بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پری بجٹ سیشن کیلئے اسمبلی بزنس رولز میں نئی شق شامل

پری بجٹ سیشن کیلئے اسمبلی بزنس رولز میں نئی شق شامل


پشاور ۔قواعد وضوابط ‘ طریقہ کار استحقاقات کی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کی مجلس قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر مالی سال کے بجٹ سے پہلے پری بجٹ سیشن کے انعقاد کیلئے اسمبلی بزنس رولز 1988ء میں نئی شق شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی باہمی مشاورت سے عمومی بحث کیلئے ماہ جنوری تا مارچ کے درمیان سیشن کی تاریخ رکھی جائے گی اور آنے والے مالی سال کے بجٹ کیلئے اراکین اسمبلی سے تجاویز حاصل کی جائینگی کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت چیئرپرسن مجلس قائمہ برائے قواعد وضوابط ‘ طریقہ کار استحقاقات چیئرپرسن و ڈپٹی سپیکر پروفیسر ڈاکٹر مہرتاج روغانی بروز بدھ خیبر پختونخوا ہاؤس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا جس میں اراکین اسمبلی معراج ہمایون‘ نجمہ شاہین‘ منور خان ایڈوویٹ‘ سیکرٹری اسمبلی امان اللہ خان‘ ڈپٹی سیکرٹری نعیم اللہ خان درانی‘ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سید قیصر علی شاہ‘ محکمہ قانون کے لیگل ڈرافٹر عمران کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام و اہلکار بھی موجود تھے ۔

چیئرپرسن و ڈپٹی سپیکر پروفیسر ڈاکٹر مہرتاج روغانی نے پری بجٹ سیشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ سیشن کم از کم اجلاس کی سات دن یا بیٹھک کیلئے ہوگا لیکن سپیکراسمبلی ہاؤس کے نظریہ حصول کے بعد اجلاس جلد بھی ختم کرنے کا اختیار رکھے گا کمیٹی نے متذکرہ فیصلہ نہ صرف مالی سال کے بجٹ میں اراکین کی تجاویز کو شامل کرنے بلکہ ترقیاتی فنڈز کو اراکین کی خواہش کے مطابق یقینی بنانے کی غرض سے کیا ۔اجلاس میں کمٹی نے اسمبلی رولز آف بزنس 1988ء کے بلز سے متعلق واضح غلطیوں کی درستگی‘ گورنر کو بھیجنے کے اسلوب و منظوری کے بعد پرنٹنگ وہ واپس کردہ بلز کا دوبارہ ملاحظہ اوردستبرداریو نا منظوری‘ اراکین کو ایکٹ کی فراہمی‘ بلز پر سلیکٹ کمیٹی کی ساخت‘ فورم‘ خالی آسامی پر تعیناتی‘ چیئرمین کا انتخاب ترامیم وغیرہ شامل ہیں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور بحث کے بعد متعدد رولز میں ردوبدل اور نئے رولز کی شمولیت کی منظوری دی اجلاس میں بل پالیسی ہوتے وقت کسی ممبر کی جانب سے پیش کردہ ترمیم کے سلسلے میں بزنس رولز میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔

جس کے تحت بلز پاس ہوتے وقت کوئی رکن اسمبلی مذکورہ مد میں ترمیم پیش کرنے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ کمیٹی نے اس امر کا نوٹس لیا کہ بل مختلف مراحل سے گزر کر کافی عرصہ بعد ہاؤس میں پاس ہونے کیلئے پیش کیا جاتا ہے اور کوئی ممبر تاخیری حربے کی خاطر یا کسی اور بنیاد پر ترمیم پیش کر کے تمام مراحل پر پانی پھیر دیتا ہے لہٰذا کمیٹی نے رولز میں ممبرز کے مذکورہ اختیار کو ختم کرنے کیلئے رولز میں ترمیم کی منظوری دی اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر مہرتاج روغانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ متذکرہ رولز کی تیاری میں احتیاط سے کام لیں اور کمیٹی کی جانب سے منظور کرہ ترامیم پر جلداز جلد کارروائی کمی کی جائے تاکہ اسمبلی کے بزنس آف رولز 1988ء میں منظور کردہ ترامیم کو اسمبلی میں پیش کیا جاسکے ۔