بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / روٹی‘ چینی کے بعد آٹا بھی مہنگا

روٹی‘ چینی کے بعد آٹا بھی مہنگا

پشاور میں نانبائیوں کے مطالبے روٹی مہنگی ہوگئی، تکنیکی بنیادوں پر اس مہنگا ہونے کو اس طرح کورکیاگیا کہ روٹی کا نرخ10روپے ہی رہا اور وزن کم ہوگیا، روٹی کے بعد مارکیٹ میں چینی کے نرخ بڑھے اور اب ایک بڑا وار آٹا مہنگا ہونے پر ہوا، رپورٹ کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں آٹے کی 85کلوگرام بوری کی قیمت 3500سے بڑھ کر 3750ہو گئی ہے جبکہ 20کلو کا تھیلہ 100روپے مہنگا کردیاگیا ہے، ہول سیل مارکیٹ میں بڑھنے والا یہ نرخ پرچون میں جاکر اور زیادہ ہوجاتا ہے، مہنگائی کا یہ تازہ ریلہ غریب اور متوسط طبقے کی زندگی مزید اجیرن کردے گا،یہ طبقہ اس سے قبل گوشت، پھل، انڈے اور مرغیوں کی خریداری خودبخود تقریباً ترک کرچکا ہے، دوسری جانب سیاسی گرماگرمی میں عوام کو درپیش مہنگائی کے اس اہم ترین مسئلے پر توجہ مبذول دکھائی ہی نہیں دیتی، پشاور میں ضلعی حکومت نے گزشتہ دنوں انفورسمنٹ افسروں کو اختیارات اوروسائل دینے کا فیصلہ کیا تو ضرور ہے تاہم تادم تحریر اس فیصلے پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آرہا، ایک جانب وطن عزیز کی اقتصادی صورتحال بہتر ہونے کی خوشخبریاں اور عالمی اداروں کا ان پر بڑھتا ہوا اعتماد بتایاجارہا ہے تو دوسری جانب بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا چیلنج بھی ہے۔

بیرونی قرضوں کا بوجھ تو یوٹیلٹی بلوں میں اضافے اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں غریب اور متوسط طبقے کے بجٹ کو تہس نہس کردیتا ہے جبکہ اقتصادی اعشاریوں میں بہتری پر اسی شہری کو کوئی ریلیف نہیں ملتا، اس شہری کو انتہائی گرانی میں خریداری پر ملاوٹ شدہ اشیاء ملتی ہیں جو اس کی زندگی اور صحت دونوں کیلئے خطرہ ہیں، اس سب کے باوجود مسئلے کے پائیدار حل یعنی مجسٹریسی نظام کی بحالی کا معاملہ ابھی تک ہوا میں معلق ہے، سیاسی گرما گرمی کے اس ماحول میں ضرورت عوامی مسائل پر توجہ مبذول کرنے کی بھی ہے، ضرورت اہم قومی معاملات کو سلجھانے اور ترقیاتی منصوبوں خصوصاً بجلی کے پیداواری پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کی بھی ہے، بصورت دیگر لوگوں میں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مایوسی پیدا ہوگی۔

بلڈنگ کوڈ میں بہتری کا معاہدہ

پاکستان انجینئرنگ کونسل نے بلڈنگ کوڈ آف پاکستان کو بہتر اور جامع بنانے کیلئے انٹرنیشنل کوڈ کونسل کیساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں، آئی سی سی نے حال ہی میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی استدعا پر اپنے کوڈز کو استعمال کرنے کا لائسنس بھی جاری کیا ہے، ادھر پشاور میں عمارتی نقشوں سے متعلق مختلف قاعدے قانون ترتیب دیئے جارہے ہیں، اصل ضرورت متعلقہ اداروں کی فائلوں میں گم ہونے والے بلڈنگ کوڈ پر عمل درآمد اور اسے جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ہے، گزشتہ تین دہائیوں سے ہونیوالی بے ہنگم تعمیرات میں اگر بلڈنگ کوڈ پر صحیح معنوں میں عمل درآمد ہوتا یا اس میں مزید بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے تو آج بہت سارے درپیش مسائل کا وجود ہی نہ ہوتا، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ یونین کونسلوں کی سطح پر بلڈنگ کوڈ اور تعمیرات سے متعلق قاعدے قانون سے ذمہ دار اہلکاروں اور شہریوں کومعلومات فراہم کرنے کے ساتھ ان پر عمل درآمد سے متعلق شعور اجاگر کیاجائے۔