس کے باوجود چترال کے لوگوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ لگاؤکوجاری رکھاتھا 1990 اور 2002 کے علاوہ مملکت عزیزمیں جتنے بھی عام انتخابات ہوئے ہیں توچترال کے لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور ان کو یہاں سے کامیاب کیا، اپنے بزرگوں اورچترالی لوگوں کے درمیان تعلقات کومدنظررکھتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے نہ صرف2018کے عام انتخابات کی مہم کا آغاز بلکہ خیبرپختونخوامیں عام اجتماع یعنی عوامی ریلی سے خطاب کاآغازچترال ہی سے کیا بتایا جاتا ہے۔

موجودہ سیاسی حالات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چترال کے جلسے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ ماضی کے برعکس بلاول بھٹوزرداری نے چترال کے جلسہ عام میں ایک مثالی خطاب کیا‘یوں دکھائی دیتاہے کہ اس بارپاکستان پیپلز پارٹی نے2018کے عام انتخابات میں عوامی حمایت کے حصول کاتہیہ کررکھاہے اور بلاول بھٹونے جس طریقے سے چترال کے عوامی اجتماع سے خطاب کیا اور وہاں پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں سے تبادلہ خیال کیا تو اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اب وہ اپنی والدہ شہیدبے نظیربھٹوکی طرح سیاست میں شائستگی کواپناکرآگے جانے کی کوشش کررہے‘اب چونکہ نہ صرف پارٹی کے مرکزی قائدین آصف علی زرداری اوربلاول بھٹوزرداری نے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں پارٹی کوفعال بنالیاہے بلکہ انجینئرہمایوں کی قیادت میں پارٹی کے تمام تر صوبائی عہدیداربھی متحرک ہوئے ہیں اور نچلی سطح پر پارٹی تنظیموں سے مکمل رابطے میں ہیں، لہٰذا توقع کی جاتی ہے کہ اب پاکستان پیپلزپارٹی قومی سیاست میں فعال کردار اداکرے گی اور موجودہ حالات کی مناسبت سے موقف پالیسی بنا کر عوام میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ بحال کرے گی، جس کی ابتدائی بلاول بھٹو زرداری نے کردی ہے۔